’بہادر سپاہی اور پاک سیاستدان‘ اصغر خان چل بسے

اصغر خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان ائیر فورس کے سابق سربراہ ایئر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان طویل علالت کے بعد 97 برس کی عمر میں جمعے کی صبح انتقال کر گئے۔

پاکستان کے ایک بہادر سپاہی اور ’پاک‘ سیاستدان اصغر خان اب ہم میں نہیں رہے۔ انھیں اکثر اپنی زندگی کے آخری ایّام تک اسلام آباد کے کوہسار کرکٹ گراونڈ میں چہل قدمی کرتے دیکھ کر سبق ملتا تھا۔

آخری دنوں میں تو وہ کسی سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے لیکن واک کے لیے آتے ضرور تھے۔ کبھی اپنی بیگم اور کبھی ملازم کے سہارے بھی وہ اس گراونڈ کا سہ پہر میں ایک چکر ضرور لگا لیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اصغر خان کیس کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت

کس کس نےآئی ایس آئی سے پیسے لیے،تحقیق شروع

سبق ہم جیسے آرام طلب لوگوں کے لیے یہ تھا کہ اگر یہ شخص 90 سال کی عمر کے آخری حصے میں بھی میں باقاعدگی سے ورزش کر رہا ہے تو ہمارے پاس ایسا نہ کرنے کا جواز کیا ہے۔

ان کی 97 سالہ زندگی میں وہ پاکستان فضائیہ کے پہلے مسلمان سربراہ مقرر ہوئے۔

ایروناٹکل کمپلکس کامرہ انہی کی سوچ اور کاوشوں کی وجہ سے آج ایک اہم ادارہ ہے۔

انھیں فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی ذمہ داری بھی دی گئی اور بعض لوگ اس دور کو اس کمپنی کے بہترین ایّام کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

سرکاری اور عسکری ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر وہ بھی باقی کئی بڑے فوجی جرنیلوں کی طرح سیاست کی جانب راغب ہوئے۔

انھوں نے سنہ 1970 تحریک استقلال کی بنیاد رکھی لیکن ان کا یہ سیاسی تجربہ دیگر عسکری پس منظر رکھنے والے رہنماؤں کی طرح انتخابات کی حد تک زیادہ کامیاب نہیں رہا۔ انھوں نے سنہ 2012 میں اپنی جماعت کو عمران خان کی تحریک انصاف میں ضم کر دیا۔

عمران خان ان پہلے سیاستدانوں میں سے ہیں جنھوں نے ان کے انتقال کی خبر سن کر فوراً ٹویٹر پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصغر خان نے پاکستان فضائیہ کو بہت ترقی دی۔ ’وہ ثابت قدم اور اصول پسند سیاستدان تھے۔‘

اصغر خان کی سیاسی زندگی کا اہم ترین ستون شاید ان کا سپریم کورٹ میں ان کے اپنے نام سے جانا جانے والا مشہور مقدمہ تھا۔

برسوں پہلے دائر اس مقدمے پر عدالت عظمیٰ نے اکتوبر سنہ 2012 میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سابق فوجی سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل اسد درانی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

اپنی درخواست میں اصغر خان نے الزام عائد کیا تھا کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے پانچ سینئیر فوجی اہلکاروں کے ساتھ مل کر سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے تاکہ وہ سنہ 1990 کے عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی شکست کو یقنی بنائیں۔

اصغر خان برگیڈیئر سردار رحمت اللہ خان کے ہاں جموں کشمیر میں سنہ 1921 میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے خاندان کا تعلق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تیراہ کے آفریدیوں سے تھا۔

اصغر خان جیسے پائلٹ کے لیے شاید قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کوئی نئی بات نہیں تھی۔ تقسیم ہند سے قبل برطانوی راج میں وہ خود بحثیت سکواڈرن لیڈر میران شاہ میں باغیوں کے خلاف فضائی حملوں میں حصہ لے چکے تھے۔

وہ ایک اچھے مصنف بھی تھے جنھوں نے ملکی سیاسی اور عسکری امور پر کئی کتابیں لکھیں۔ عسکری پس منظر سے قطع نظر ان جیسے شخصیات کی پاکستانی سیاست میں ضرورت شاید آج بھی ہے۔ ان کا نوجوانوں کو ورزش کی جانب تاہم مائل کرنے کا سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں