بلوچستان اسمبلی: مزید دو نون لیگی اراکین مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Balochistan Assembly

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سیاسی بحران جس کے براہ راست اثرات مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں صوبائی کابینہ سے حکمران نون لیگ سے تعلق رکھنے والے مزید دو اراکین کے مستعفیٰ ہونے سے مزید سنگین ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد کابینہ سے نون لیگ کے مستعفی ہونے والے وزرا اور مشیروں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔

بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے رکن بلوچستان اسمبلی پرنس احمد علی نے بتایا کہ کابینہ سے ن لیگ کے مزید جن دو اراکین نے استعفیٰ دیا ہے ان میں بی بی راحت فائق جمالی اور ماجد ابڑو شامل ہیں۔

راحت جمالی محنت و افرادی قوت کی وزیر تھیں جبکہ ماجد ابڑو مشیر برائے ایکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن تھے۔

اس سے قبل جن وزراء اور مشیروں نے استعفیٰ دیا تھا ان میں وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، وزیر برائے ماہی گیری سرفراز ڈومبکی اور مشیر برائے سماجی بہبود پرنس احمد علی شامل تھے۔

بلوچستان: وزیرِ اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد پر ن لیگ میں اختلاف

بلوچستان: ‘استعفوں کا سینیٹ انتخابات سے تعلق نہیں‘

وزیر اعلیٰ نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ق لیگ سے تعلق رکھنے والے کابینہ کے ایک اور رکن امان اللہ نوتیزئی کو پہلے ہی برطرف کر دیا تھا۔

بلوچستان حکومت اس وقت جس بحران سے دوچار ہوئی ہے اس کا آغاز وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف اس تحریک عدم اعتماد سے ہوا جسے دو جنوری کو اسمبلی میں جمع کیا گیا تھا۔

تحریک عدم اعتماد پر 14 اراکین کے دستخط تھے۔

جن کا تعلق حکومت میں شامل جماعتوں ق لیگ، مجلس وحدت المسلین کے اراکین سمیت نیشنل پارٹی کے ایک رکن کے علاوہ حزب اختلاف کی تین جماعتوں جمیعت العلمائے اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے تھا۔

اگرچہ اس تحریک پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کی اپنی جماعت ن لیگ کے کسی رکن کے دستخط نہیں تھے لیکن تحریک عدم اعتماد کے بعد وہ بھی وزیر اعلیٰ کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مستعفی ہونے والے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، بلوچستان میں اس وقت نواز لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم ہے

ن لیگ میں وزیر اعلیٰ کے منحرف اراکین کا یہ الزام ہے کہ مخلوط حکومت میں سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ نے پارٹی کے اراکین کو اہمیت دینے کے بجائے دوسری بڑی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو اہمیت دی۔

تاہم ن لیگ کے مرکزی رہنما سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر نے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور ن لیگ کے اراکین کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بغاوت کو ایک سازش قرار دیا۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس سازش کا ناطہ سینیٹ کے آئندہ انتخابات سے جوڑ دیا۔

سینیئر تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس بحران کا محر ک سینیٹ کے انتخابات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'چیزیں آگے بڑھیں گی۔یہ صرف نواب ثنا اللہ زہری کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ن لیگ کا مسئلہ ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس بحران کا اصل محرک یہ ہوسکتا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات نہ ہوں یا ان میں ن لیگ کو اکثریت حاصل نہ ہو۔

تحریک عدم اعتماد میں کتنی حمایت؟

ن لیگ کے ترجمان علاؤالدین کاکڑ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو بلوچستان اسمبلی کے 47 اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ ق لیگ کے رکن اور سابق ڈپٹی سپیکر قدوس بزنجو کا دعویٰ ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں 40 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین میں سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کے لیے 33اراکین کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کا اجلاس نوجنوری کو طلب کیا گیا ہے جس میں وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتمادپیش ہوگی۔

اسی بارے میں