’پہلے نہال، پھر طلال اور اب دانیال‘

مریم نواز شریف ٹوئٹر تصویر کے کاپی رائٹ MaryamNSahrif
Image caption مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے گذشتہ روز اپنی پروفائل پکچر نہال ہاشمی کی تصویر سے بدل دی۔

سوشلستان میں جہاں پشتون قومی جرگے کے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دیے گئے دھرنے کے بارے میں پاکستانی میڈیا پر بلیک آؤٹ کی بات ہو رہی ہے وہیں مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی کی توہینِ عدالت کے جرم میں سزا اور گرفتاری بھی موضوعِ بحث ہے۔ اور شاہ زیب قتل کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تعریف اور امید کی باتیں بھی ہیں۔ انہی موضوعات پر ہم آج سوشلستان میں بات کریں گے۔

’توہینِ عدالت کے قانون کا امتیازی استعمال‘

سپریم کورٹ نے گذشتہ روز دو کیسز میں گرفتاریوں کا حکم دیا جن میں سے ایک شاہ زیب قتل کیس کے مجرم اور دوسرا نہال ہاشمی کی گرفتاری کے احکامات جنہیں عدالت سے ہی گرفتار کر کے لے جایا گیا۔

نہالی ہاشمی کی گرفتاری پر صحافی عمر ضیا نے لکھا 'نہال ہاشمی کی توہینِ عدالت کے جرم میں نااہلی اور ایک مہینے کی سزا خوش آئند ہے۔ یہ ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک وارننگ ہونی چاہیے جو ججز کے وقار کے خلاف مہم چلاتے ہیں اور عدلیہ کی توہین کرتے ہیں۔'

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے لکھا 'میں پارلیمنٹیرینز کی نااہلی پر خوش نہیں ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف نے نہال ہاشمی کو ججز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا اور اب وہ اور اُن کی بیٹی اسی ادارے کے خلاف عوام کو اُکسا رہے ہیں۔'

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے گذشتہ روز فیصلے کے بعد نہال ہاشمی کی تصویر ٹوئٹر پر اپنی پروفائل پکچر کے طور پر لگائی ہے۔

تاہم ایم کیو ایم کے رہنما سید علی رضا عابدی نے ٹویٹ کی کہ 'پی ایم ایل این کی لیڈرشپ نے نہال ہاشمی کو اس دن سے تنہا چھوڑ دیا تھا جس دن سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ انہوں نے قانونی جنگ پارٹی کی کسی بھی قسم کی مدد کے بغیر لڑی۔ بہت سارے تو ان کی نشست کے چکروں میں تھے۔'

سید ثمر عباس نے ٹویٹ کی کہ 'مریم نواز نے نہال ہاشمی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کی تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی پروفائل پر لگا لی۔ مگر وہ میاں نواز شریف جن کی محبت میں یہ جیل گئے، پانچ سال کے لیے نااہل ہوئے ان کے منہ سے ہاشمی کے لیے ایک جملہ تک نہ نکلا۔'

تاہم اس فیصلے کے حوالے سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ صحافی عمر چیمہ نے لکھا 'نہال ہاشمی نے غیر مشروط معافی نامہ پیش کیا اور کہا میں اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔ عدالت نے اس تحریری معافی میں دو دفعہ تصحیح کرائی اور اگلی پیشی پر اس تصحیح شدہ معافی کو بھی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے جیل بھیج دیا۔'

معروف وکیل اور سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے لکھا 'نہال ہاشمی کے لہجے اور الفاظ کا دفاع ممکن نہیں مگر توہین کے قانون کا امتیازی استعمال انصاف کے نظام پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مختلف ٹوئٹر اکاؤنٹس پر خادم حسین رضوی کی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس میں وہ ججز کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں

اسی فیصلے پر تنقید کرنے والوں نے لکھا کہ اس سے قبل بھی مختلف توہین عدالت کے مقدمات میں عدالت کی جانب سے برتا جانے والے رویہ اتنا سخت نہیں تھا جس میں مختلف ٹوئٹر اکاؤنٹس تحریکِ لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی کی ایک تقریر کی ویڈیو شیئر کر رہے ہیں جس میں وہ عدلیہ کے اعلیٰ ججز کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔

اسی طرح مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر لکھا جا رہے کہ سپریم کورٹ کو انہیں بھی نوٹس جاری کرنے چاہیئں جن میں سے دو وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کو سپریم کورٹ توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر کے سماعت کے لیے دن مقرر کر چکی ہے۔

تاہم عدالت عظمیٰ کو یہ بات یاد دلانے والوں کی کمی نہیں جیسا کہ عثمان منظور نے لکھا کہ 'پی سی او ججز کے خلاف عدالت نے توہین کے نوٹس گذشتہ مہینے میں ہی واپس لے لیے تھے جنہوں نے نہ ہی معذرت کی اور نہ ہی اپنے کیے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ اور ان کے خلاف آئین کی پامالی جیسے سنگین الزامات تھے۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر کے مرکز میں واقع ایک کھیل کے میدان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں وکلا کے چیمبرز بنائے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل اس میدان میں کھیلوں کی سرگرمیاں ختم کر دی گئیں کیونکہ اسے پارکنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تصویر کے کاپی رائٹ United Nations
Image caption اقوامِ متحدہ کے تحت کانگو میں کام کرنے والے غیر ملکی فوجی ایک پاکستان فوجی نائیک نعیم رضا کو عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں