’پیغام پاکستان‘: انتہا پسندی کے خلاف نیا بیانیہ

ممنون حسین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ علما کے اس فتوے کو ریاستی اداروں کی تائید حاصل ہوئی

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک بیانیہ ’پیغام پاکستان‘ کے نام سے اسلام آباد میں جاری کیا ہے۔

منگل کو ایوان صدر، اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام متفقہ قومی بیانیے کے حوالے سے شائع ہونے والی کتاب ’پیغام پاکستان‘ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ’قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل پانے والا آئین پاکستان ہی بنیادی بیانیہ ہے جبکہ علما کا یہ فتویٰ اس کی وضاحت اور تائید کرتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس سے انتہا پسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

اس کتاب میں 18 سو سے زائد علما کرام کا متفقہ فتویٰ شائع کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی، خونریزی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیرِ داخلہ احسن اقبال، وزیر ِخارجہ خواجہ محمد آصف، چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد، ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی، صدر وفاق المدارس العربیہ ڈاکٹر عبدالرزاق، صدر تنظیم المدارس اہل سنت مفتی منیب الرحمن، صدر وفاق مدارس سلفیہ پروفیسر ساجد میر، صدر وفاق المدارس شیعہ علامہ سید ریاض حسین نجفی، صدر رابط المدارس مولانا عبدالمالک نے بھی شرکت کی اور خطاب کیا۔

سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف علما کا متفقہ بیانیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم ملک سے دہشت گردی اورانتہاپسندی کے خاتمے کےلیے پرعزم ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے تابناک مستقبل کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت پرزور دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر عالمی برادری نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو دہشت گردی کے خلاف کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 18 سو سے زائد علما کرام کا متفقہ فتویٰ شائع کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی، خونریزی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ علما کے اس فتوے کو ریاستی اداروں کی تائید حاصل ہوئی اور اتفاق رائے ہی ان کی کامیابی کی کلید ہے۔ ’یہ مرحلہ طے کرنے کے بعد ضروری ہے کہ قوم کے دیگر طبقات کے نقطہ نظر کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ہر طبقہ اس کے فروغ میں کردار ادا کرے۔‘

انھوں نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء اور وفاق المدارس نے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے جو فتویٰ جاری کیا ہے وہ درست سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلام امن محبت اور رواداری کا دین ہے۔

ماضی میں بھی مختلف سطحوں پر دہشت گردی کے خاتمے کی خاطر پاکستان کے اندر مختلف اوقات میں اس قسم کے فتوے جاری کئے گئے تھے جو زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ تاہم اس مرتبہ ریاست کی سطح پر علما کی جانب سے کھل کر دشت گردی کی مخالفت توقع ہے کہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں