فوج اور سویلین ادارے راؤ انوار کی گرفتاری میں مدد کریں: سپریم کورٹ

Image caption عدالت نے حکتم دیا کہ میڈیا ملزم راؤ انوار کا آڈیو یا ویڈیو پیغام نشر یا شائع نہ کریں

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران فو ج اور سویلین خفیہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس مقدمے کے ملزم اور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری میں پولیس کی مدد کریں۔

عدالت نے اپنے حکم میں میڈیا کے لیے بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ملزم راؤ انوار کا آڈیو یا ویڈیو پیغام نشر یا شائع نہ کریں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نقیب اللہ قتل کیس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سندھ پولیس کو ملزم کی گرفتاری کے لیے مزید دس روز کی مہلت دی ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

’راؤ انوار طاقتور حلقوں کے بھی نور نظر‘

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

نقیب اللہ محسود کے قتل کا مقدمہ راؤ انور کے خلاف درج

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے سندھ پولیس کے سربراہ کو تین روز میں ملزم کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جس کی معیاد 30 جنوری کو ختم ہو گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا

سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے کہا کہ پولیس ملزم راو انوار کو گرفتار کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزم راؤ انوار موبائل فون استعمال نہیں کر رہے بلکہ واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی لوکیشن معلوم نہیں ہوسکی۔

سندھ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ ٹریس کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر لوکیشن کا معلوم ہو جائے تو وہ 24 گھنٹوں میں ہی ملزم کو گرفتار کرسکتے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ کمپنی اس سروس کو استعمال کرنے والے کی جگہ کا پتا چلانے کی اجازت نہیں دیتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption راؤ انوار کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے

بینچ کے سربراہ نے سندھ پولیس کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ عدالتی مداخلت کے بغیر ہی نقیب اللہ کے قتل کا مقدمہ درج کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم راؤ انوار خود کو قانون کے سامنے سرنڈر کردیں ورنہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزم کی پشت پناہی کرنے والے بھی شاید قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔

سماعت کے دوران سول ایویشن کے حکام نے ایک رپورٹ پیش کی جو پرائیویٹ طیارے رکھنے والوں سے متعلق ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راؤ انوار ان کے طیارے میں بیٹھ کر فرار نہیں ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں