قصور میں مشتعل مظاہرین کی توڑ پھوڑ،حالات پھر کشیدہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان میں سینکڑوں لوگ آٹھ سالہ زینب کے قتل کے واقعے پر احتجاج کر رہے ہیں

قصور میں شدید مظاہرے، پتھراؤ اور جلاو جاری پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب کی لاش ملنے کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں اور جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی شہر میں شدید مظاہرے ہوئے ہیں۔

ادھر زینب کے والد محمد امین نے کہا ہے کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں زینب کے ساتھ نظر آنے والے شخص کو نہیں جانتے۔ پاکستانی ٹی وی جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ شخص ہماری جان پہچان کا نہیں ہے۔‘

مظاہرین جمعرات کی صبح قصور کے ضلعی ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے جہاں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے لائی گئی تھیں۔

ڈنڈوں سے لیس مظاہرین نے ہسپتال کے باہر لگے پینر پھاڑ دیے اور توڑ پھوڑ کی۔ وہ حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کرتے رہے۔ ان دونوں افراد کی نمازِ جنارہ جمعرات کی دوپہر ادا کی گئی ہے جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

زینب ’ریپ‘ اور قتل: کب کیا ہوا

’بچوں کے اغوا، ریپ اور قتل کے پیچھے بظاہر ایک ہی شخص‘

مظاہرین نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر متعلقہ تھانے پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ تھانے میں موجود ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں دیگر علاقوں سے نفری بھیجے جانے کی اطلاع تو ملی ہے تاہم ابھی تھانے میں مزید نفری نہیں پہنچی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جمعرات کو علی الصبح شہر کا دورہ کیا جس کے دوران وہ زینب کے گھر بھی گئی اور متاثرہ گھرانے سے ملاقات کی۔

روڈ کوٹ کے علاقے کی رہائشی زینب اتوار سے لاپتہ تھی اور ان کی لاش منگل کو ایک کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ لاش ملنے کے بعد شہر میں پولیس اور حکومتی اداروں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

بدھ کو ان مظاہروں نے پرتشدد شکل اختیار کر لی اور اس دوران پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک بھی ہوئے، جن کے ورثا رات گئے تک ان کی لاشیں شہر کے داخلی راستے پر رکھ کر احتجاج کرتے رہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
قصورمیں کم سن بچی کے قتل کے بعد پرتشدد مظاہرے

بی بی سی کے وقاص انور کے مطابق شہر کے داخلی راستے جمعرات کو بھی بند ہیں اور وہاں مقامی افراد کی بڑی تعداد نے دھرنا دیا ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد میڈیا کی گاڑیوں کے علاوہ کسی کو وہاں سے گزرنے نہیں دے رہے اور دیگر گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے شیشے توڑے جا رہے ہیں۔

بدھ کو قصور پولیس کے ڈی پی او ذوالفقار احمد نے معطل کیے جانے سے قبل بی بی سی کی نامہ نگار حنا سعید سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ڈی سی او دفتر پر ہونے والی ہلاکتیں افسوسناک ہیں تاہم دفتر پر دھاوا بولنے والا ہجوم انتہائی مشتعل تھا۔‘

زینب کی تدفین بدھ کی رات کو ان کے والدین کی سعودی عرب سے واپسی کے بعد کی گئی جہاں وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے۔

وطن واپسی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے زینب کی والدہ نے کہا کہ 'مجھے کچھ نہیں چاہیے صرف انصاف چاہیے۔‘

جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور میں زینب کے گھر پہنچے۔

شہباز شریف نے زینب کے والدین سے اظہار تعزیت کیا اور مجرموں کی جلد گرفتاری کا یقین دلایا۔ وزیراعلیٰ کے احکامات پر قصور کے ڈی پی اور ذوالفقار احمد کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
قصور میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ

خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی پولیس ابوبکر خدا بخش کی سربراہی میں ایک جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جو 24 گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

پنجاب پولیس کے سربراہ نے جمعرات کو اس واقعے سے متعلق ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ زینب کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد اور قتل کے واقعے کی تحقیقات کے لیے 67 افراد کے ڈی این اے کے نمونے لیبارٹری میں بھجوائے گئے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق رپورٹ میں فارنزک لیبارٹری سے ان نمونوں کی رپورٹ جلد از جلد فراہم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے227 افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے تاہم ابھی تک ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیابی نہیں ملی۔

پولیس کی رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی بھی مدد لی جارہی ہے تاہم ان کیمروں کی کوالٹی زیادہ اچھی نہیں ہے۔

پنجاب پولیس کے سربراہ نے اپنی اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ پنجاب حکومت نے زینب کے قتل میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم کا بھی اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے زینب پرہونے والی جنسی تشدد اور قتل کے واقعہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ سے24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی تھی۔

اگر بچے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آئے تو والدین کیا کریں؟

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنئظم ساحل کے سینیئر پروگرام افسر ممتاز گوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ریپ کے کیسز میں مجرم کا پتا لگانے میں جہاں پولیس کی انتظامی کارروائی میں کمزوریاں ہیں وہیں کچھ کوتاہی والدین کی جانب سے بھی ہو جاتی ہے جس کی بڑی وجہ لاعلمی اور معاشرے میں آگاہی کا نہ ہونا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ کسی کے بچے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آجائے تو وہ

  1. پہلے 24 گھنٹوں کے اندر اندر مقامی سرکاری ہسپتال سے میڈیکل کروا کر رپورٹ لے لیں کیونکہ 24 گھنٹوں کے بعد کروائی جانے والی رپورٹ پوزیٹو نہیں آئے گی تو یہ ثابت نہیں ہو سکے گا کہ بچے یا بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت میڈیکل رپورٹ کو دیکھتی ہے۔
  2. متاثرہ بچے یا بچی نے جو کپڑے پہن رکھے ہوں وہ سنبھال کر رکھے جائیں کیونکہ یہ ثبوت ہوتا ہے جو تفتیش میں کام آتا ہے۔
  3. جائے وقوعہ سے جو بھی شواہد ملیں انھیں بھی محفوظ کیا جائے ہو سکتا ہے وہاں مجرم کوئی ایسی چیز چھوڑ گیا ہو جو تفتیشں میں مدد دے سکے۔
  4. اوپر بتائی گئی تمام معلومات کو ایف آئی آر میں ضرور شامل کیا جائے کیونکہ اس میں جتنے شواہد ہوں گے کیس اتنا ہی مضبوط ہوگا۔

’چھ سے زائد ایسے کیسز‘

قصور کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت مرکزی شہر کے مختلف تھانوں میں چھ سے زائد مقدمات ایسے ہیں جن میں بچوں کو اغوا کے بعد قتل کر کے ان کی لاشوں کو اسی علاقے میں پھینک دیا گیا۔

زینب اور دیگر بچوں کے مقدمات کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دو سو سے زیادہ افسران پر مشتمل جے آئی ٹی چھ ماہ سے اسی قسم کے کیسز کو دیکھ رہی ہے لیکن ابھی تک بچوں کا قاتل ڈھونڈنے میں مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

'ابھی تک گمان یہی ہے کہ ایک ہی بندہ ہے جو بچوں کو راستے میں سے اٹھاتا ہے اور ان کی ڈیڈ باڈی کو پھینک دیتا ہے اور ان کیسز میں زیادہ بچے ہیں۔'

سب انسپکٹر افتخار احمد نے بتایا کہ 2016 کے بعد سے اب تک وقفے وقفے سے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

زینب کیس

سب انسپیکٹر افتخار احمد کا کہنا ہے کہ زینب کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد نامعلوم شخص نے کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔

زینب کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے۔

ان کے چچا نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ 'ساتھ ہی خالہ کا گھر ہے زینب بچوں کے ساتھ پڑھنے کے لیے گئی تھی۔ بھرا بازار ہے سب اپنے ہی ہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کہاں گئی۔'

'جمعرات کو بچی غائب ہوئی اور جمعے کو ہم نے 12 بجے صبح ثبوت دیے لیکن پانچ دن بچی زندہ رہی لیکن ان سے کچھ نہیں ہو سکا۔ جگہ جگہ کارروائی کی اور گاڑیاں بھگاتے ہیں لیکن پلے کچھ نہیں ہے۔'

اسی بارے میں