اسلام آباد میں نقیب اللہ قتل پر دھرنا: 'فوج کی مداخلت کے بغیر شاید یہ احتجاج بھی ختم نہ ہو‘

پاکستان

اسلام آباد کا قومی پریس کلب گذشتہ پانچ روز سے ایک جلسہ گاہ بنا ہوا ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ارگرد کی سڑکیں بند ہیں۔ ایف سکس سیکٹر کے رہائشی مسلسل شور سے کافی تنگ ہوں گے لیکن کسی نے ابھی تک شکایت نہیں کی ہے۔

شور کی ایک وجہ بھڑکیلی تقاریر بھی ہیں لیکن قبائلی گلوکار شوکت عزیز شوکت کی آواز میں جو جذبات پشتو ترانہ 'یہ کیسی آزادی ہے؟' ابھار رہا ہے وہی سب سے زیادہ سنایا جا رہا ہے۔

'نوجوان مارے جا رہے ہیں یہ کیسی آزادی ہے؟

گھر تباہ ہو رہے ہیں یہ کیسی آزادی ہے؟

انقلاب انقلاب۔'

نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل اور اس حوالے سے مزید خبریں پڑھیں

نقیب اللہ کی ’پولیس مقابلے میں ہلاکت‘ کا ازخود نوٹس

’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘

’فوج اور سویلین ادارے راؤ انوار کی گرفتاری میں مدد کریں‘

تاہم خوش قسمتی سے اب تک یہ احتجاج یا انقلاب پرامن ہے۔ احتجاج میں شریک ایک قبائلی نوجوان نے فخر سے کہا کہ کیا اس تمام احتجاج میں ایک گملہ بھی ٹوٹا ہے؟ 'ہم امن کے خواہاں لوگ ہیں۔ ہمیں پیش غلط انداز میں کیا جاتا ہے۔'

جلسہ گاہ میں روایتی وزیرستانی پگڑی اور گرم ٹوپی وافر تعداد میں دکھائی دیتی ہیں اور محسود قبائلیوں کی لمبے گیسوؤں سے محبت بھی یہاں عیاں ہے۔

جنوبی وزیرستان کے 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود کے کراچی میں 13 جنوری کو پولیس کے ہاتھوں مبینہ ماورائے عدالت قتل نے قبائلیوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا اور پرزور احتجاج کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ویسے تو سارا دن جلسہ گاہ میں چہل پہل جاری رہتی ہے لیکن اصل جوش مغرب کی نماز کے بعد دیکھا جاتا ہے۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے آئے ہوئے ایک قبائلی سے پوچھا کہ وہ کیوں آئے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد علاج کے لیے ایک مریض لائے تھے لیکن ہر شام وہ اس احتجاج میں شرکت کو یقینی بناتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارا مسئلہ ہے اور ہم اسے میڈیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔‘

تاہم بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہی سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس احتجاج کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ ان کی مالی مدد کون کر رہا ہے؟

انھی سوالات لے کر میں قبائلی صحافی گوہر محسود کے پاس پہنچا تو انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ نقیب اللہ (جن کا اصل نام نسیم محسود تھا) کی ہلاکت سے پہلے ہی قبائلیوں میں بارودی سرنگوں سے روزانہ ہونے والے جانی نقصانات پر غم و غصہ بھرا ہوا تھا۔

'سوشل میڈیا پر بارودی سرنگ کا شکار ہوئے دو بچوں کی تصاویر نے لوگوں کا ضمیر ہلا دیا۔ دو فروری کو اس سلسلے میں اسلام آباد میں دھرنے کی بات ہو رہی تھی کہ نقیب اللہ کے اغوا کی کہانی سامنے آ گئی۔ نوجوانوں نے پہلے سے کہنا شروع کر دیا کہ نقیب کی لاش ملے گی اور میڈیا پولیس کی دی ہوئی یہ خبر چلائے گا کہ ایک اور دہشت گرد مارا گیا۔'

بدقسمتی سے ہوا بھی کچھ یوں ہی۔ جو خدشات تھے کہانی نے وہی موڑ لیا۔ سوشل میڈیا میں تو پہلے سے آگ لگی تھی اور قبائلی صحافیوں کے بقول پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ٹویٹ نے اسے قومی میڈیا بنا دیا جس نے بھی بالاخر اس کی کوریج شروع کر دی۔

وزیرستان سے انصاف کی تلاش میں روانہ ہونے والی احتجاجی ریلی اسلام آباد پہنچی تو اس میں کئی دیگر ماورائے عدالت قتل کیے جانے والوں کے رشتہ دار بھی پہنچ گئے۔

ان میں ڈیرہ غازی خان میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے طارق کے والد اور بھائی بھی اپنے بینرز اٹھائے انصاف کا تقاضا کرتے نظر آئے۔ بڑے بھائی عبدالمجید سے واقعے کی تفصیل جاننا چاہی تو انہوں نے بتایا کہ ان کا چھوٹا بھائی جو ایک چھ ماہ کی بیٹی کا باپ بھی تھا، اسے مبینہ طور پر پولیس نے ایک وڈیرے کے کہنے پر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا۔

'ہماری مدد کے بجائے الٹا پولیس نے کیس ہم پر بنا دیا کہ وہ ملزم کو آلہ واردات کی بازیابی کے لیے لے جا رہے تھے کہ راستے میں اس کے بھائیوں اور چچا نے ان پر حملہ کر دیا جس میں وہ ہلاک ہوا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہم تو اپنے گھروں پر تھے۔'

جب پوچھا کہ یہاں آ کر کیسا محسوس ہو رہا ہے اور کیا انصاف ملنے کی امید ہے جب سب بات نقیب کی کر رہے ہیں؟ عبدالمجید نے کہا نہیں ان کی بات بھی کی جا رہی ہے اور وہ پرامید ہیں کہ انہیں بھی انصاف ملے گا۔

اس قبائلی احتجاج کے پیچھے کون ہے؟ کیا چند نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں ہی تحریک بن گئی یا کوئی اور وجہ ہے؟ یہ جاننے کی کوشش ریاستی ادارے بھی کر رہے ہیں۔ قبائلی صحافی گوہر محسود کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں لشکر کی روایت بڑی مضبوط ہے۔

'جب کسی پر مشکل آتی ہے تو سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ نقیب انتہائی غریب خاندان سے تھا۔ اس سے جو ہوا سب نے سمجھا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ ہوا ہے۔ سابق بیوروکریٹس، فوجی اہلکار، سینیئر صحافی اور سیاستدان سب اکٹھے ہوگئے۔‘

اتنے بڑے احتجاج کا انتظام کرنے کے لیے رقم بھی چاہیے ہوتی ہے، تو یہ کہاں سے آ رہی ہے؟ حکومتی اداروں کو شک ہے کہ کہیں بین الاقوامی این جی اوز یا سیاسی جماعتیں تو اس کے لیے پیسے نہیں دے رہی ہیں؟ تاہم گوہر محسود اس سے انکار کرتے ہیں۔

'کراچی میں محسود کاروباری طبقہ کافی مالدار ہے۔ان میں سے چند ارب پتی ہیں۔ ان سب نے تیس تیس لاکھ تک دیے ہیں۔'

اسلام آباد کی حد تک بھی عام شہریوں نے اپنے طور پر قبائلیوں کی مدد شروع کر رکھی ہے۔ فیس بک پر ایک پیغام کے مطابق سردی کے اس موسم میں احتجاج کرنے والوں میں گرم چادریں تقسیم کی گئی ہیں۔

احتجاج کو غیرسیاسی رکھنے کی خاطر دھرنے میں کسی سیاسی جماعت کا پرچم نہیں ہے لیکن سیاستدان ایسا موقع کہاں چھوڑتے ہیں اور روزانہ تقاریر کے لیے آ رہے ہیں لیکن اظہار ہمدری کے ساتھ ساتھ اپنا ایجنڈا بھی بڑھاتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی اسی قسم کی تقریر کی اور کشمیر میں قبائلیوں کے کردار پر روشنی ڈالی لیکن بدلتے حالات میں اب پاکستان کے قبائلی اب اور زیادہ استعمال ہونا نہیں چاہتے ہیں۔

ریاستی اداروں اور خود قبائلیوں کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں ان کا احتجاج کوئی ہائی جیک نہ کر لے۔

منتظمین اس سلسلے میں کافی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور دھیان رکھ رہے ہیں کہ نہ صرف کس کو بولنے دیا جائے اور کیا بولا جائے بلکہ کون سے نعرے لگنے چاہییں اور کون سے نہیں۔

حکومت جلد از جلد سابق ایس ایس پی انوار راؤ کی گرفتاری کی یقین دہانی کروا چکی ہے لیکن لگتا ہے یہ کہ سیاسی حکومتوں کے کمزور ردعمل اور راؤ انوار کی گرفتاری میں تاخیر سے فوج کی مداخلت کے بغیر شاید یہ احتجاج بھی ختم نہ ہو۔

اسی بارے میں