خیبر پختونخوا میں دینی مدارس کو محکمۂ تعلیم کے زیرِ انتظام کرنے کا فیصلہ

مدرسہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں دینی مدارس کو محکمۂ تعلیم کے زیرِ انتظام کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور محکمۂ تعلیم اس سلسلے میں آئندہ چند روز میں مدارس کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرے گا۔

بظاہر یہ فیصلہ دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے کیا گیا ہے اور اس بارے میں اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے رولز آف بزنس میں ترمیم کرکے مدارس کو محکمۂ تعلیم کے زیرِ انتظام لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمۂ تعلیم میں سپیشل سیکریٹری اور فوکل پرسن خالد خان نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ مدارس کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا لیکن گذشتہ روز ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں یہ مدارس محکمۂ تعلیم کے زیرِ انتظام کر دیے گئے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

خیبر پختونخوا کے مدارس رجسٹریشن پر آمادہ ہو گئے

خیبر پختونخوا میں دینی مدارس کو تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں 3,500 مدارس ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق 24,000 تک طلبا زیرِ تعلیم ہیں تاہم محکمۂ تعلیم کے حکام نے کہا ہے کہ ان اعداد و شمار میں رد و بدل ہو سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں محکمۂ تعلیم کے حکام دینی مدارس کی رجسٹریشن کے علاوہ ان مدارس کے نصاب، امتحانات، نگرانی اور دیگر سرگرمیوں کا انتظام کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خالد خان نے بتایا کہ اس بارے میں مدارس کے حکام سے مذاکرات جاری تھے جس میں وفاق المدارس کے منتظیمیں کا کہنا تھا کہ مدارس میں ابتدائی تعلیم سے لے کر ثانوی اور اعلیٰ تعلیم تک بورڈ ہے جس کے لیے باقاعدہ انتظام کی ضرورت ہے۔

مدارس کی رجسٹریشن اور انھیں محکمۂ تعلیم کے زیر انتظام لانے کے لیے فیصلہ وفاقی سطح پر کیا گیا تھا اور خیبر پختونخوا میں مدارس کی رجسٹریشن کا کام شروع کر دیا تھا۔ اس بارے میں پشاور کے تعلیمی بورڈ کے ذریعے وفاق المدارس کے حکام سے بات چیت کا سلسلہ جاری تھا۔

خالد خان نے بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن اور پھر ان کے انتظام کے حوالے سے جو بھی اقدامات ہوں گے وہ مدارس کی منتظیمیں کی رضا مندی سے کیے جائیں گے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس وقت پاکستان میں پانچ وفاق المدارس ہیں جبکہ ان کی مشترکہ تنظیم بھی ہے۔

حکام کے مطابق دو وفاق المدارس نے اس پر عمل کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے جبکہ باقی تین مدارس کی رضا مندی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

اس بارے میں وفاق المدارس کے رہنما مفتی حسین احمد سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

محکمۂ تعلیم میں اعلیٰ عہدے پر فائز حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے علاوہ نصاب، امتحانات اور نگرانی کا عمل ایک بہت بڑا مرحلہ ہے، یہ کام اتنا آسان نہیں ہے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔

اسی بارے میں