ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر کی لاش کراچی سے برآمد

ایم کیو ایم تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے ڈپٹی کنوینر پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش ملی ہے۔

بی بی سی کے کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ملیر کے ابراہیم حیدری تھانے کے ایس ایچ او نے تصدیق کی ہے کہ حسن ظفر عارف کی لاش الیاس گوٹھ کے قریب ایک کار سے ملی جسے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کی عبوری رابطہ کمیٹی کے رہنما حراست میں

’ایم کیو ایم وہی جس کے قائد الطاف حسین ہیں‘

جناح ہسپتال کی ڈائرکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں مردہ حالت میں لایا گیا ان کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں، تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد مزید صورتحال واضح ہوگی۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر کے بعد ایم کیو ایم لندن اور پاکستان میں تقسیم ہوگئی تھی۔ کراچی سے پروفیسر حسن نے ایم کیو ایم لندن میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا اور وہ کئی ماہ قید رہے۔

پروفیسر حسن نے ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی لاش وصول کرنے کے لیے ان کے بھائی زعیم عارف جناح ہپستال گئے جہاں انہوں نے بی بی سی کو بتایا انھوں نے لاش دیکھی ہے بظاہر تشدد کا کوئی نشان موجود نہیں ہے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی تدفین آج شب ہی سخی حسن قبرستان میں کی جائے گی۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ لندن کی تحلیل شدہ رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے الزام عائد کیا ہے کہ پروفیسر حسن ظفرعارف کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

ایک اعلامیے میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو حق پرستانہ جدوجہد کی پاداش میں اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔

پروفیسر حسن ظفر کا سیاسی سفر

13 سال کی عمر میں انہوں نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ ٹیبل ٹینس سے لگآؤ رکھنے والے اس نوجوان نے کم عمری میں ایم اے کے امتحان میں آرٹس فیکلٹی میں ٹاپ کیا جس کے بعد انہیں لندن میں اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالرشپ دی گئی جہاں وہ ستر کی دہائی تک رہے۔

لندن قیام کے دوران انہوں نے طلبہ کی عالمی تحریک میں بھی حصہ لیا، فلسفے میں پی ایچ ڈی کے بعد وہ وطن واپس آئے اور جامعہ کراچی کے شعبے فلسفہ میں بطور اسسٹینٹ پروفیسر فرائض سرانجام دینے لگے۔ ترقی پسند سوچ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے وہ اس سوچ کی طلبہ تنظیموں کے قریب رہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی کی طلبہ یونین جمیعت کے خلاف بنائے گئے ترقی پسند اور قوم پرست طلبہ اتحاد یونائیٹیڈ اسٹوڈنٹ موومنٹ کی تشکیل میں بھی ان کا کردار رہا۔

کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کے بھی وہ صدر رہے، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے بعد جب ترقی پسند تنظیموں پر کڑا وقت آیا تو ڈاکٹر حسن ظفر عارف بھی مشکلات سے دوچار ہوئے، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جہانداد خان نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا اور جواب نہ دینے پر انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کے علاوہ گرفتار کرلیا گیا۔

ڈاکٹر حسن ظفر کی رہائی کے لیے بیرون ملک بھی مہم چلائی گئی اور بالآخر فوجی حکومت نے انہیں رہا کیا، جس کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی کی طلبہ یونین پی ایس ایف کو کراچی میں منظم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اسی دوران بحالی جمہوریت کی تحریک کا آغاز ہوا وہ اس میں بھی شریک رہے۔

بینظیر بھٹو کی واپسی اور فوجی حکومت سے رابطوں پر وہ بدظن ہوکر پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوگئے اور خود کو ترقی پسند ادب کے ترجمے تک محدود کردیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند میر مرتضیٰ بھٹو کی وطن واپسی اور ان کے رابطے پر ڈاکٹر حسن ظفر دوبارہ سیاست میں سرگرم ہوئے لیکن مرتضیٰ بھٹو کی پولیس فائرنگ میں ہلاکت کے بعد وہ دوبارہ غیر فعال ہوگئے۔

کئی سالوں کی سیاسی کنارہ کشی اور خاموشی کے بعد انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ لندن میں شمولیت اختیار کی اور انہیں پاکستان میں تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا، جس وجہ سے انہیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

تجزیہ نگار پروفیسر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ طیارہ ہائی جیکنگ کے بعد جب جمعیت نے جامعہ کراچی میں ترقی پسند طلبہ کے لیے زمین تنگ کردی تو پروفیسر حسن ظفر ہی تھے جنہوں نے انہیں یکجا منظم رکھا اور ان کا دفاع کیا۔ اس کے پاداش میں انہیں ملازمت سے محروم ہونا پڑا۔

پیپلز پارٹی کے بعد نوے کی دہائی میں پروفیسر حسن ظفر عارف مسلم لیگ ن کے بھی قریب رہے۔

اسی بارے میں