پاکستانی تعاون کی معطلی، امریکہ کو کتنی مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے دو وفاقی وزرا نے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی امداد کی بندش کے جواب میں اس نے امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ روک دیا ہے۔ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کی مقدار اور معیار کیا تھا اور کیا یہ قدم امریکہ کو مشکل میں ڈال سکتا ہے؟ ماہرین کے خیال میں اس اعلان کی علامتی حیثیت زیادہ ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹیلیجنس شیرنگ کی ایک طویل تاریخ ہے۔ افغانستان میں سویت جنگ سے بھی پہلے سرد جنگ کے دوران پشاور میں بڈھابیر ایر فورس کیمپ میں 1959 میں سی آئی اے کی سویت یونین کے خلاف ’لسنگ‘ پوسٹ شاید اس تعاون کا پہلا مظہر تھا۔

مزید پڑھیے

امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

’امریکہ سے خفیہ معلومات کا تبادلہ اور فوجی تعاون معطل‘

کیا امداد بند کرنے سے امریکہ کا مقصد پورا ہو گا؟

پھر سویت یونین ہی نے افغانستان کا رخ کیا تو دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے پراجیکٹ ’مجاہدین‘ دو دہائیوں تک مشترکہ طور پر چلایا۔ اور آخری اطلاعات تک یہ تعاون پراجیکٹ "طالبان حکومت کا خاتمہ" سے لے کر آج تک جاری ہے۔

امریکی مصنف اور نارتھ کیرولائنہ یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر جیمس اگو والش نے اپنی کتاب ’دی انٹرنیشنل پولٹکس آف انٹیلیجنس شیرنگ" میں لکھا ہے کہ امریکہ کو پاکستان جیسے ممالک سے دو قسم کی خفیہ معلومات درکار ہوتی ہیں۔ "کئی شدت پسند تنظیموں کے حامی، مالی امداد دینے والے اور فعال کارکن انہی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں یا وہاں رہتے ہیں۔ مقامی خفیہ ایجنسیوں کے پاس ان افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا مطلوبہ عملہ، ثقافتی اور لسانی سمجھ بوجھ اور قانونی یا (غیرقانونی) اختیار ہوتا ہے۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ ممالک کوئی زیادہ جمہوری نہیں ہوتے تو اس کا فائدہ بھی امریکہ کو ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALEX BRANDON

نائن الیون کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں فاٹا میں بڑی تعداد میں القاعدہ اور افغان طالبان کے جنگجو آئے تھے۔ حالیہ دور کا تعاون اس کے بعد شروع ہوا تھا۔

ان ایام کے بارے میں فاٹا میں آئی ایس آئی کے سابق اہلکار برگیڈئر (ر) اسد منیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بہتر انسانی معلومات حاصل کرنے جبکہ امریکہ کے پاس ٹیکنیکل صلاحیت موجود تھی۔

’ہر جگہ ٹیکنیکل معلومات حاصل کرنا آسان نہیں اگر کوئی ٹیلیفون پر بات نہیں کرتے ہیں تو ٹیکنیکل انٹیلیجنس بےکار رہتی ہے۔ ایسے میں اب امریکہ کو یہ انسانی معلومات دستیاب نہیں ہوں گی، لیکن اب اس قسم کی معلومات کا تبادلہ کافی کم ہوگیا ہے۔‘

تاہم 1993 کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث رمزی یوسف کو 1995 جبکہ سی آئی اے کے اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث میر ایمل کانسی کو 1997 میں گرفتار کرکے حوالے کرنے کا سلسلہ 9/11 سے قبل سے جاری تھا۔

تاہم اس تعاون کے نتیجے میں ہونے والی گرفتاریوں میں اضافہ نائن الیون کے بعد ہوا تھا۔ خالد شیخ محمد کو راولپنڈی سے ایک ٹیلیفون کی نگرانی کے ایک سافٹ وئر ’ایچلان‘ کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

سال 2004 میں لاہور سے محمد نعیم نور خان اور ایک سال بعد مردان سے ابو فراج البی بھی اسی تعاون کے نتیجے میں گرفتار ہوئے تھے۔

یہ سلسلہ کافی عرصے تک چلتا رہا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت بھی دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کا نتیجہ تھا۔ اسامہ کے دست راست الکویتی کی کال پاکستان نے ٹریس کی لیکن کارروائی بعد میں امریکہ نے کی۔ پھر امریکہ نے اپنی ہی معلومات کے نتیجے پر ملا اختر منصور اور کئی شدت پسند رہنماؤں کو پاکستان کو بظاہر آگاہ کیے بغیر ہی ڈرون کے ذریعے بھی نشانہ بنایا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ موقع پابندی لگانے کے لیے کیوں چنا۔ اس بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شدت پسندی سے اس خطے میں نمٹنے کے لیے کوئی زیادہ تعاون نہیں ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو اصل مشکل داعش یا خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم سے ہے۔ اس کے تانے بانے اس خطے سے کوئی زیادہ نہیں جڑتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسد منیر کہتے ہیں کہ جب تک القاعدہ اور طالبان مسئلہ تھے تو ان کی زیادہ تعداد یہیں موجود تھی۔ ’اس وقت ان کا کام ہمارے بغیر نہیں چل سکتا تھا۔ ان کو معلوم ہے کہ طالبان، القاعدہ اور آئی ایم یو جیسی تنظیموں کے لوگ اب افغانستان میں ہیں۔ انہیں شاید لگتا ہوگا کہ چونکہ پاکستان میں کوئی زیادہ تعداد میں یہ نہیں رہے تو انہیں پاکستان کی اب اتنی ضرورت نہیں ہے۔‘

ان کے خیال میں داعش اور کوئی نہیں یہیں کی لشکر جھنگوی جیسی شدت پسند تنظیمیں ہیں۔ ’پاکستان میں اس طرح کی یہ تنظیم موجود نہیں تو ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ہے۔‘

پاکستان اور امریکہ کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ یہ پہلی مرتبہ نہیں روکا ہے۔

اس سے قبل ریمن ڈیوس اور سلالہ کے واقعے کے بعد کافی عرصے تک یہ تعاون رکا رہا تھا۔ اسد منیر کہتے ہیں کہ ایسی اونچ نیچ جاری رہی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اب بھی کسی نہ کسی سطح پر دونوں کے درمیان بات چیت جاری ہوگی اور شاید اسے جلد حل کر لیا جائے گا۔

اسی بارے میں