چارسدہ میں طالب علم کے ہاتھوں کالج کے پرنسپل کا قتل

فائرنگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں حکام کا کہنا ہے کہ بارہویں جماعت کے ایک طالب علم نے اپنے ہی کالج کے پرنسپل کو پستول سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح چارسدہ کے مضافاتی علاقے شب قدر میں پیش آیا۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس سربراہ ظہور آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ چند دن پہلے نجی تعلیمی ادارے اسلامیہ پبلک کالج کے پرنسپل سریر خان کے اپنے کالج کے ایک طالب علم سید فہیم شاہ سے کسی بات پر زبانی تکرار ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم نے آج سکول کے احاطے میں پرنسپل پر فائرنگ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا۔ تاہم بعدازاں انہیں پشاور منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے۔

پولیس کے مطابق ملزم کو پستول سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق مقتول کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں مبینہ قاتل فہیم شاہ یہ کہہ رہا ہے کہ ’بار بار مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ قتل کرو اور اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے مت ڈرو۔ مجھے مار دو۔‘

اس ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار اس سے پوچھتا ہے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ تم نے چھ کی چھ گولیاں تم نے اسی کو ماری ہے جس کے جواب میں اس نے کہا ’ہاں جی۔‘

جب پوچھا گیا کہ اس میں اس کا کوئی ساتھی تھا اس کے جواب میں فہیم شاہ نے کہا ’نہیں میرا کوئی ساتھی نہیں تھا۔ میں نے خود کیا ہے اور میں قبول کرتا ہوں۔‘

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق سکول کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ ملزم کچھ دنوں سے سکول سے مسلسل غیر حاضر تھا جس پر پرنسپل کی طرف سے ملزم کی ڈانٹ ڈپٹ کی گئی تھی جبکہ اس دوران دونوں کے درمیان معمولی تلخ کلامی بھی ہوئی تھی، لیکن سکول انتظامیہ اس واقعے سے لاعلم تھی جبکہ پرنسپل نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

کالج کے بعض طالب علموں کا کہنا ہے کہ چند دن پہلے دونوں کے مابین کسی بات پر مذہبی بحث ہوئی تھی لیکن بعد میں دونوں آپس میں ہنسی مذاق بھی کرتے رہے جس سے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ دونوں کے مابین کوئی سنجیدہ معاملہ ہے۔

تھانہ شب قدر میں واقعے کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے تاہم ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم نافرمان طالب علم تھا جنہیں پرنسپل اکثر اوقات ڈانٹ ڈپٹ اور نصیحت کرتے تھے۔

خیال رہے کہ مقتول سریر خان حافظ قران تھے اور کالج میں اسلامیات کا مضمون پڑھایا کرتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں