سوات ڈی ریڈیکلائزیشن: 'لوگ بات نہیں کرتے تھے کہ یہ دہشتگردوں کا ساتھی ہے'

پاکستان کی فوج سوات میں فوجی آپریشن کے بعد آٹھ برس کے عرصے میں تقریباً تین ہزار افراد کو انتہاپسندانہ سوچ کے خاتمے کے پروگرام سے گزار کر معاشرے کا دوبارہ حصہ بنانے کی کوشش کر چکی ہے تاہم ان افراد کا کہنا ہے کہ معاشرہ انھیں آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

وادی سوات میں سنہ 2009 میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد چار ایسے بحالی مراکز قائم کیے گئے تھے جہاں طالبان کے ان ساتھیوں کی تربیت کی جاتی تھی جنھوں نے ہتھیار ڈالے اور ان کے خلاف کوئی بھی جرم ثابت نہ ہو سکا تھا۔

وزارت دفاع کے مطابق اب تک 39 پروگرامز میں تقریباً تین ہزار افراد ان ڈی ریڈیکلائزیشن یعنی انتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے کے ان تربیتی مراکز سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔

وزارت دفاع کے مطابق ان افراد میں سے کوئی بھی دوبارہ کسی دہشت گرد تنظیم یا ایسی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق ان افراد میں صرف ایک فیصد ایسے ہیں جن سے تربیت کی تکمیل کے بعد دوبارہ رابطہ نہیں ہو سکا یا ان کے بارے میں سکیورٹی ادارے لاعلم ہیں۔

سوات میں قائم ان چار مراکز میں سے اب صرف ایک فعال ہے۔ اس مرکز کے پہلے پروگرام کا حصہ رہنے والے گل خان (فرضی نام) کہتے ہیں کہ اس مرکز سے نکلنے کے بعد ان کے اردگرد موجود لوگوں نے انھیں قبول نہیں کیا تھا اور انھیں ’معاشرے میں اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگ گئے۔‘

'لوگ مجھ سے بات نہیں کرتے تھے کہ یہ دہشتگردوں کا ساتھی ہے'۔

یہ بھی پڑھیے

سوات میں فوجی یونٹ پر خودکش حملہ، 11 فوجی ہلاک

سوات کی حرا اکبر چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد

مالم جبہ میں اب طالبان نہیں سیاح نظر آتے ہیں

ڈاکے اور بھتے سے رقم اکٹھی کی، پاکستانی طالبان کا اعتراف

اس سوال پر کہ کیا طالبان یا ایسی کسی تنظیم کی جانب سے ان سے دوبارہ رابطہ کیا گیا، گل خان کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تاہم ’سوات میں کئی دوسرے ہتھیار ڈالنے والوں کو طالبان واپسی کے لیے بھی بلاتے رہے ہیں اور دھمکیاں بھی دیتے رہے لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی۔‘

گل خان نے سوات میں طالبان کے ساتھ تقریباً ایک سال کام کیا اور پھر ایک دن چھپ کر پنجاب کے شہر اٹک میں پناہ لی۔ گل خان نے فوج کے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد خود کو حکام کے حوالے کیا تھا۔

گل خان نے بعد میں سوات کے اسی مرکز سے تربیت حاصل کی اور اس وقت وہ خیبرپختونخوا میں ہی ایک دکان چلاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک بھر میں، جہاں شدت پسندی کے واقعات نہیں ہوتے ایسے علاقوں میں یہ تربیت ضروری ہے کہ نوجوانوں کو دہشت گردی اور جہاد میں فرق بتایا جائے۔ 'بازار میں آتے جاتے لوگوں کو مار دینا کہاں کا جہاد ہے؟ یہ تو دہشت گردی ہے۔‘

وزارت دفاع کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستانی فوج کے زیر انتظام ملک بھر میں پانچ ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز کام کر رہے ہیں، یہاں آنے والے افراد کی نفسیاتی، معاشرتی اور انتہاپسندانہ مذہبی رحجانات سے متعلق تعلیم و تربیت دی جاتی ہے جبکہ متعلقہ افراد کے اہلخانہ بھی اس تربیت کا حصہ بنتے ہیں تاکہ ان کی شدت پسندانہ سوچ کو ختم کیا جا سکے۔

ان مراکز سے فارغ التحصیل افراد کی کئی سالوں تک نگرانی بھی کی جاتی ہے جبکہ ان کے اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل رابطے کے علاوہ بسا اوقات فوج ان کی مالی مدد بھی کرتی ہے۔

'بس یہ بتایا جاتا کہ فوج دشمن ہے‘

2010 میں سوات میں ہی زیر تربیت رہنے والے ایک اور نوجوان بلال (فرضی نام) سے بھی ہماری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے سوات میں فوجی آپریشن کے بعد خود کو پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا تھا۔

جب وہ طالبان کے ایک تربیتی کیمپ کا حصہ بنے تو ان کی عمر تقریبا چودہ سال تھی اور وہ نویں جماعت کے طالبِ علم تھے۔

'اس ٹریننگ کیمپ میں بچے بھی تھے اور بڑے بھی۔ صبح فجر کی نماز کے بعد وہ پہلے ہماری دوڑ لگواتے اور پھر کلاشنکوف چلانا سکھاتے'۔

بلال کے مطابق وہ کچھ دن وہاں موجود رہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی زندگی کے 'بدترین' دن تھے۔ 'بس یہ بتایا جاتا کہ فوج دشمن ہے اور امریکہ کی ساتھی ہے، اس لیے فوج کے خلاف لڑنا ہے'۔

بلال کہتے ہیں کہ ایک دن وہ سالانہ امتحان کا بہانہ کر کے گھر پہنچے اور پھر ان کے والد نے انھیں کراچی بھیج دیا تاکہ وہ دوبارہ طالبان کے ہاتھ نہ آ سکیں۔

وہ بھی اتفاق کرتے ہیں کہ بحالی کے بعد بھی مشکلات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ 'اردگِرد موجود لوگوں میں خوف و ہراس ہے جو طالبان کی وجہ سے ان کے دلوں میں بیٹھ گیا ہے'۔ تاہم بلال خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ان کے اہلخانہ کی جانب سے مکمل حمایت بھی رہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان سمیت سوات کی 'ایک پوری نوجوان نسل تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئی'۔

بلال کے خیال میں تعلیمی اداروں کے نصاب میں 'انتہا پسندی اور جہاد کی وضاحت ہونا ضروری ہے کیونکہ طالبان نے یہاں دین کے نام پر شہریوں کو بیوقوف بنایا تھا'۔

’انتہا پسندی معاشرے میں سرایت کر گئی ہے‘

اسی بارے میں جب پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سربراہ احسان غنی سے پوچھا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ 'بدقسمتی سے بعض صوبوں کی جانب سے نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے کچھ مشکلات کا سامنا ہے'۔

وہ کہتے ہیں کہ 'مدرسہ اور سکولوں دونوں میں ہی اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ سکول ، کالج اور یونیورسٹیز بھی بہت سی جگہوں پر ناکام ہوئے ہیں'۔

احسان غنی کے مطابق کئی دہائیوں سے پنپتی انتہا پسندی کی سوچ کے خاتمے میں وقت لگے گا۔ 'اس ضمن میں بعض اداروں نے انفرادی سطح پر کوششیں کی ہیں، جیسا کہ فوج نے چند ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز کھول دیے یا حکومتِ پنجاب نے بھی کچھ کام کیا ہے لیکن اجتماعی سطح پر کوئی کوشش نہیں کی گئی۔`

احسان غنی کہتے ہیں کہ اب نیکٹا نے اس بارے میں کام شروع کیا ہے اور 'تین سو سٹیک ہولڈرز سے بات چیت بھی کی گئی ہے کہ معاشرے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی انتہاپسندی کو ختم کیا جاسکے'۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’یہ انتہا پسندی تین چار دہائیوں میں معاشرے میں سرایت کر گئی ہے، جسے ختم کرنے کے لیے کام ہو رہا ہے مگر اس میں وقت لگے گا۔‘

اسی بارے میں