کراچی کے سیویج نظام پر چیف جسٹس کی تنبیہ

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراچی کے نالے بہہ کر سمندر میں جاتے ہیں اور آلودگی کا بڑا سبب ہیں

حکومت سندھ نے اعتراف کیا ہے کہ صنعتوں کا فضلہ اور ڈرینیج کا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر اور دریائے سندھ میں شامل ہو رہا ہے، صوبائی حکومت نے یہ آگاہی سپریم کورٹ میں تحریری رپورٹ میں دی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق کراچی کے صنعتی کارخانوں کا پانی لیاری اور ملیر ندی کے ذریعے سمندر میں خارج کیا جاتا ہے۔ نارتھ کراچی، سائیٹ ایریا، ایف بی ایریا، کورنگی اور لانڈھی کے صنعتی کارخانوں سے خارج ہونے والے پانی کی صفائی کا کوئی انتظام نہیں لہذا یہ آلودہ پانی سمندر میں خارج کیا جاتا ہے۔

اسی طرح سپر ہائی وے پر واقع نوری آبادی کے کارخانوں کا پانی کوٹڑی کے کینال کے بی فیڈر میں شامل ہوجاتا ہے، یہ ہی صورتحال کوٹڑی اور حیدرآباد کے صنعتی علاقوں کی بھی ہے۔

حکومت سندھ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں موجود 30 سے زائد شگر ملز، درجنوں کاٹن فیکٹریوں اور بڑی فلور ملز میں بھی ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگے ہیں جس وجہ سے یہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا بھی سبب بن رہی ہیں، اس لیے شگر ملز میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے ساتھ فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کا بھی نظام لگانے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی کے سمندر کے آلودہ پانی کا ایک منظر

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صنعتوں کے پانی کی ٹریٹمنٹ یا صفائی کے لیے کمبائنڈ افلیوینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں، اس کے لیے منصوبہ زیر تعمیر ہیں جو سنہ 2019 میں فعال ہوں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی صنعتوں میں پانچ ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے جو سنہ 2020 میں مکمل ہوگا۔ حکومت سندھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور ٹریٹمنٹ کے لیے منصوبے بنارہی ہے جس کے لیے 400 ارب روپے کے فنڈز کی ضرورت ہے جبکہ سندھ کی ترقیاتی بجٹ 244 ارب روپے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کراچی کے لاپتہ جزائر

٭ کراچی میں بدبو کی وجہ کیا تھی؟

٭ 'جس روز بجلی بنائی، حکومت نے فنڈز روک دیے'

اس موقعے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی واٹر بورڈ کے ایم ڈی ہاشم زیدی سے مخاطب ہوکر کہا کہ انھیں کوئی تاریخ دی جائے کہ کراچی میں آلودہ پانی کو صاف کرنے کا مسئلہ کب تک حل ہوجائیگا۔ سیویج کا پانی کب تک صاف کرکے سمندر میں چھوڑنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ عدالت نے انھیں ہدایت کی کہ دو ہفتوں میں مکمل تفیصلات کے ساتھ رپورٹ پیش کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نالیوں کی صفائی ایک عرصے سے نہیں ہوئی ہے (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ میں سنیچر کو کراچی کے میئر وسیم اختر بھی پیش ہوئے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں متعدد مسائل ہیں، بجلی کنڈے پر چل رہی ہے، واٹر بورڈ کا نظام خراب ہے، سارا کچرا سیوریج نظام میں شامل ہوجاتا ہے۔ برساتی اور نکاسی آب کے نالوں پر قبضے ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وسیم اختر کو مخاطب ہوکر کہا کہ اس شہر میں آپ کی حکومت زیادہ رہی ہے آپ ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے، شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے آپ کی بھی ذمہ داری ہے۔ ماضی سے سبق سیکھیں اور مجھے مسائل کا حل بتائیں، آپ اگلے ہفتے دوبارہ آئیں گے۔

'مجھے یقین ہے کہ تین ماہ میں کراچی کے مسائل حل کرنے میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہوگی۔' وسیم اختر نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ وہ مسائل کے حل کے لیے تعاون کریں گے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک دوسری درخواست پر حکم جاری کیا ہے کہ ڈبے میں دودھ فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں کی مصنوعات کی چیکنگ کی جائے اور اس سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

عدالت نے محکمہ صحت کے سیکریٹری اور ڈرگ انسپکٹر کو یہ بھی ہدایت جاری کی کہ بھینسوں سے اضافی دودھ کے حصول کے لیے لگائے جانے والی انجیکشینوں کو ضبط کیا جائے۔

اسی بارے میں