پاکستان کے چیف جسٹس کی سکرٹ کے متنازع بیان پر خواتین سے معافی

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of Pakistan

پاکستان کے چیف جسٹس نے خواتین کی سکرٹ کے بارے میں بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے ان الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معافی مانگتے ہیں۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس عدالت میں زیر سماعت ایک مقدمے کی سماعت کے دوران دیے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک کی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور وہ تو ان کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔

اسی بارے میں پڑھیے

چیف جسٹس کے بیان پر شدید تنقید

'عدلیہ آپ کا بابا ہے‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خواتین کا بھی ملکی ترقی میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردوں کا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ اور وکالت کے شعبوں میں خواتین کا کردار مثالی ہے جس کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس نے چند روز قبل کراچی میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ 'تقریر کی طوالت عورت کی سکرٹ کی طرح ہونی چاہیے جو نہ اتنی لمبی ہو کہ لوگ اس میں دلچسپی کھو دیں اور نہ ہی اتنی مختصر کہ موضوع کا احاطہ نہ کر سکے۔‘

تقریر کے دوران چیف جسٹس کے ان ریمارکس کو سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اُنھیں یہ الفاظ واپس لینے کے بارے میں بھی کہا گیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے تقریر کے دوران یہ الفاظ چرچل کے اقتباسات سے لیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption چیف جسٹس کے بیان کو سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا

اس سے پہلے چیف جسٹس نے یوم پاکستان کے موقع پر ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ سرسید احمد خان غالباً پہلے مفکر تھے جنہوں نے دو قومی نظریے کی بات کی تھی کہ بر صغیر میں دو قومیں آباد ہیں جن میں ایک مسلمان ہیں جبکہ دوسرے کا وہ نام بھی نہیں لینا چاہتے۔

ان الفاظ پر بھی چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور انڈیا میں بھی اس معاملے کو کافی اُچھالا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے وکلا کے ایک کنونشن میں تقریر کے دوران چیف جسٹس کے عہدے کو ’رحمت بابا‘ کہتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بابا نہ پہلے کسی کے سامنے جھکا ہے اور نہ آئندہ کسی کے سامنے جھکے گا‘۔

اس پر حکمراں جماعت نے اور سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی آمروں کے عبوری آئینی حکم نامے پر حلف کس نے اُٹھایا تھا اور ان فوجی آمروں کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا۔

اسی بارے میں