ڈی این اے نے ملزم تو پکڑوا دیا، سزا دلوا پائے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور سے زنیب قتل کیس میں ڈی این اے کی مدد سے ملزم عمران علی کو پکڑ تو لیا لیکن جدید ٹیکنالوجی کیا ملزم کو عدالتوں سے سزا بھی دلوا سکے گی۔

ملزم کو پھانسی دینے کے مطالبات تو ہر طرف سے آ رہے ہیں جس میں قانون سازی کرنے والے ارکان بھی شامل ہیں لیکن ملک کے موجودہ قانون کے تحت شاید صرف ڈی این اے کی ملزم کو پھانسی کے پھندے تک لےجانے کے لیے کافی نہ ہو۔

وکلا کا کہنا ہے کہ ملکی قوانین کے تحت عدالتوں میں ڈی این اے ثانوی شواہد کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے لیکن پرائمری ثبوت نہیں ہے۔

فوجداری مقدمات کے سینیئر وکیل بابر اعوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری یا مرکزی اور ثانوی ثبوت سول مقدمات میں ہوتے ہیں جبکہ فوجداری مقامات میں سبسٹینشیئل یعنی واضح اور کورابوریٹیو یعنی تصدیقی شواہد ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ زنیب کے کیس میں ڈی این اے مرکزی نہیں بلکہ کورابوریٹیو ثبوت ( جس کی تصدیق مزید شواہد کریں) ہے۔

زنیب قتل کیس کے بارے میں مزید پڑھیے

ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کیا ہے؟

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

جیکٹ کے دو بٹن ملزم عمران علی کی گرفتاری میں معاون

قصور واقعے کا ملزم عمران علی کون ہے؟

بابراعوان نے ڈی این اے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں فوجداری مقدمات میں اس طرح کے ثبوت کو اس طرح کورابوریٹیو شواہد کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور مرکزی شواہد میں واقعاتی شہادت ہو سکتی ہے جس میں اعتراف جرم، عینی شاہدین کا بیان ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون شہادت 1984 میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شواہد مکینکل طریقے سے حاصل کیے جائیں وہ قابل قبول تو ہے لیکن یہ کورابوریٹیو یعنی تصدیقی شواہد ہوں گی۔

سینیئر ایڈووکیٹ طیب شاہ نے بھی کہا کہ ڈی این اے مرکزی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے استغاثہ کو مقدمے پر مزید محنت کرنا پڑے گئی کیونکہ موجودہ قانون کی اصلاح میں اسے کورابوریٹیو یا تصدیقی ثبوت ہے اور اس کے ساتھ یہ دیکھنا پڑے گا کہ آیا اس واقعے کا کوئی عینی شاہد بھی ہے جس میں کسی نے ملزم جاتے یا آتے ہوئے دیکھا۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں اگر پورے شواہد موجود ہوں تو پھر عدالتیں پوری سزا دیتی ہیں لیکن اگرکوئی کمی ہو تو عدالتیں سزا کو کم کر دیتی ہیں۔

ایک سوال کے ملزم کے اعتراف کی صورت میں کیس کتنا مضبوط ہو سکتا ہے تو اس پر ایڈووکیٹ طیب شاہ نے کہا کہ اگر ملزم میجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کرتا ہے تو ہمارے قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ ملزم بعد میں دوران تفتیش کیے گئے اعتراف جرم سے انکار بھی کر سکتا ہے تو صرف اس وجہ سے اعتراف جرم بھی مکمل انحصار نہیں کر سکتے۔

زینب کے قتل کے خلاف احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

’عدالت مجموعی شواہد کو دیکھی گئی کہ کس کس الزام کو کس ثبوت نے ثابت کیا اور اسی کی بنیاد پر حتمی نتیجے پر پہنچے گی۔ ‘

طیب شاہ نے کہا کہ ڈی این اے کے شواہد کو قانون میں تسلیم کیا جاتا ہے لیکن عدالت مجموعی شواہد کو دیکھی گئی کہ کس کس الزام کو کس ثبوت نے ثابت کیا اور اسی کی بنیاد پر حتمی نتیجے پر پہنچے گی۔

فوجداری مقدمات کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں ڈی این اے یا ٹیکنالوجی کی بنیاد پر فراہم کیے جانے والے دیگر شواہد کا دفاع مشکل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ڈی این اے کی بنیاد پر تو لوگوں کو کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے قاتل کو پکڑ لیا ہے لیکن اگر یہ مزید ثبوت نہ لا سکے تو یہ ملزم بری ہو جائے گا۔'

ذوالفقار بھٹہ نے کہا کہ'پاکستان میں عام طور پر میڈیکل رپورٹ اور ڈی این اے وغیرہ جیسی چیزوں پر شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے، کیونکہ بعض اوقات پولیس اپنا اثر ورسوخ استعمال کر کے بھی ایسی رپورٹیں لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔'یہی وجہ ہے کہ ان چیزوں کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

کیا ڈی این اے کو مرکزی ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے؟

اس پر ایڈووکیٹ طیب شاہ نے کہا کہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کے معاملے میں ہم باقی ممالک سے صدیوں پیچھے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ معاشرے کے اندر تیزی سے ترقی ہو رہی ہے جس میں نت نئے حالت و واقعات بنتے جا رہے ہیں اور جرائم ہو رہے ہیں تو دوسری جانب ہمارا قانون 18ویں صدی کا ہے۔

ملزم عمران علی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے کہا کہ فوجداری قانون 1998 کا ہے اور پاکستان پینل کوٹ یا تعیزات پاکستان 1860 کا ہے اور اس میں آج کی تاریخ تک بہت معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔

’لیکن کسی بھی دور میں اس بات پر توجہ نہیں دی گئی کہ ہم اپنے قوانین کو آج کے دور کے مطابق بنائیں تاکہ کسی بھی صورتحال کو کور کر سکیں لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے قانون اور تحقیقات کے معیار میں بلاشبہ بہت پیچھے ہیں۔

زینب قتل کیس کے بارے میں مزید پڑھیے

زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ

’آج کے غم کے نام‘

’زینب بیٹا مجھے کبھی معاف نہ کرنا‘

کیا سپریم کورٹ کی جانب سے زینب قتل کیس میں ذیلی عدالت کو ڈی این اے کو مرکزی ثبوت کے طور پر تسلیم کرنے کی ہدایت دیے سکتی ہے ؟

اس پر سینیئر ایڈووکیٹ بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ چونکہ قانون سازی نہیں کر سکتی تو اس صورت میں وہ کسی مقدمے میں آبزرویشن دی سکتی ہے کہ اس کو کس طرح سے ٹریٹ کیا جائے اور اگر کسی جگہ قانون سازی کی ضرورت ہو تو وہ قانون سازی کو کہہ سکتی ہے کہ اسے یوں کر لیا جائے لیکن وہ ہدایت نہیں دی سکتی۔

ایڈووکیٹ طیب شاہ بھی اس موقف سے متفق نظر آئے اور کہا کہ 2016 کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کہا تھا کہ ڈی این اے کے ثبوت پرمکمل انحصار نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں