مجھے کیوں نکالا اور توہین عدالت کے نوٹسز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں بد عنوانی کے مقدمات زیر سماعت ہیں

مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات کے علاوہ اب ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی سرعام توہین کے الزامات کا سامنا ہے اور ان کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں دائر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

بدھ کو لاہور ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف تقریر پرتوہین عدالت کے لیے دائر درخواست پر سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

توہین عدالت کی پٹیشن سابق وزیراعظم نواز شریف کے چند دن پہلے پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں عوامی جلسے کے دوران عدلیہ مخالف بیان پر دائر کی گئی تھی جس میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کو فریق بنایا گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’انصاف کا ترازو ہونا چاہیے تحریکِ انصاف کا نہیں‘

’کسی فیصلے کے لیے دباؤ نہیں، ہم کسی منصوبے کا حصہ نہیں‘

نون لیگ کے داؤ پیچ اور اس کا تحلیل ہوتا ووٹ بینک

گذشتہ سنیچر کو جڑانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حسب روایت نواز شریف نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے نااہلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلے کو قوم مسترد کر دے گی اور جب عوام کا فیصلہ ہو گا وہ ہی حمتی فیصلہ ہو گا۔

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ عوام نے انھیں اسمبلی میں بھیجا تو کیا پاکستان میں عوام کے بغیر انھیں کوئی نکال سکتا ہے اور اب یہ کہتے ہیں کہ نااہلی پانچ برس کے لیے ہوئی ہے یا زندگی بھر کے لیے؟۔۔۔’ تم زندگی بھر کے لیے کر لوں میرا اور آپ کا رشتے کوئی نہیں توڑ سکتا۔‘

نواز شریف کی عدلیہ مخالف تقاریر کے حوالے سے پیر کو بھی اسلام آباد ہآئی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر ہوئی تھی جس میں ان کے کوٹ مومن میں کیے گئے جلسے کے دوران عدالت پر تنقید کو جواز بناتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز پر توہین عدالت کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

دوسری جانب لاہور بار ایسوسی ایشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم کی جانب سے عدلیہ مخالف بیانات کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو بار کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی جائے گی۔

لاہور بار ایوسی ایشن کے نائب صدر ایڈووکیٹ راشد لودھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسویسی ایشن اس کے لیے بالکل تیار ہے اور ہم اعلیٰ عدلیہ میں جائیں گے اور اس وقت ایگزیکٹو کمیٹی میں یہ معاملہ زیر بحث ہے جس میں نہ صرف عدلیہ کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں بلکہ آئینی اور قانون راستہ اپناتے ہوئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں پٹیشن دائر کی جائیں گی۔

’جس طرح سے عدالیہ کو بدنام کیا جا رہا، یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے اور عوام کے سامنے عدلیہ کی ساکھ کو بحال رکھنے کے لیے لاہور بار ایسوسی ایشن ہر ممکن اقدامات کرے گی۔‘

راشد لودھی نے عدالتوں میں توہین عدالت کی پٹیشنز کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پٹیشن میں سنگین الزامات عائد کیے جاتے ہیں جس میں عدالتیں شواہد کو دیکھتی ہیں جو ویڈیو ریکارڈنگ اور اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات کی صورت میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم کی جانب سے عدلیہ مخالف بیانات کا سلسلہ 28 جولائی کو نااہلی کے فوری بعد شروع ہو گیا تھا۔

نواز شریف، مریم نواز اور ان کے قریبی رفقا کی طرف سے عدلیہ مخالف بیانوں میں تبدریج تلخی اور تیزی آئی ہے۔ نواز شریف کے خلاف نیب میں جیسے جیسے مقدمات آگے بڑھتے گئے ہیں ویسے ہی نواز شریف اور ان کے قریبی حلقوں کی طرف سے عدلیہ مخالف بیانات میں تیزی آتی گئی ہے۔ تاہم اس میں زیادہ تلخی سپریم کورٹ کی جانب سے دسمبر میں نااہلی کیس میں جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے اور عمران خان کو کلین چٹ ملنے کے بعد نظر آئی۔

اسی ہی دوران سپریم کورٹ نے نواز شریف کی جانب سے نااہلی کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے دائر کردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ سنایا اور اس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے جھوٹا بیان حلفی دیے جانے کو عمومی انداز سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ کی جانب سے عمران حان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دینے کے فیصلے کے بعد نواز شریف کے رویے میں مزید تلخی آئی

اس تفصیلی فیصلے کے ایک دن بعد نواز شریف نے زیادہ سخت زبان کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ کل ان کا بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں سامنے آ گیا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جو الفاظ آئے ہیں اس میں وہ بغض ڈھل گیا ہے۔'

عدالت مخالف بیانات کا تذکرہ جب ٹاک شو کا حصہ بننا شروع ہوا تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دسمبر میں لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کے دوران کہنا پڑا کہ ملکی عدلیہ پر کسی طور پر کسی فیصلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ کسی منصوبے کا حصہ بھی نہیں ہے۔

چیف جسٹس کے وضاحتی بیان کے بعد بھی سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز کے عدلیہ مخالف رویے میں نرمی نہیں آئی ہے اور سابق وزیراعظم کی حالیہ عوامی مہم میں کی جانے والی تقاریر میں عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کے منتخب کردہ نمائندے کو عدلیہ نے وزیراعظم ہاؤس سے نکال دیا اور یہ فیصلہ منظور نہیں۔

اسی بارے میں