لعنت: ہلکی یا سخت

عمران تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بچپن میں کسی نے نصیحت کی کہ ہمیشہ دو قسم کے لوگوں سے ڈرنا: ایک وہ جو منہ پر جھوٹ بولیں اور دوسرے وہ جو دریا کے دوسرے کنارے پر کھڑے ہوکر لعنت بھیجیں۔ ظاہر ہے جو منہ پر بڑی نفاست کے ساتھ جھوٹ بولے یا دریا کے دوسرے کنارے پر کھڑا ہوکر گالیاں دے یا لعنت کرے، اس کا آپ کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

بس جب سے یہ نصیحت ملی ہے، میں ڈرے ہی جارہا ہوں۔ بیشتر لوگوں سے بات کرکے ان سے ڈرنا شروع کردیتا ہوں، کبھی ٹی وی پر کچھ دیکھ کر یا اخبار میں کچھ پڑھ کر ڈرنا شروع کردیتا ہوں۔ جھوٹ سچ تو اتنے مشکوک ہوگئے ہیں کہ ان پر بات کرنا ہی تقریباً فضول محسوس ہوتا ہے۔

'پارلیمان کو پارلیمنٹیرینز نے ہی تباہ کیا ہے‘

عمران خان کی ’لعنت‘ پر اسمبلی کی متفقہ مذمت

ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو پارٹی کا صدر بنائے: عمران خان

یہ باتیں اس لیے یاد آئیں کیونکہ پاکستان میں قائد تبدیلی عمران خان کے ایک بیان پر لعنت کے لفظ، اس کے سخت یا نرم ہونے یا پارلیمینٹ کے لیے اسے استعمال کرنے یا نہ کرنے یہاں تک کہ لعنت کی شرعی حیثیت پر بھی ایک انتہائی دانشورانہ بحث شروع ہوگئی ہے۔

عمران خان صاحب کا کہنا ہے کہ ایک ایسی پارلیمان جس نے ایسا قانون پاس کیا جو ایک نااہل قرار دیے گئے شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانے کے لیے راہ ہموار کرے تو اس پارلیمان کے لیے لعنت کا لفظ بھی ہلکا ہے۔ وہ اس پر ایک عوامی مناظرہ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ صاحب تقریر طاہرالقادری صاحب کی صحبت زورِ خطابت کی شکل میں خاصہ اثر دکھا رہی ہے۔

پارلیمان کے خلاف گالم گلوچ کا آغاز کیا تو شیخ رشید صاحب نے تھا لیکن اسی رو میں عمران خان صاحب بھی بہہ گئے ہیں۔ شیخ صاحب تو بادشاہ آدمی ہیں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کا کچھ زیادہ سٹیک پے تو ہے نہیں، ایک سیٹ تھی ان کی اس سے استعفیٰ دینے کے اعلان کے بعد اب کل وقتی کارکن بن گئے ہیں۔ لیکن عمران خان صاحب کے اننگز لمبی ہے، ان کو الفاظ کے انتخاب میں زیادہ احیتاط کرنی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ درست ہے کہ پارلیمان میں سب کچھ اچھا نہیں، یہ بھی درست ہے کہ اسی پارلیمان نے غلط قوانین بھی بنائے اور یہ بھی حقیقت کہ پارلیمانوں میں بیٹھے کئی لوگوں پر بدعنوانی کے مرتکب ہونے کے الزام بھی ہیں اور سزا بھی ہوئی ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی وہ ادارہ ہے جو پاکستان کے مجبور اور بےکس لوگوں کی نمائندگی کرسکتا ہے۔ درست یا غلط اسی میں بیٹھے وہ لوگ ہیں جن کو عوام نے اپنا ووٹ دیا ہے۔ وہی ووٹ جو عمران خان سمیت تمام سیاستدان حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جمہوری نظام میں یہی پارلیمان ہی ہوتی ہے جو آئین کے مطابق سب سے اعلیٰ ادارہ ہے۔ اگر کسی کو عوام کی بالادستی اور جمہوریت پر یقین ہے تو وہ پارلیمان کے ادارے پر لعنت نہیں بھیج سکتا۔ تاہم پاکستانی سیاست کی پرآشوب تاریخ ایسے طالع آزماؤں سے بھری ہے جو پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور ووٹ کی تذلیل کرتے ہیں تھکتے نہیں تھے۔

لیکن انھوں نے ہی اپنے ذاتی یا ایک محدود گروپ کی حکمرانی کو طول دینے کے لیے ایسی سیاست متعارف کرائی کہ آج پارلیمان، جمہوریت اور حکومتیں ان تمام خرابیوں کا شکار ہیں جن پر تنقید جائز ہے۔ اچھا ہی ہوتا کے عمران خان صاحب کے جاہ وجلال کا ہدف کبھی وہ بھی ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سیاسی اداروں کو بااثر، طاقتور اور کارآمد بننے میں وقت لگتا ہے۔ اور وہ بھی اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے اگر انھیں آزادی سے چلنے دیا جائے۔ کبھی مارشل لا کی، کبھی عدالت کی اور کبھی کوئی اور تلوار ان کے سر پر لٹکتی رہے گی تو ہر مرتبہ ملک کو جمہوریت کا سفر زیرو سے شروع کرنا پڑے گا۔

خان صاحب پارلیمان کے اجلاسوں میں بہت ہی کم شریک ہوئے ہیں۔ ان کی پارٹی کے ارکان بھی خال خال ہی اسمبلی میں نظر آتے ہیں۔ لگتا ہے وہ پارلیمان کے دریا کے دوسرے کنارے پر کھڑے ہوکر لعنت کر رہے ہیں۔ تو مجھے نصیحت دینے والے بھلے شخص کی نصیحت کے مطابق ہمیں ان سے بہت ڈرنا چاہیے۔

اسی بارے میں