پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں کی مشکلات

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ابراہیم حیدری تک جانے کے لیے گاڑی میں تقریباً ایک گھنٹہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔

ابراہیم حیدری کبھی مچھیروں کا ماڈل گاؤں ہوتا تھا لیکن اب یہ سب سے زیادہ بدبو دار جگہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

آپ جیسے ہی سمندر کے قریب ہوتے جاتے ہیں یہاں کا ماحول، بو، مقامات اور آوازیں تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔ جس دن میں نے وہاں کا دورہ کیا وہاں درجنوں بچے اپنی اپنی جھونپڑیوں کے باہر کھیل رہے تھے۔

کئی برسوں کے دوران متعدد آبادیوں جن میں بنگالی بھی شامل ہیں نے یہاں اپنے گھر بنا لیے۔ ان میں سے تقریباً 15 لاکھ بنگالی تقسیم کے بعد سے یہاں رہتے تھے۔

سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی جانب سے آزادی کے اعلان اور بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد دیگر بنگالی اپنے گھروں کو چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے۔

لیکن پاکستان نے انھیں اپنا شہری تسلیم نہیں کیا۔ یہ بظاہر ان کی قومیت کے لیے کچھ بھی نہیں ہے تاہم ایک پیچیدہ تاریخ کا خمار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں بسے بنگالی شناخت کی تلاش میں سرگرداں

'پاکستان چھوڑنا ایسا ہے جیسے اپنے ملک سے جانا ہو‘

زین العابدین پاکستانی بنگالی ایکشن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ہیں۔ وہ ایک نوجوان اور سرگرم سیاست دان ہیں۔ اپنی شلوار قمیض اور واسکٹ سے وہ ایک باقاعدہ پاکستانی آدمی دکھائی دیتے ہیں تاہم ان کے چہرے پر بنگالی جھلک بھی ہے۔

Image caption سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی جانب سے آزادی کے اعلان اور بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد دیگر بنگالی اپنے گھروں کو چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے

زین ہمارے میزبان اور گائیڈ بھی ہیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہاں کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ’یہ ہماری تیسری نسل ہے جو پاکستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی ہے۔‘

زین نے تنگ گلیوں میں میری رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ آبادی اپنا وجود کیسے برقرار رکھتی ہے؟

Image caption شدت پسندی اور دہشت گردی بڑھنے سے سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب جعلی پاکستانی قومی شناختی کارڈ کا حصول تقریباً نا ممکن ہو چکا ہے

زین کے بقول ’سب ٹھیک چل رہا تھا۔ ہم حکام کو رشوت کی مد میں تھوڑی سی رقم دے کر قومی شناختی کارڈ حاصل کر لیتے تھے۔ زندگی آسان تھی۔‘

لیکن شدت پسندی اور دہشت گردی بڑھنے سے سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب جعلی پاکستانی قومی شناختی کارڈ کا حصول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

حکومت نے اپنے شہریوں کی ڈیٹا بیس رجسٹریشن کے لیے بے پناہ وسائل استمعال کیے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں رہنے والی بنگالیوں کے لیے قانون یا ضابطے سے بچنے کے تمام راستے اب بند ہو چکے ہیں۔

عمارہ یوسف اس کالونی میں واقع اپنے گھر میں ایک عارضی سکول چلاتی ہیں۔ انھیں دو سال قبل انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد اپنی پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ انھیں شناختی کارڈ کے بغیر کسی کالج میں داخلہ نہیں مل سکتا۔

Image caption عمارہ یوسف اس کالونی میں واقع اپنے گھر میں ایک عارضی سکول چلاتی ہیں

عمارہ کا کہنا ہے ’کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟ میں پاکستان میں پیدا ہوئی، میرے والدین یہاں پیدا ہوئے، وہ ہمیں شناختی کارڈز دینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں اور ہمیں بنگالی کیوں بلاتے ہیں؟ مجھے اس حوالے سے بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ لیکن ہم بے بس ہیں اور اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘

کسی کو تعلیم تک رسائی نہ دینے کا مطلب اسے اس کے سب سے اہم بنیادی حق سے محروم کرنا ہے۔

عمارہ کو یقین ہے کہ پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی قسمت میں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ غربت اور استحصال کی زندگی گزارتے رہیں۔

پاکستان میں ہر سال ہزاروں بنگالی بچے کالج چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے درجنوں بچوں کو سبزی فروخت کرتے، چائے کے سٹالوں پر کام کرتے اور کریانے کی دکانوں پر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں کسی بھی شہری کے لیے شناختی کارڈ ایک بہت ضروری دستاویز ہے۔ آپ کو نوکری یا پڑھائی کے لیے شناختی کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ شادی کی رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ درکار ہوتا ہے۔ ووٹ ڈالنے، جائیداد خریدنے یا بیچنے کے علاوہ اندورن ملک سفر کے لیے بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہاں سے چند گلیوں دور نسیما اپنے گھر کے چھوٹے صحن میں قالین بنا رہی ہیں۔ ان کے گھر کے دوسرے کونے کے فرش پر ایک چھوٹا چولہا اور چند گندے برتن پڑے ہوئے ہیں۔

ایک دیوار کے قریب قالین بنانے کا ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم کی جگہ اتنی تنگ ہے کہ اس پر کوئی شخض آرام سے بیٹھ کر کام نہیں کر سکتا۔

Image caption نسیما اپنے گھر کے چھوٹے صحن میں قالین بنا رہی ہیں

میں پہلی نظر میں نسیما کو دیکھ نہیں پائی، اس کی جگہ ایک تیز چاقو اور چند انگلیاں اون میں چلتی دکھائی دیں۔ نسیما قالین بنانے کا کام بند کر کے میرے پاس بات کرنی آئیں۔

نسیما کا چہرہ تھکا ہوا لگتا ہے، وہ اپنی عمر سے زیادہ بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ انھیں قالین بنانے میں چار سے چھ ہفتے لگتے ہیں۔ انھیں ایک قالین بنانے کے لیے چھ ہزار پاکستانی روپے ملتے ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا ’میرا بھائی شناختی کاڈر کے بغیر نوکری حاصل نہں کر سکتا۔ میرے والد اپنی پینشن حاصل نہیں کر سکتے تو ہمارے پاس اور کیا آپشن ہے؟ ہم قالین بنا کر زندہ رہ رہے ہیں۔

نسیما میرے ساتھ بات کرتے ہوئے مسلسل اپنے ہاتھوں کو سہلا رہی تھیں۔

انھوں نے کہا ’میرے ہاتھوں کو دیکھیں، میری انگلیوں پر زخموں کے نشان واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اون میرے گوشت سے گزرتی ہے، سردیوں کے موسم میں میرے ہاتھوں میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘

نسیما کے والد اور بھائی پولیس کی جانب سے روکے جانے کے خوف سے اس جگہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ وہ شناختی کارڈ نہ ہونے سے بڑی مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔

ان چھوٹے صعنتی یونٹس میں کام کرنے والے تمام افراد کو استحصال اور بدسلوکی کا خطرے ہے ۔

Image caption ایک دیوار کے قریب قالین بنانے کا ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم کی جگہ اتنی تنگ ہے کہ اس پر کوئی شخض آرام سے بیٹھ کر کام نہیں کر سکتا

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک عام ورکر 12 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تنخواہ لے رہا ہے جبکہ ایک بنگالی ورکر اس کا نصف وصول کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’خواتین فیکٹریوں اور گھروں میں کام کرتی ہیں۔ انھیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ انھیں ان کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسا کچی آبادی کے باہر ہوتا ہے۔

بنگالی کراچی کی مچھلی کی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کمیونٹی ایکٹوسٹ زین العابدین کو یقین ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ وہ سستے مزدور ہیں تاہم انھیں پاکستان کی شہریت دینے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

زین العابدین کے مطابق پاکستان میں رہنے والے بنگالی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔

ان لوگوں کے مطابق ’یہ وہ ملک ہے جہاں ہمارے باپ دادا نے اپنی جان قربانی کی اور ہم نے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا۔‘

اس کے بعد کیا ہوا؟ ایچ آر سی پی کے اسد بٹ اس کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔

’پاکستان میں رہنے والے بنگالیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ بنگہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد نفرت کا شکار ہو گئے ہیں۔ کچھ الگ ہو چکے ہیں اور جو پیچھے بچے ہیں انھیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور غدار سمجھا جاتا ہے۔

یہ فرق واضح طور پر بتاتا ہے کہ کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت نے ان لوگوں کی حمایت کرنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کیونکہ یہ لوگ ان کے ووٹر نہیں ہیں۔

تاہم زین العابدین اپنی کوششیں ترک کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ہمیں یہاں سے جانے پر مجبور کرے اور ہم جائیں گے بھی نہیں، ہم یہاں ہی رہیں گے اور یہاں ہی مریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں