سوات میں فوجی یونٹ پر خودکش حملہ، 11 فوجی ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سوات میں خودکش حملے کے بعد سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے

پاکستانی فوج کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں ایک فوجی یونٹ میں خودکش دھماکہ ہوا جس میں ایک فوجی افسر سمیت 11 اہلکار ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ حملہ ہفتے کی شام کو منگورہ کے قریب واقع قصبے کبل میں آرمی یونٹ کے سپورٹس ایریا میں کیا گیا۔

اس وقت وہاں والی بال میچ کھیلا جا رہا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے میں کیپٹن جہاںزیب ہلاک اور کیپٹن عدیل زخمی ہوئے ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

کبل پولیس کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو سوات کے سیدو شریف ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب دھماکے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے بعد سوات کے ضلعی ہسپتال سیدو شریف میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

منگورہ سے صحافی انور شاہ کے مطابق دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور داخلی اور خارجی راستوں پرگاڑیوں کی چیکنگ کا عمل شروع کردیا ہے، تاہم تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

کبل کا قصبہ سوات کے مرکزی شہر منگورہ سے آٹھ کلومیٹر کی مسافت پر دریائے سوات کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔

یہاں پر قائم آرمی یونٹ سوات سے گزرنے والی مرکزی سڑک کے بالکل ساتھ قائم ہے۔

اس واقعے کے بعد یہ سڑک بند کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے پشاور، اسلام آباد اور دوسرے علاقوں سے آنے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

کبل میں کچھ دن قبل انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے کارروائی کر کے دو مبینہ دہشت گردوں کو حراست میں لیا تھا۔

2008 میں فوجی آپریشن کے بعد سوات کو تحریکِ طالبان کے جنگجوؤں سے پاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد سے وہاں تشدد میں خاصی کمی واقع ہوئی تھی۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں میں سوات میں ہونے والا سب سے بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔

اسی بارے میں