نواز شریف: کسی لاڈلے کے لیے روز نئی ڈیل یا ڈھیل کا انتظام نہ کریں

نواز شریف
Image caption نواز شریف نے اس پریس کانفرنس میں سعودی عرب کے اپنے حالیہ دورے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی

پاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ انتخابات کا سال آتے ہی ماضی کے اسی اصول پر کام شروع ہو گیا ہے کہ ’عوامی سوچ کا رخ موڑ دو، کسی جماعت کا راستہ روک لو اور کسی لاڈلے کے لیے راہ ہموار کر دو‘۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے یہ بات پنجاب ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پردے کے پیچھے یہ کارروائیاں نہ رکیں تو میں اسلام آباد میں ہی سارے ثبوت اور شواہد قوم کے سامنے رکھ دوں گا‘۔

نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ نون کا ووٹ بینک دیگر جماعتوں سے زیادہ ہے، لہذا اس حقیقت سے خوفزدہ لوگ اس حقیقت کو بدلنے اور اپنی مرضی کا رخ دینے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف:'انصاف کا ترازو ہونا چاہیے تحریکِ انصاف کا نہیں'

نواز شریف کی احتساب عدالت میں تیسری پیشی، حاضری سے استثنیٰ نہیں

ریفرنس یکجا کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکم

انھوں نے اس پریس کانفرنس میں نہ تو سعودی عرب کے اپنے حالیہ دورے کے بارے میں کوئی بات کی اور نہ ہی صحافیوں کے سوالات کے لیے رکے۔

انھوں نے کہا کہ ’انتخابات میں ہر جماعت کو یکساں مواقع فراہم ہونے چاہییں، نہ اہلیت، ٹیلی فون کالز، خفیہ رابطوں اور غیر قانونی فیصلوں کے ذریعے کسی کے ہاتھ پاؤں نہ باندھے جائیں اور کسی لاڈلے کے لیے ہر روز ایک نئی ڈیل یا ڈھیل کا انتظام نہ کیا جائے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’جنھیں عوام نے انتخابات میں بار بار مسترد کیا، اور جو صرف جھوٹ، بہتان اور دھرنوں کی سیاست کرتے ہیں انھیں تھپکی دے کر قوم پر مسلط کرنے کے منصوبے نہ بنائے جائیں۔‘

نواز شریف نے اس مختصر پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اگر یہ سب نہ رکا تو میں بتاؤں گا کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور کس طرح انتخابی عمل پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

اس سے قبل بدھ کی صبح اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد بھی سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان کو اقبال جرم کرنے کے باوجود چھوڑ دیا گیا لیکن انھیں شک کا فائدہ بھی نہیں دیا گیا۔

نیب ریفرنسز کی سماعت کے بعد نواز شریف نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان ریکارڈ پر اقبال جرم کر بیٹھے جس کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ مجھے معافی دی جائے میں یہ جرم کر بیٹھا ہوں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’عدالت نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دے دیا لیکن جب انھوں نے چوری نہیں کی تو معافی کیوں مانگی تھی۔‘

نواز شریف نے کہا کہ مجھ پر کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ میرے خلاف بدعنوانی ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو آج تک نہیں مل سکی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کیسی دھاندلی ہے جو آج تک نہیں ملی ہے۔ مجھ پر کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہو سکا اس لیے میں نے کبھی معافی نہیں مانگی ہے۔‘

سعودی عرب جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میرا سعودی عرب جانا کوئی عجوبہ نہیں ہے اور اس حوالے سے قیاس آرائیاں کرنے والوں کا رویہ غیر مناسب ہے۔

اسی بارے میں