'پارلیمنٹ ایک عمارت کا نام ہے، اس کی عزت پارلیمنٹیرینز کے کردار سے ہے‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز بھی منی لانڈرنگ کے لیے بنائی گئی تھی

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ایک عمارت کا نام ہے اور اس میں موجود پارلیمنٹیرینز اپنے کردار سے اس کی عزت اوپر یا نیچے لے کر جاتے ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں بنی گالا میں واقع اپنی رہائش گاہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے لاہور میں اپنے گذشتہ روز کے بیان کے بارے میں کہا کہ 'پارلیمان کو پارلیمنٹیرینز نے ہی تباہ کیا ہے‘۔

انھوں نے نواز شریف اور خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ جیسے لوگوں نے اسمبلی تباہ کی ہے‘۔

'پارلیمنٹ کو پارلیمنٹیرینز نے ہی تباہ کیا کیونکہ یہ پارلیمان جو ٹیکس چور ہے، جسے تین سو ارب روپے کا جواب دینا ہے، ۔۔۔عدالت میں جھوٹ بولتا ہے، ۔۔۔۔ اس کے لیے قانون بناتی ہے کہ وہ پارٹی کا سربراہ رہ سکتا ہے، حکمراں جماعت پاکستان کے خزانے پر بیٹھی ہوئی۔۔۔۔ اور خزانے پر چور بٹھا دیا۔'

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی ’لعنت‘ پر اسمبلی کی متفقہ مذمت

عمران خان کی ’شادی‘، نواز شریف کا طنز

ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو پارٹی کا صدر بنائے: عمران خان

بدھ کو عمران خان نے لاہور میں حزب اختلاف کے احتجاجی جلسے سے خطاب میں پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ 'ایسی پارلیمان پر لعنت بھیجتے ہیں جو ایک مجرم کو پارٹی سربراہ بنائے' جبکہ شیخ رشید احمد نے پارلیمان پر تنقید کرتے ہوئے اپنے استعفے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس بیان کے بعد قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید احمد کے پارلیمان کے خلاف بیانات پر ایک مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عمران خان نے لاہور میں متحدہ حزب اختلاف کے احتجاج کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد مجمع اکٹھا کرنا نہیں تھا

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ 'مجھے کیوں نکالا' کی دوسری قسط پیش کرنے جا رہے ہیں جس میں انھوں نے شریف خاندان پر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے ہیں۔

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’نواز شریف ہل میٹل، اپنے ملازمین اور پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے ذریعے رقوم بیرون ملک بھیجتے تھے جو دبئی اور پھر آگے جاتی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حدیبیہ پیپر ملز بھی منی لانڈرنگ کے لیے بنائی گئی تھی‘۔

عمران خان نے لاہور میں متحدہ حزب اختلاف کے احتجاج کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد مجمع اکٹھا کرنا نہیں تھا۔

'ہم ان جماعتوں کے ساتھ وہاں بیٹھے تھے جن کے ساتھ ہمارے بہت بڑے اختلافات ہیں لیکن یہ بتانے کے لیے کہ ایک انسانیت کی بنیاد پر، انصاف کے لیے وہ تمام اکٹھے ہیں۔'

اسی بارے میں