نقیب اللہ کی ’پولیس مقابلے میں ہلاکت‘ پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

نقیب اللہ
Image caption نقیب اللہ کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے خلاف مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں

پاکستان کے چیف جسٹس نے کراچی میں پولیس کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود نامی نوجوان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے پر سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس سے سات دن میں رپورٹ طلب کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والا نقیب اللہ محسود سنہ 2008 سے کراچی میں مقیم تھا اور اطلاعات کے مطابق ماڈل بننا چاہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نقیب اللہ کی ’پولیس مقابلے میں ہلاکت‘ کی تحقیقات کا حکم

تحریک طالبان ٹانک کا امیر کراچی میں ہلاک

راؤ انوار معطلی، چیف سیکریٹری اور آئی جی کو نوٹس جاری

بیان کے مطابق مبینہ طور پر کراچی پولیس نے نقیب کو دو جنوری کو حراست میں لیا اور انھیں 17 جنوری کو قتل کر دیا گیا۔

ان کے قتل کے لیے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم میں ان کے قتل کے لیے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جنھوں نے نقیب کو شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا اور ان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے بتایا تھا۔

نقیب محسود کے قتل کی تحقیقات کے لیے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے جمعرات کو اعلیٰ سطح کی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کو سونپی گئی ہے جبکہ اس کے ارکان میں ڈی آئی جی جنوبی آزاد خان اور ڈی آئی جی شرقی سلطان خواجہ شامل ہیں۔

تحقیقات کے حوالے سے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تفتیش کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ یہ کھلی تحقیقات ہیں، اس لیے کوئی بھی بیان ریکارڈ کرا سکتا ہے اور نقیب کے اہل خانہ کو بھی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیغام بھیجا گیا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جمعے کو اس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

ان کے مطابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے کہا ہے کہ نقیب اللہ کے خلاف 2014 کا بھی ایک کیس ملا ہے جس کے بارے میں انھوں نے تحقیقاتی کمیٹی کو آگاہ کیا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو بیان کے بعد راؤ انوار سے صحافیوں نے سوال کیا کہ آخر ان کے خلاف ہی ماورائے عدالت قتل کے الزامات کیوں آتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ جو کام کرتے ہیں انھیں ایسے الزامات جھیلنا پڑتے ہیں۔

راؤ انوار سے جب یہ سوال کیا گیا کہ خاندادن کہتا ہے کہ نقیب اللہ کو تین جنوری کو اٹھایا گیا تھا تو ان کا جواب تھا کہ اس کے خلاف کیا انہوں نے کہیں کوئی درخواست دی یا عدالت میں گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں سو فیصد یقین ہے کہ وہ (نقیب اللہ) مجرم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption نقیب اللہ فوٹو گرافی کا شوق رکھتا تھا اور ان کا سٹائل ماڈلز جیسا ہوتا تھا

راؤ انوار نے الزام عائد کیا کہ پچھلے دنوں تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کے خلاف انھوں نے سکول کے چوکیدار پر تشدد کی دو ایف آئی آرز دائر کی تھیں اور وہی اس معاملے زیادہ سرگرم نظر آر رہے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو انھوں نے ایک بیان بھی جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے آلہ کار سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بےبنیاد مہم چلا رہے ہیں۔

نقیب محسود کے اہلخانہ پولیس کے موقف کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ نقیب اللہ کے کزن نور رحمان نے حال ہی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نقیب اللہ 2008 میں کراچی آئے تھے جہاں وہ حب چوکی میں فیکٹری میں کام کرتے تھے جبکہ انھوں نے کپڑے کے کاروبار کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے سہراب گوٹھ میں دکان بھی کرائے پر لے لی گئی تھی۔

ان کے مطابق مقتول کے تین بچے ہیں جن کی عمریں دو سے نو سال کے درمیان ہیں اور یہ بچے آج کل اپنے ننھیال ڈیرہ اسماعیل خان گئے ہوئے ہیں۔

ادھر تحریکِ طالبان پاکستان نے بھی اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں راؤ انور کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ نقیب اللہ محسود کا تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’نقیب اللہ محسود کو ہم جانتے بھی نہیں تاہم راؤ انور پر جو حملہ ہوا یقیناً وہ تحریک طالبان نے کیا اور اس طرح اور بھی حملے ہوں گے۔‘

نقیب اللہ محسود کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف کراچی، پشاور سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ گرم ہے۔

کراچی میں اس سے قبل بھی ماورائے عدالت قتل کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سالہ 146 افراد مبینہ طور پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 140 ہلاکتوں کے پولیس مقابلوں میں دعوے کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں