پاکستان نے افغان طالبان حوالے نہیں کیے ہیں: افغان سفیر

عمر زخیلوال تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جو افراد افغانستان کے حوالے ہوئے وہ عام افغان شہری ہیں جو باقاعدہ دستاویزات وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے پکڑے گئے تھے: افغان سفیر

پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیلوال نے پاکستان کے اس دعوے کو رد کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان نے حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان سے تعلق رکھنے والے شدت پسند افغان حکومت کے حوالے کیے ہیں۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئےافغان سفیر عمر زاخیوال نے کہا کہ افغانستان کے حوالے کیے جانے والے یہ افراد 'وہ عام افغان شہری ہیں جو باقاعدہ دستاویزات وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے پکڑے گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان افراد کا حقانی نیٹ ورک، افغان طالبان یا مطلوبہ افراد کی کسی ایسی فہرست سے کوئی تعلق نہیں جس کا دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک روز پہلے بیان جاری کیا تھا کہ پاکستان نے گذشتہ سال نومبر میں 27 شدت پسند افغان حکومت کے حوالے کیے تھے 'جن پرحقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان سے تعلق کا شبہ تھا'۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا تھا کہ پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک پر دباؤ رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ پاکستانی سرزمین کا افغانستان میں کسی دہشت گردی کے لیے استعمال روک سکیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان سفیر کے اس بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹریک ٹو مذاکرات کی رپورٹ کے اجرا کی تقریب کے دوران ایک سوال کے جواب میں افغان سفیر نے کہا کہ’افغانستان کا 70 فیصد حصہ ہی نہیں، بلکہ 100 فیصد حصہ یعنی پورا افغانستان ہی خطرے سے دوچار ہے۔‘

خیال رہے کہ بی بی سی کی تحقیق کے مطابق افغانستان میں امریکہ کی زیرِ قیادت اتحادی افواج نے جن طالبان کو شکست دینے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے وہ اب ملک کے 70 فیصد علاقوں میں کھلے عام سرگرم ہیں۔

افغان سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر باڑ لگانے کی بجائے ’سڑکیں تعمیر کی جائیں اور عوام میں رابطے بحال کرنے چاہئیں۔‘

گزشتہ روز اہم افغان وفد کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق بات کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور ان کے ہم منصب، خفیہ افغان ایجنسی این ڈی ایس کے سربراہ محمد معصوم ستانکزئی کے درمیان ملاقات وزیر اعظم کی موجودگی میں ہوئی۔ ’پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے کہا ہے کہ وہ اس تاثر کو ختم کریں کہ آئی ایس آئی افغان دشمن ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مثبت اور عملی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

خیال رہے کہ افغانستان کے وزیر داخلہ ویس احمد برمک اور سربراہ این ڈی ایس محمد معصوم ستانکزئی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقات کی تھی۔

آج کابل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے افغان وزیر داخلہ اور این ڈی ایس کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے دورے کے دوران 'طالبان کے خفیہ ٹھکانوں، پاکستان میں ان کی لیڈرشپ کی موجودگی اور شدت پسندوں کے تربیتی مراکز کے حوالے سے ثبوت پاکستان کے حوالے کیے ہیں۔‘

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف آج افغان سفارت خانے پہنچے اور کابل میں ہونے والے حالیہ حملوں میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں