زینب کیس میں ’چالان کے لیے 90 دن کا وقت نہیں دیا جا سکتا‘، سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شاہد مسعود نے سٹیٹ بینک کی جانب سے اکاؤنٹس نہ ہونے کے بیان پر اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی ایسی خبریں آچکی ہیں جو باؤنس ہوئیں۔

سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس میں تجزیہ نگار شاہد مسعود کے الزامات کی تحقیقات کے لیے الگ کمیٹی تکشکیل دے دی ہے اور پولیس کو جلد ازجلد چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی رجسٹری لاہور میں اتوار کی صبح ہونے والی سماعت میں ملک کے ٹی وی چینلز سے منسلک سینیئر اینکر پرسنز اور اخباروں کے مالکان سمیت سینیئر صحافی پیش ہوئے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق عدالت نے اس کیس کی تفتیشی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ جلد از جلد چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کرے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’پولیس کو چالان پیش کرنے کے لیے 90 دن کا وقت نہیں دے سکتے۔‘

عدالت نے وہاں موجود تجزیہ نگار شاہد مسعود کو کہا کہ انھوں نے جو الزامات اپنے پروگرام میں لگائے تھے انھیں ثابت کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔

عدالت نے کہا کہ اگر شاہد مسعود کے الزامات درست ثابت ہوئے تو ان کی ستائش کی جائے گی اور اگر غلط ثابت ہوئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

عدالت میں شاہد مسعود کے متعلقہ پروگرام کا کلپ بھی چلایا گیا۔

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق عدالت میں سنیئر اینکر پرسنز اور صحافیوں نے بھی غلط خبر دیے جانے اور صحافتی اصولوں پر بات کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال پر کیا کرنا چاہیے۔ تین قوانین میں سزا ہو سکتی ہیں۔ دہشتگردی کا کیس بھی بنتا ہے اور توہین عدالت بھی لگ سکتی ہے۔

مزید پڑھیے

کیا محلے دار ملزم کے بارے میں جانتے تھے؟

ڈی این اے نے ملزم تو پکڑوا دیا، سزا دلوا پائے گا

ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کیا ہے؟

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

اینکر پرسن حامد میر نے عدالت سے کہا کہ ’آپ ڈاکٹر شاہد مسعود کو معافی کو موقع دیں۔‘

تاہم عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔

خیال رہے کہ اینکر پرسن شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران علی کے پاکستان میں 37 سے زیادہ بینک اکاؤنٹس ہیں اور زینب قتل کیس کے پیچھے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ ہے جس کی پشت پناہی ایک وزیر بھی کر رہے ہیں۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے ملزم کے اکاؤنٹس کی اطلاع کی تردید کے بعد سپریم کورٹ نے تجزیہ نگار شاہد مسعود کے الزامات کے لیے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

سپریم کورٹ نے مقتولہ زینب کے والد کو کسی بھی قسم کی پریس کانفرنس سے روک دیا ہے اور کہا کہ انھیں جو بھی شکایت ہے وہ عدالت کو بتائیں۔

خیال رہے کہ صحافتی اداروں سے منسلک سینیئر شخصیات کو تجزیہ نگار شاہد مسعود کے اس دعوے کے غلط ثابت ہونے کے بعد بلوایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PFSA
Image caption ملزم عمران کے کسی گروہ کے ساتھ روابط کا کوئی ثبوت منظر عام پر نہیں آیا تاہم قصور میں بچوں کی فحش ویڈیو میں ملوث گروہ کے خلاف ایک کیس زیر سماعت ہے

پنجاب کی حکومت نے جمعرات کو اس بارے میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے شاہد مسعود کو جمعے کو دو بار طلب کیا تھا تاہم وہ اس کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

جمعے کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا ہے کہ اینکر پرسن نے تحقیقات کے بارے میں غلط خبر دے کر تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش کی اور ان کے لگائے گئے الزامات 'من گھڑت اور بے بنیاد' تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو شاہد مسعود نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم عمران کا تعلق ایک بین الاقوامی گروہ سے ہے جو فحش فلمیں بناتا ہے۔ اُنھوں نے عدالت میں غیر ملکی بینکوں میں 37 اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی پیش کی تھیں جو ان کے بقول ملزم عمران علی کے ہیں۔

سماعت کے دوران اس پروگرام کے میزبان نے عدالت کو بتایا کہ ایک وفاقی وزیر کا بھی ملزم کے ساتھ تعلق ہے۔ جب عدالت نے شاہد مسعود سے اس وفاقی وزیر کا نام پوچھا تو اُنھوں نے کہا کہ وہ کھلی عدالت میں ان کا نام نہیں بتا سکتے تاہم شاہد مسعود نے ایک پرچی پر اس وفاقی وزیر کا نام لکھ کر چیف جسٹس کو پیش کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں