پاکستان کی سکیورٹی امداد معطل: ’دہشت گردی کے خلاف عزم پر اثرانداز نہیں ہو سکتی‘

پاکستان، فوج تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

امریکہ کی طرف سے پاکستان کی فوجی امداد کے بند کیے جانے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یک طرفہ بیانات، مرضی سے دی گئی ڈیڈ لائنز اور اہداف کی مستقل تبدیلی مشترکہ مفادات کے حصول میں سودمند ثابت نہیں ہو سکتی۔

جعمہ کی صبح پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں امریکی حکام کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی گئی کہ افغانستان میں داعش کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

دفترِ خارجہ کے مختصر اور محتاط بیان میں کہا گیا کہ 'ہم سکیورٹی کے معاملے میں تعاون کے بارے میں امریکی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور مزید معلومات کے منتظر ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

’ہمیں معاشی امداد اور اسلحہ نہیں،احترام چاہیے‘

امریکی عسکری امداد کی خزاں بہار کب کب

’پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر امن نہیں لایا جاسکتا‘

امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

دفترخارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے فیصلے کے مشترکہ مفادات پر پڑنے والے اثرات کا بھی آنے والے وقت میں ہی پتہ چلے گا۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی ایک مرتبہ پھر یادہانی کراتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے یہ جنگ بڑی حد تک اپنے وسائل سے ہی لڑی ہے اور اس جنگ پر 15 سال میں 120 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ آ چکا ہے۔

'ہم اپنے شہریوں کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ کا تعاون جہاں امریکہ کے قومی سلامتی کے مفادات میں ہے وہیں عالمی برادری کے وسیع تر مفاد میں بھی ہے۔

اس دوران پاکستان کی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو اس اہم قومی معاملے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی امداد کی معطلی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کی فوج نے اپنے جواب میں یہ واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسے ملنے والی سکیورٹی امداد کو روکے جانے کے پاک امریکہ سکیورٹی تعاون اور خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر یقینی اثر ہوگا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روکی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی حکومت کو یہ بتایا جا سکے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔

جمعرات کو محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نیورٹ نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ 'آج ہم اس وقت یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ جب تک پاکستانی حکومت افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتی ہم پاکستان کی سکیورٹی امداد معطل کر رہے ہیں۔ ہم ان گروہوں کو خطے میں عدم استحکام اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔'

جمعے کو پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کبھی بھی پیسے کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے لڑا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ہمارے آپشنز کھلے رہیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا۔‘

پاکستان کا کہنا ہے کہ ہماری نیت پر شک کیا جانا مایوس کن ہے اور یہ امن اور استحکام کے لیے ہمارے متحدہ مقصد کے لیے نقصان دہ ہے۔

پاکستان اپنی مخلصانہ کوششوں کو پاکستان کے پہترین مفاد اور امن کے لیے جاری رکھے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE

اس سے قبل منگل کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکے جانے کی تصدیق کے بعد وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مزید اقدامات کرتے دیکھنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ نئے سال کے آغاز پر اپنی پہلی ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹویٹ پر جمعرات کو پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس منعقد ہوا۔

امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور وہ امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے جارحانہ بیانات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سود مند ثابت نہیں ہوں گے۔

اس کے علاوہ پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی کہا کہ امریکی اقدامات کے خلاف پاکستانی جواب ملک کی عوام کی توقعات کے عین مطابق ہو گا۔

کتنی امداد معطل کے گئی؟

جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کو 25 کروڑ 50 لاکھ کی فوجی امداد روکی گئی ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق یہ امداد مالی سال 2016 کی تھی جبکہ مالی سال 2017 کے بارے میں تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔ محکمہ خارجہ کے مطابق ان 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے علاوہ دیگر غیرخرچ شدہ امدادی رقم بھی روک لی گئی ہے۔

یہ امداد روکے جانے کا فیصلہ ستمبر 2017 میں کیا گیا تھا۔

محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ روکی جانے والی امداد کے بارے میں آئندہ مالی سال ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاہم یہ رقم کہیں اور صرف نہیں کی جائے گی۔

اسی بارے میں