عمران خان کی ’شادی‘، نواز شریف کا طنز

نوازشریف اور مریم نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

منگل کو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف دائر تین ریفرنسز کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی طرف سے چار گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

سرکاری گواہوں نے بیانات قلمبند کروائے جبکہ ملزمان کے وکلا نے ان سرکاری گواہوں پر جرح کی۔

آج کی کارروائی کے دوران کمرہ عدالت اور عدالت کے باہر سب سے بڑا موضوع پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اپنی روحانی پیشوا سے مبینہ تیسری شادی تھا۔

مزید پڑھیئے

عمران خان ’شادی کا پیغام‘ بھجوا کر جواب کے منتظر

میرا جرم شادی کی چاہت ہے: عمران خان

جنگ گروپ، جس نے عمران خان کی مبینہ شادی کی خبر شائع کی، وہ اپنی اس خبر پر قائم ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے وضاحت جاری کی گئی کہ عمران خان نے شادی نہیں کی بلکہ اپنی روحانی پیشوا بشریٰ مانیکا کو شادی کے لیے ’پروپوز‘ کیا ہے۔

آج کمرہ عدالت میں میاں نواز شریف سے بھی اس بارے میں جب پوچھا گیا تو اُنھوں نے اس سوال پر مسکرا کر خاموشی اختیار کی، تاہم عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد جب وہ اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو صحافیوں نے سابق وزیر اعظم سے عمران خان کی مبینہ تیسری شادی کے بارے میں سوال داغ دیا۔

اس موقع پر نواز شریف کچھ لمحے تو اس سوال کا جواب دینے سے ہچکائے لیکن بعد میں کہا کہ ایسا قدم اُٹھا کر عمران خان نے اس خاتون کے خاندان کی عزت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’عمران خان اس حرکت کے بعد خود تو چھپ کر بیٹھ گیا ہے جبکہ بشریٰ بی بی کا خاندان وضاحتیں دیتا پھر رہا ہے۔‘

سابق وزیر اعظم نے عمران خان کے بارے میں کہا کہ وہ ’جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے۔‘

نواز شریف سے ان کے چھوٹے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی شادیوں کے بارے میں سوال کیا گیا لیکن سابق وزیر اعظم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

نواز شریف کی میڈیا ٹیم میں شامل ارکان پارلیمنٹ جن کو عمران خان ’موٹو گینگ‘ کہہ کر بلاتے ہیں اُنھیں نے بھی احتساب عدالت کے باہر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔

داخِلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری نے عمران خان کے ساتھ ساتھ دبے الفاظ میں فوج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام کو ڈی ریل کیا جارہا ہے اور جمہوری نظام خطرے میں ہے جبکہ عمران خان نکاح پر نکاح کیے جارہے ہیں۔

اُنھوں نے کہاکہ جہاں ڈرون گرانے کے بارے میں حکمت عملی تیار کی جانی چاہتے وہیں بلوچستان کی اسمبلی کو گرا نے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایک اور وزیر مملکت محسن شاہنواز رانجھا نے پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کے ارکان پہلے انھیں طعنہ دیتے تھے کہ یہ لوگ نواز شریف کے ذاتی معاملوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں اور اب خود وہ عمران خان کی مبینہ شادی یا پروپوزل کو ان کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ عمران خان بشریٰ بی بی سے روحانی فیض لینے جاتے تھے لیکن یہ حرکت کر کے اُنھوں نے اس خاتون کے خاندان کی عزت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ملک وچ اگ لگی ہوئی اے عمران خان دے نکاح ہی نہیں مک رے۔‘