’پاکستان کی سرزمین ہمارے لیے مقدس ہے‘

سېکان
Image caption سکھ آبادی پشاور میں گذشتہ کئی دہایئوں سے آباد ہے اور زیادہ تر سکھ لوگ کپڑے، دوائی، یا ہومیو پیتھک کے شعبے سے منسلک ہیں

حفاظتی بیرئیر کراس کر کے گلی کے داخلی راستے پر وردی میں مبلوس چار پولیس اہلکار اسلحہ ہاتھوں میں لیے چوکس کھڑے تھے۔

ساتھ میں ان پولیس اہلکاروں کا کمرہ بھی تھی جہاں پر وہ رات کے وقت ڈیوٹی بدل کر جاتے تھے جبکہ باقی رات کے وقت ڈیوٹی پر مامور ہوجاتے تھے۔

اسی کمرے کے سامنے دو نوجوان موبائل پر ایک ساتھ ہندی گانے اونچے آواز میں سن رہے تھے جبکہ ساتھ ہی گردوارے میں چند لوگ عبادت میں مصروف تھے۔

محلے میں تقریباً جتنے بھی لوگ نظر آرہے تھے ان سب نے سر پر رنگارنگ پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ پولیس اہلکار نے مجھے اجنبی سمجھ کر پو چھا: ’بھائی کون ہو اور کس سے ملنا ہے۔‘

جواب میں بتایا صحافی ہوں اور گورپال سنگھ نامی شخص سے ملنا ہے۔ جلد ہی ساتھ کھڑے ایک بابا جن کی داڑھی میں سفید بال نظر آرہے تھے ایک بچے کو آواز دے کر کہا۔ ’جلدی جاؤ گورپال بابا کو کہو ان کا مہمان آیا ہے۔‘

یہ منظرخیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ڈبگری گارڈن کے اندر سکھوں کا محلہ جوگن شاہ کا ہے جہاں پر 600 سے زائد سکھ گھرانے پچھلے تقریباً 33 سالوں سے آباد ہیں۔

یہ ان میں سے بیشتر سکھ گھرانے دہشت گردی کے پیش نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں خیبر اور کرم ایجنسی سے نقل مکانی کر کے آباد ہوئے ہیں لیکن محلے میں جتنے بھی گھر اور زمینیں ہیں یہ ان سکھوں کی ذاتی ملکیت ہے۔

27 سالہ گورپال سنگھ سکھوں کے حقوق کے لیے عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں اور اسی علاقے میں لوگ انھیں بہت قدر کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔

یہ نوجوان اسی محلے میں سکھوں کے بچوں کے لیے واحد سکول کے ڈائریکٹر بھی ہیں جس میں 300 سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

Image caption گورپال سنگھ

سکول کی عمارت تین منزلہ ہے لیکن کلاس رومز اتنے چھوٹے ہیں کہ کرسیاں ایک دوسرے کے ساتھ اتنے چپکے ہوئے تھے کہ ایک بار اس میں سارے بچے بیٹھ جائے تو پھر نکلنے کا راستہ نہیں ہوتا تھا۔ عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گورپال نے بی بی سی کو بتایا کہ’یہ عمارت بھی کرایہ کی ہے جو خیرات کی روپوں پر چلتی ہے اور ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ حکومت سے کئی مرتبہ عمارت کے لیے زمین یا تیار سکول دینے کا کہا ہے لیکن ابھی تک یہ وعدہ ایفا نہیں ہوا ہے۔‘

گورپال سے جب پوچھا گیا کہ آج کل سب سے زیادہ کون سے مسئلے سے دوچار ہیں، تو انھوں نے کہا کہ سکھ کمیونٹی میں تعلیم کی اتنی کمی ہے کہ ہمارے سکھوں کے سکول میں مسلمان پڑھاتے ہیں کیونکہ ایسے سکھ موجود نہیں جو ان بچوں کو پڑھا سکیں۔

کیا سکھ بچے دوسرے سکولوں میں نہیں جاسکتے، اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جا سکتے ہیں لیکن اکثر سکھوں کے بچوں کے حلیے یعنی پگڑی وغیرہ دیکھ کر دوسرے بچے انھیں تنگ کرتے ہیں۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہونے کہا کہ ’جب بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کا میچ ہوتا ہے تو ساتھ محلے میں اکثر دوست فون کر کے کہتے ہیں کہ دیکھو کس طرح انھوں(پاکستان) نے ہندوستان کو شکست دے دی۔‘

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ یہی سوچتے ہیں کہ سکھ ہندوستانی ہیں اور ان کا پاکستان کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے حالانکہ سکھوں کا پاکستان پر اتنا ہی حق جتنا دوسرے شہریوں کا۔

Image caption اسی محلے میں سکھوں کے واحد سکول میں 300 سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ نصاب میں پڑھانے جانے والے اسباق کا نتیجہ ہے کیونکہ بچوں کو یہ تربیت نہایت ضروری ہے کہ ہر مذہب دوسرے مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے۔

سکھ آبادی پشاور میں گذشتہ کئی دہایئوں سے آباد ہے اور زیادہ تر سکھ لوگ کپڑے، دوائی، یا ہومیو پیتھک کے شعبے سے منسلک ہیں۔ دہشت گردی سے سکھوں کے کاروبار جو خیبر ایجنسی کے باڑہ بازار میں تھا بہت متاثر ہوا تھا اور گورپال سنگھ کے مطابق یہی وجہ سے کہ خیبر کو چھوڑ کر پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔

گورپال نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کچھ سکھ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے۔ انھوں نے کہا چند گھرانوں کے لوگ کاروبار کی غرض سے ضرور گئے ہیں لیکن مستقل طور پر پاکستان چھوڑ کر کوئی نہیں گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ہم بھلا پاکستان کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں ہمارے مذہبی پیشوا بابا گورونانک اسی پاکستان میں ہیں اور ہم اس ملک کو اتنا ہی مقدس سمجھتے میں جتنا مسلمان خانہ کعبہ کی زمین کو سمجھتے ہیں۔‘

حال ہی میں پاکستان کی مردم شماری میں سکھوں کے لیے فارم میں کالم نہ رکھنے پر افسوس کرتے ہوئے گورپال کا کہنا تھا کہ یہ جب کسی ملک کو یہ معلوم نہ ہو ں کہ وہا ں پر سکھوں کہ آبادی کتنی وہ ان کے حقوق کے لیے کیا اقدامات کریں گے۔

Image caption گورپال نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کچھ سکھ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے

گورپال کا ایک بھائی سال 2014 میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں اپنے کلینک میں ٹارگٹ کلنگ میں مارا گیا تھا۔

بھائی کے ہلاکت کے بارے میں گورپال کا کہنا تھا کہ دہشت گردی نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا ہے لیکن ان کا کہنا تھا اسے امید ہے کہ جلد آپ کو جو پولیس اس محلے کے داخلی راستے پر نظر آرہے ہیں ان کو ڈیوٹی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

پشاور میں اب تک کم ازکم پانچ سکھ افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ گوپرال کا کہنا تھا ان کی قربانیوں کے بدولت اس ملک کے بچوں کو کم از کم یہ پڑھانا چاہیے کہ سکھ اس ملک باشندے ہیں نہ کہ ہندوستانی۔

آخر میں پولیس اہلکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گورپال نے کہا کہ ’یہ پولیس جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ اس لئے نہیں کھڑے ہیں کہ اسی محلے میں جرائم پیشہ لوگ رہتے ہیں۔‘

’سکھوں کی امن پسندی اس سے اچھی کیا مثال ہوسکتی ہے کہ اسی محلے کے حدود میں تین تھانے موجود ہیں جہاں پر گذشتہ 33 سالوں میں کسی سکھ پر بھی جرم کا مقدمہ درج نہیں ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں