فاٹا میں عدالتوں کو ’کنٹرول‘ کرنے کا اختیار حکومت کے پاس کیوں؟

فاٹا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی سے گذشتہ دنوں قبائلی علاقوں تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی توسیع کے بل کی منظوری پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید ہو رہی ہے۔

بل کو باریکی سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ پارلیمان کی منظوری کے باوجود حکومت اب بھی عدالتوں کو ان علاقوں تک رسائی دینے یا نہ دینے کا اختیار رکھے گی۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل اب منظوری کے لیے ایوان بالا یا سینٹ میں لایا جائے گا اور انہیں توقع ہے کہ شاید اسے جمعے تک پاس کروانے کی کوشش بھی ہو۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے جلدی میں منظور کروائے گئے بل میں دو بڑی خامیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فاٹا اصلاحات کی کہانی

فاٹا اصلاحات، سیاسی آراء منقسم

’پہلی قباحت اس میں یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے بعد چاہے اسے سینیٹ بھی پاس کر دے، صدر اس پر دستخط بھی کر دیں تو بھی اعلیٰ عدالتوں کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک نہیں بڑھے گا اور وہ اسی صورت میں ہو گا جب تک مرکزی حکومت ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے یہ اعلان نہ کر دے کہ فلاں تاریخ سے فلاں علاقے میں یہ نافذ العمل ہو گا۔‘

’حکومت اسے دبا کر بھی بیٹھ سکتی ہے اور اگر چاہے تو اسے بڑھائے ہی نہیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ حکومت اس اختیار کا غلط استعمال کر سکتی ہے۔

’قومی اسمبلی کے بل میں اسے اختیار ہے کہ وہ اسے مخصوص علاقوں یا حتیٰ کہ مخصوص دنوں کے لیے بھی نافذ کر دے۔ یہ بڑی تشویش ناک بات ہے اور اس سلسلے میں نے ایک ترمیم سینیٹ میں جمع کر دیا ہے۔‘

قومی اسمبلی میں بھی یہ بل اس روز یعنی 12 جنوری کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا لیکن اچانک پیش کیا گیا۔ اس پر جعمیت علما اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے اس قدر اُجلت میں بل کی منظوری پر ایوان میں احتجاج بھی کیا تھا۔

اس سے کیا مراد لی جائے کہ حکومت اپنا اختیار دینا نہیں چاہتی؟

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے لیکن ان کے خیال میں اس کے ذریعے شاید حکومت قبائلی علاقوں میں کسی کی رہائی بھی چاہتی ہو۔

’میری مراد ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مقدمے سے ہے۔ جیسا کہ شکیل پر الزام کچھ اور سزا کسی اور وجہ سے ہوئی۔ تو انہیں یہ موقع مل سکتا ہے کہ وہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کر کے رہائی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

فرحت اللہ بابر تسلیم کرتے ہیں کہ ریاست کسی اور طریقے سے بھی شکیل آفریدی کو رہائی دلوا سکتی ہے لیکن جب عدالت انہیں رعایت دے گی تو حکومت یہی کہہ سکے گی کے عدالتیں آزاد ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

فاٹا میں ترقی کے اشاریے
ترقی کا شعبہ فاٹا قومی شرح
شرحِ خواندگی 33.3% 58%
ماہرین کی زیرِ نگرانی پیدائش 29.5% 86%
نوجوانوں میں بےروزگاری 11.8% 10.3%
کچے مکانات کی اوسط 78.4% 34.52%
ٹوائلٹس 38.3% 71%

انھوں نے یاد دلایا کہ خود پیپلز پارٹی کی حکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ سی آئی اے کے کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کو عدالت نے ملکی قانون کے مطابق رہائی دلوائی ہے تو اس میں وہ کیا کرسکتے ہیں۔

سینٹ کا اجلاس اس جمعے تک جاری ہے اور خیال ہے کہ اس بل کو اس وقت تک منظور کروانے کی کوشش ہو گی لیکن اگر فرحت اللہ بابر کی ترمیم منظور کر لی جاتی ہے تو یہ بل دوبارہ قومی اسمبلی کو غور کے لیے بھیجا جائے گا جس سے اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

حکومت نے پہلا مجوزہ بل جو پیش کیا تھا اس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو قبائلی علاقوں تک رسائی کی بات کی تھی لیکن بعد میں عوامی تنقید اور ایوان کی قائمہ کمیٹی کے دباؤ کے نتیجے میں اسے پشاور ہائی کورٹ میں تبدیل کرنا پڑ گیا۔ اس کی وجہ بھی کسی نے آج تک نہیں بتائی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ملوث کرنے کا مقصد کیا تھا۔

اسی بارے میں