قصور میں والدین اور اساتذہ بچوں میں جنسی اور جسمانی تشدد میں فرق نہیں کر سکتے: رپورٹ

قصور تصویر کے کاپی رائٹ Punjab University
Image caption نفسیاتی معالج فوزیہ صفدر قصور کے گورنمنٹ ہائی سکول میں ماؤں سے گروپ ڈسکشن کرتے ہوئے

پنجاب یونیورسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قصور میں ایک سال میں بچوں کے جنسی استحصال کے 111 واقعات سامنے آئے لیکن یہ پریشان کن بات ہے کہ اساتذہ اور والدین متعلقہ قوانین سے نابلد ہیں اور جنسی اور جسمانی تشدد میں تفریق ہی نہیں کر سکتے۔

قصور میں گذشتہ ماہ سات سالہ بچی کے قتل اور ریپ کے واقعے کے بعد عمرانیات اور نفسیات ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین نے تین مرتبہ علاقے کا دورہ کیا۔ ان دوروں کا مقصد موجودہ صورتحال اور اس کے بچوں پر اثرات کا اندازہ کرنا، ان سماجی، معاشی اور ثقافتی عوامل کے بارے میں جاننا جو بچوں کے استحصال کی وجہ بنتے ہیں اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا طریقہ کار اور سٹریٹیجی اپنائی جائے کے بارے میں جاننا تھا۔

بی بی سی کو پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے موصول ہونے والی تحریری رپورٹ کے مطابق سکول اور کالج کے بچوں اور اساتذہ کے لیے الگ الگ لیکچرز کا انتظام کیا گیا۔ اس کے علاوہ والدین کو بھی وقت دیا گیا اور ان کے انٹرویوز بھی لیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

اگر کسی بچے کے ساتھ زینب جیسا واقعہ پیش آئے تو والدین کیا کریں؟

قصور: ’ہمیں سکول آنے سے ڈر لگتا ہے‘

پانچ رکنی ٹیم میں شامل نفسیاتی ماہرین کے مطابق چوتھی اور پانچویں جماعت کی طالبات خوف، پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور وہ سکول آنے اور گھر واپس جانے میں بہت خوفزدہ ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قصور میں سماجی، معاشی اور ثقافتی عوامل کی وجہ سے بچوں کا استحصال اور جرائم بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قصور کے مکین اس کا شکار ہونے والوں پر پڑنے والے جسمانی اور ذہنی اثرات سے آگاہ نہیں ہیں۔

کمیونٹی سطح پر بچوں کے استحصال کے حوالے سے کوئی آگاہی نہیں ہے جس کی فراہمی یہاں بچوں سمیت مختلف اداروں میں کام کرنے والوں اور بالغوں کے لیے ضروری ہے۔

والدین اور اساتذہ لاعلم

تصویر کے کاپی رائٹ Punjab University
Image caption بستی چپ شاہ میں بچوں کے ساتھ کیے جانے والے ایک سیشن کا منظر

اس سروے کے مطابق والدین اور اساتذہ جنسی اور جسمانی تشدد کے درمیان فرق یا تمیز نہیں کر سکتے۔

'والدین اور اساتذہ ایسی صلاحیت کے حامل نہیں کہ وہ بچوں کے خلاف جنسی، جسمانی اور جذباتی طور پر ہونے والے استحصال کا ادراک کر سکیں۔'

رپورٹ کے مطابق یہ بہت پریشان کن تھا کہ بہت ہی کم اساتذہ اور والدین میں سے تو شاید ہی کوئی ایسا ہو جو بچوں کے استحصال سے متعلق قانون اور متعلقہ حکام سے آگاہی رکھتا ہو تاکہ مشتبہ شخص کے خلاف رپورٹ کر سکے۔

’این جی اوز کا کردار متاثر کن نہیں'

تصویر کے کاپی رائٹ Punjab University
Image caption کالج کے طلباو طالبات کے ساتھ بھی کاؤنسلگ سیشنز کیے گئے

قصور میں بچوں کے استحصال سے متعلق این جی اوز کے کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ متاثر کن نہیں ہے۔ ’مقامی سطح پر موجود این جی اوز اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مکمل علم، تربیت اور اہلیت ہی نہیں رکھتی۔‘

بتایا گیا ہے کہ قصور میں رسمی طور پر کوئی ایسا طریقہ کار نہیں ہے جسے بچوں کے استحصال سے متعلق اطلاعات دی جائیں اور جو انہیں دیکھے۔

'بچوں اور والدین کو فوری طور پر سماجی اور نفسیاتی سروسز فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔'

ماہر عمرانیات پروفیسر ارشد عباسی نے اساتذہ کو بتایا کہ قانونی اخلاقی اور پیشہ ورانہ طور پر فوری طور پر بچوں کی ہیلتھ کیئر، کونسلنگ اور تھیرپی کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں نجی طور پر بھی لوگوں کی ضرورت ہے جو ایسے کسی بھی مشتبہ عمل کے بارے میں بتا سکیں اور انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ایسے کسی بھی واقعے کی خفیہ طور پر رپورٹ کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں