’امریکی جارحانہ بیانات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سود مند ثابت نہیں ہوں گے‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ PM House
Image caption صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد منگل کو قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا تھا

صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹویٹ پر جمعرات کو پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔

اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے پارلیمانی رہنماؤں کو منگل کو قومی سلامتی کمیٹی اور بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق آگاہ کیا۔

دوسری جانب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو دی جانے والی عسکری امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں امریکی کانگریس کے ارکان کو آگاہ بھی کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں قومی سلامتی امور سے متعلق حالیہ دنوں منعقد ہونے والی ملاقاتوں کی وجہ سال نو کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ ٹویٹ تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی۔ انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا۔'

پاکستان اور امریکہ کے بگڑتے ہوئے معاملات کے بارے میں مزید پڑھیے

’پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا‘

’پاکستان کے بارے میں مزید اقدامات کا اعلان ایک سے دو دن میں‘

امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

امریکہ نے پاکستان کو کتنی امداد دی؟

ٹرمپ کی ٹویٹ پر پاکستانی ناراض،انڈین خوش

صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے بعد اقوام متحدہ میں امریکہ کی مسقتل سفیر نکی ہیلی نے پاکستان پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کو دی جانے والی 255 ملین ڈالر کی عسکری امداد روکی جا رہی ہے۔

ان کے اس بیان کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید اقدامات بھی کرے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو دی جانے والی عسکری امداد بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس ضمن میں امریکی کانگریس کے ارکان کو آگاہ بھی کیا جا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے باضابطہ اعلان جمعرات تک متوقع ہے۔

روئٹرز کے مطابق کانگریس کے دفاتر میں موجود ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے انھیں اطلاع دی ہے کہ پاکستان کی امداد بند کرنے کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنی امداد بند ہو گی، کون سی ہو گی اور کتنے عرصے تک بند رہے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان کے خلاف امداد بند کرنے کا اعلان متوقع ہے اور نہ ہی محکمہ خارجہ نے اس بارے میں پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیا۔

ادھر پاکستان کی جانب سے امریکی صدر کی ٹویٹ کے ردعمل میں بیانات سامنے آ رہے ہیں جس میں اب امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور وہ امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے جارحانہ بیانات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سود مند ثابت نہیں ہوں گے۔

اس کے علاوہ پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی کہا کہ امریکی اقدامات کے خلاف پاکستانی جواب ملک کی عوام کی توقعات کے عین مطابق ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ایچ آر مک ماسٹر

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ایچ آر مک ماسٹر نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان بعض دہشت گرد گروہوں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک جزو کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

جنرل مک ماسٹر نے کہا کہ امریکہ کو امید تھی کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے لیکن ان کے بقول چند مخصوص دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی اور دوسروں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے کے پاکستان کے رویے سے صدر ٹرمپ کو مایوسی ہوئی ہے۔

جنرل مک ماسٹر کے مطابق امریکی حکومت پاکستان پر یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ اسے افغانستان میں استحکام لانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا جس کا پاکستان کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ کو تشویش یہ ہے کہ پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی قیادت کو محفوظ ٹھکانے اور مدد فراہم کرکے اپنے ہی عوام کے مفادات کے خلاف جا رہا ہے کیوں کہ ان کے بقول یہ گروہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی تباہی مچاتےہیں۔

اپنے انٹرویو میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ حکومت کی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی پر مبنی ہے اورصدر مفروضات کے بجائے حقیقت کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔

اسی بارے میں