پاکستان: افغان پناہ گزینوں کو مزید ایک ماہ کی مہلت

افغان مہاجرین

امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں اب ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ نے افغان پناہ گزینوں کو محض ایک ماہ رہنے کی اجازت دی ہے لیکن اب تک اس کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ماضی کے برعکس پہلی مرتبہ پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں سال کی نہیں بلکہ محض ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

پشاور میں ایک جانب غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے باضابطہ اندراج کا عمل جاری ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت نے انھیں اس مرتبہ پاکستان میں رہنے کی محض ایک ماہ کی توسیع دی ہے۔

مزید پڑھیے

افغان رہ سکتےہیں، پاکستانی ہندو کیوں نہیں؟

واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی مالی امداد میں کمی

’افغان طالب علم پاکستانی مدرسوں میں زیرتعلیم ہیں‘

’افغان مہاجرین کی جبری واپسی میں اقوام متحدہ ملوث ہے‘

پاکستان کا موقف ہے کہ افغان پناہ گزینوں کے درمیان افغان طالبان کی موجودگی کو ختم کرنا مشکل ہے۔ تاہم اصل مشکل میں پاکستان میں موجود لاکھوں افغان پناہ گزین پڑ جاتے ہیں۔

پشاور کے نشتر آباد کے علاقے میں قائم سرکاری مرکز میں صبح کے وقت روزانہ ایک سو سے ڈیڑھ سو ایسے خاندان آتے ہیں جن کے پاس پاکستان میں رہنے کے قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ قانونی دستاویز لینے والوں میں ایک نوجوان اعجاز احمد شامل ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مسئلہ کچھ بھی ہو زور تو غریب افغان پر ہی پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو سب چیزوں کا علم ہے اور دوسری جانب افغان حکومت بھی اپنے لوگوں کی طرف توجہ نہیں دیتی۔ ’بڑے دعوے کیے جاتے ہیں کہ افغان شہریوں کو وطن واپس بھیج دو لیکن جب وہاں جاتے ہیں تو کوئی نہیں پوچھتا کہ کہاں سے آئے ہو۔ نہ رہائش نہ کھانا اور نہ ہی کوئی مزدوری تو ایسے میں کہاں جائیں۔‘

خیبر پختونخوا میں سات لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو گذشتہ چند ماہ میں قیام کی قانونی حیثیت دے دی گئی ہے جبکہ ملک میں رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ ہے۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد بھی افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجنے کی مہم شدت اختیار کر گئی تھی اور اسے نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنایا گیا تھا۔

افغان امور کے ماہر اور دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاسی حکومت سستی سے کام لیتی ہے ورنہ پناہ گزینوں کی واپسی کا فیصلہ دسمبر سے پہلے کر دینا چاہیے تھا۔

’یہ مشکل کام نہیں ہے۔ اگر امریکہ یا افغان حکومت کہتی ہے کہ افغانستان میں پناہ گزینوں کو خطرات ہیں تو اس کو دیکھا جائے اب تک کتنے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘ بریگیڈیئر محمود شاہ کے مطابق یہ اب پناہ گزین نہیں بلکہ معاشی پناہ کے لیے آتے ہیں اور انھیں یہاں روزگار چاہیے۔

مبصرین کے مطابق جب بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے یا اندرونی طور پر دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں تو افغان پناہ گزینوں کو جلد واپس بھیجنے کا عمل تیز کر دیا جاتا ہے۔ تاہم عالمی دباؤ میں کمی سے یہ عمل سست پڑ جاتا ہے۔

پشاور بورڈ کے علاقے میں اکثریت افغان پناہ گزینوں کی ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر امریکہ کے ساتھ کشیدگی کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں