پولیس کو راؤ انوار کے سر کی قیمت مقرر کرنے والے کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پولیس افسر کو دھمکی دی جارہی ہے وہ معطل ہی سہی لیکن ہم شہریوں کو یہ لائسنس نہیں دے سکتے

کراچی پولیس نے ایس ایس پی راؤ انوار کے سر کی قیمت مقرر کرنے والے شخص زرین داوڑ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ حکومت سندھ نے دیگر صوبوں کو خط لکھ کر گرفتاری میں مدد طلب کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے حکام کو یہ خط تحریر کیا گیا ہے، جس میں انھیں آگاہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں ایس ایس پی راؤ انوار کو پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ ایک ایف آئی آر ملزم زرین داوڑ نامی شخص پر بھی دائر کی گئی ہے جس نے راؤ انوار کے سر کی قیمت 50 لاکھ رپے مقرر کی تھی۔

نامہ نگار کے مطابق صوبائی حکومتوں اور گلگت و کشمیر حکام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایس ایس پی ذوالفقار مہر، ایس ایس پی عابد قائم خانی، ڈی ایس پی ازل نور، انسپیکٹر راجہ مسعود اور دیگر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، لہذا راؤ انوار اور زرین داوڑ کی گرفتاری اور سندھ منتقلی میں مدد فراہم کی جائے ۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

نقیب اللہ کا قتل، راؤ انوار کا کمیٹی پر عدم اعتماد

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کی تین روز میں گرفتاری کا حکم

’راؤ انوار طاقتور حلقوں کے بھی نور نظر‘

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ’جو بھی راؤ انوار کا سر لائے گا میں اسے 50 لاکھ روپے انعام دوں گا، راؤ انوار نے ایک ایسی قوم سے پنگا لیا ہے جو پختون ہے۔‘

سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود از خود نوٹس کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی توجہ اس ویڈیو کی جانب کرائی تھی اور سوال کیا تھا کہ کیا انھوں نے سوشل میڈیا پر وائرل یہ ویڈیو دیکھی ہے، مائیک پر آئیں اور سب کو بتائیں کہ وہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نقیب اللہ محسود از خود نوٹس کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی توجہ ایک وائرل ویڈیو کی جانب کرائی

آئی جی نے کمرہ عدالت کو بتایا تھا کہ راؤ انوار کے سر کی قیمت 50 لاکھ رپے مقرر کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں اب اس طرح لوگوں کے سر کی قیمتیں مقرر ہوں گی کیا یہ کلچر معتارف کرایا جائے گا، ہم شہریوں کے حقوق کے محافظ ہیں، یہ ویڈیو 24 گھنٹے سے چل رہی ہے کیا آپ نے کوئی ایکشن لیا؟

آئی جی نے انھیں بتایا کہ یہ ویڈیو راولپنڈی سے اپ لوڈ کی گئی ہے، چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے متعلقہ آئی جی سے رابطہ کیا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ انھوں نے سوال کیا کہ اس میں کون کون سے دفعات شامل ہوسکتی ہے، جس پر آئی جی نے انھیں بتایا کہ 153 اے، 505، 501 پی پی سی اور 61 اے ٹی اے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پولیس افسر کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ معطل ہی سہی لیکن ہم شہریوں کو یہ لائسنس نہیں دے سکتے۔

سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں زرین داوڑ پر ایف آئی آر دائر کرکے گرفتاری کے لیے خط جاری کیا گیا۔

اسی بارے میں