پاکستانی طالبان کمانڈر مولوی فقیر محمد افغانستان کی ’بگرام جیل میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مولوی فقیر محمد کو 2013 میں ساتھیوں سمیت افغان صوبہ کُنڑ سے گرفتار کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق نائب امیر مولوی فقیر محمد کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے افغانستان کی بگرام جیل میں ہیں جہاں دیگر پاکستانی اور افغان طالبان بھی قید ہیں۔

اس سے پہلے یہ اطلاعات آتی رہی ہیں کہ شاید پاکستانی طالبان کمانڈر کو کابل کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے وزیر اکبر خان میں ایک عالیشان کوٹھی میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں افغان حکومت کی طرف سے مکمل پروٹوکول حاصل ہے۔ تاہم بگرام میں ان کی موجودگی سے یہ تاثر اب رد ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مولوی فقیر کی حوالگی کی شرائط

کیا ملا برادر کی رہائی محض علامتی تھی؟

مولوی فقیر محمد کو پانچ سال قبل افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ سے افغان سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ کہاں رہے اس بارے میں معلوم نہیں تھا۔

تاہم ماضی میں امریکیوں کے کنٹرول میں رہنے والی بگرام جیل سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولوی فقیر محمد نے بتایا کہ وہاں قید میں ان کے ساتھ ’انتہائی غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے اور بیشتر قیدی علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے باعث طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں‘۔

پاکستان کی قبائلی ایجنسی باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مولوی فقیر محمد نے مزید بتایا کہ ’دو سو پاکستانی اور افغان طالبان قیدیوں کو ایک ہی بیرک میں رکھا گیا ہے جہاں کوئی ڈاکٹر آتا ہے اور نہ جیل حکام قیدیوں کو دوائی وغیرہ دیتے ہیں‘۔

اس تعداد کی افغان اور نہ ہی پاکستانی حکام سے تصدیق ہو سکی ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ ماضی میں افغان حکومت نے مولوی فقیر محمد کی رہائی کے بدلے پاکستان کے سامنے کچھ شرائط رکھی تھیں جن میں ملا برادر سمیت اہم طالبان کمانڈروں کی رہائی اور انہیں افغان حکومت کے حوالے کرنا شامل تھا۔ لیکن پھر یہ تبادلہ اختلافات کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مولوی فقیر محمد کے مطابق دو سو پاکستانی اور افغان طالبان قیدیوں کو ایک ہی بیرک میں رکھا گیا ہے

تاہم افغان سفارتی ذرائع نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ مولوی فقیر محمد کی افغانستان میں گرفتاری کے بعد پاکستان کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت اس آپشن پر بات ہوئی تھی کہ مولوی فقیر کو پاکستان میں قید افغان طالبان رہنما ملا برادر کے بدلے میں اسلام آباد کے حوالے کیا جائے تاہم بعض معاملات پر اختلاف کی وجہ سے یہ تبادلہ نہیں ہوسکا تھا۔

خیال رہے کہ مولوی فقیر محمد کا شمار تحریک طالبان پاکستان کے اہم کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ انھیں فروری 2013 میں پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبہ کنڑ میں افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس نے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔ بعد میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی طالبان کمانڈر کی افغانستان میں گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

مولوی فقیر محمد اُن دنوں باجوڑ ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کے سب سے بڑے کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے جب قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کا اثرو رسوخ زیادہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ القاعدہ کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری ان کے گھر مہمان کے طور پر آتے رہے ہیں۔ اِسی وجہ سے یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ ان کے عرب جنگجوؤں کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں