ایبٹ آباد: سکیورٹی خدشات کے باعث گھروں میں بنے گرجاگھروں کی بندش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرکاری حکم نامہ کے مطابق حکومت کے اجازت اور منظوری کے بغیر کسی بھی کرائے کے گھر کو بطور گرجاگھر استعمال نہیں کیا جاسکتا

خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مختلف گرجا گھروں کو بند کردیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایبٹ آباد کے ضلعی پولیس افیسر سید اشفاق نے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ ’یہاں اُن گرجا گھروں کو بند کیا گیا ہے جو حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بند کیے جانے والے گرجاگر وں کی تعداد چھ ہیں اور ان کے لیے کرائے پر مکانات حاصل کیے گئے تھے۔

’پولیس کی جانب سے انہیں باقاعدہ نوٹسز جاری کیے گئے تھے جن میں انہیں بتایا گیا تھا کہ حکومت کے اجازت اور منظوری کے بغیر کسی بھی کرائے کے گھر کو بطور گرجاگھر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ‘

انھوں نے واضح کیا کہ ’یہ قانون صرف مسیحی برادری کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ تمام مذاہب کے لیے ہیں کیونکہ اگر ہم کرائے کے مکانوں میں چرچز کے کھولنے کے اجازت دیں تو کل دوسرے لوگ جماعت خانے اور مدرسے بھی کھولنا شروع کردیں گے جو حکومت پاکستان کے قانون کے خلاف ہے۔‘

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مسیحی برادری کا ایک وفد ان کے پاس آیا تھا جنہوں نے اکتیس دسمبر تک کی مہلت مانگی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ وہ رجسٹرڈ گرجا گروں میں واپس جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایک اندازے کے مطابق ایبٹ اباد میں مسیحیوں کی آبادی پانچ ہزار سے زائد ہے جبکہ ہزارہ ڈویژن میں یہ تعداد دس ہزار کے قریب ہے

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ان گرجاگھروں کو حکومت چرچ ڈکلیر نہیں کرتی ہم اس کے اجازت نہیں دےسکتے۔

بتایا جاتا ہے کہ ایبٹ اباد میں مسیحیوں کی آبادی پانچ ہزار سے زائد ہے جبکہ ہزارہ ڈویژن میں یہ تعداد دس ہزار کے قریب ہے۔

ضلعی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے لوگ کرسمس کے موقع پر ان کی خوشی میں شریک ہوئے ہیں اور کیک کاٹے ہیں لیکن سیکورٹی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس طرح اگر ہر گھر میں چرچ کھولے جائینگے تو انہیں سیکورٹی کون فراہم کرے گا‘۔

ہزارہ ڈویژن میں پاکستان تحریک انصاف کے اقلیت کے صدر اور ضلع کونسل ایبٹ آباد کے رکن نوروز پیٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان چرچز کو سیکورٹی خدشات کے وجہ سے بند کردیا گیا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں ہوم ڈیپارٹمنٹ سے منظوری کے لیے کہا گیا ہے جس کے لیے ان کی کوشش جاری ہے۔

گرجا گروں کے لیے مکانات کرائے پر لے جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کے سوال کےجواب میں ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ’اسلام میں مختلف مسلک کے لوگ ہے اور ان کے الگ عبادت خانے ہے اس طرح کرسچین کمیونٹی میں بھی مسالک ہیں جو ایک ساتھ عبادت نہیں کر پاتے۔‘

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اقلیتی امور روی کمار نے بتایا کہ کچھ دن پہلے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا تھا کہ جتنی بھی این جی اوز یا ایسے ادارے ہیں ان کی رجسٹریشن کی جائے اور ان کے اکاونٹس چیک کیے جائیں جو کرائے کے عمارتوں میں ہیں۔

اسی بارے میں