’قومی ایکشن پلان سست روی کا شکار ہے‘: نیکٹا سربراہ احسان غنی

پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سربراہ احسان غنی کا کہنا ہے کہ قومی ایکشن پلان میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کےخاتمے پر سب سے کم کام کیا گیا ہے جبکہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر بھی مسائل کا سامنا ہے۔

بی بی سی اردو کو اس حوالے سے دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی پر بھی اعلیٰ سطح پر بات چیت ہو رہی ہے جبکہ کریمینل جسٹس سسٹم میں اصلاحات پر کام بھی سست روی کا شکار ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2015 میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے 16 وزارتی کمیٹیاں جبکہ صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں بنائی گئیں۔

احسان غنی کے مطابق نیکٹا کے ذمے اس عملدرآمد سے متعلق اعداد و شمار کو حاصل کرنا، ماہانہ اجلاس کرنا اور یہ مانیٹر کرنا تھا کہ کن حصوں پر کام سست روی کا شکار ہے اور صوبوں یا ایجنسیوں کے درمیان روابط میں موجود مسائل کو ختم کرنا تھا۔

مزید پڑھیے

'لوگ بات نہیں کرتے تھے کہ یہ دہشتگردوں کا ساتھی ہے'

عوام کالعدم تنظیموں کو چندہ نہ دیں: حکومتی انتباہ

’کونسی طاقتیں ان تنظیموں کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں؟‘

’نیکٹا‘ کے تحت انٹیلیجنس ڈائریکٹریٹ کے قیام کا فیصلہ

لیکن ان تمام جائزوں اور مانیٹرنگ کے بعد قومی ایکشن پلان پر اب تک کس حد تک عملدرآمد ہوا؟ اس سوال پر نیکٹا کے سربراہ کے پاس واضح جواب تو نہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر اطمینان بخش کام ہوا جبکہ کچھ پر سست روی کا شکار ہے۔

’قومی ایکشن پلان کے دو حصے تھے جہاں ایکشن لینا تھا وہ تو فوری ہو گئے لیکن جہاں مختلف پراسس پر کام ہونا ہے وہ بتدریج ہو رہا ہے'۔

کالعدم تنظیموں کی فنانسنگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایسی تنظیموں اور شیڈول فور میں شامل افراد کے پانچ ہزار اکاؤنٹس بند کیے گئے ہیں جبکہ تقریباً تین سو ملین روپے منجمد کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم ملکی یا بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دی گئی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال پر انھوں نے صوبوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا گیا'۔

ان کے مطابق اس پر مکمل عملدرآمد کی صورت میں شیڈول فور میں شامل یا کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کسی پارک، سکول، حتیٰ کے ریلوے سٹیشن کے قریب بھی نہیں جا سکتے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس لاہور میں ضمنی انتخابات کے دوران انتہائی دائیں بازو کی تنظیم تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار نے بطور آزاد امید وار حصہ لیا جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت الدعوۃ کے حمایت یافتہ شیخ یعقوب نے بھی ضمنی انتخاب میں حصہ لیا تھا۔

حافظ سعید نے ملی مسلم لیگ کے نام سے پارٹی کا اعلان بھی کیا ہے۔ ملی مسلم لیگ ابھی سیاسی جماعت کی حیثیت سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہوسکی ہے اور وفاقی وزارت داخلہ نے بھی اس کی رجسٹریشن کی مخالفت کی ہے۔

سربراہ نیکٹا احسان غنی نے اس تاثر کی تردید کی کہ انٹیلی جنس ادارے نیکٹا کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ تاہم جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ یہ ڈائریکٹوریٹ ابھی قائم نہیں ہوا 'امکان ہے کہ رواں برس اس پر کام مکمل ہو جائے گا اور یہ جون میں کام کا آغاز کر دے گا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

واضح رہے کہ دسمبر 2016 میں اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ نے پاکستان کے ایوانِ بالا کو بتایا تھا کہ یہ ڈائریکٹوریٹ بن چکا ہے اور اس کے سربراہ کے طور پر پاکستانی فوج کے ایک بریگیڈیر کو تعینات کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مدارس کے بعد اب عبادت گاہوں کی جیو میپنگ کا کام شروع کیا جا رہا ہے جس میں ملک بھر میں ہر مذہب اور مسلک کی عبادت گاہوں سے متعلق تفصیلی ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔

تاہم تعلیمی اداروں اور مدارس میں نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے احسان غنی کہتے ہیں کہ اس معاملے پر صوبوں کو تحفظات ہیں۔

'مجھے زیادہ علم نہیں کہ صوبوں کو نصاب میں کیا ایشوز ہیں لیکن بدقمستی سے نیکٹا اور صوبوں کے درمیان اس معاملے پر تناؤ کی صورتحال ہے۔ کیونکہ صوبوں کو یہ تحفظات ہیں کہ تعلیم اب صوبوں کا شعبہ ہے'۔

انھوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر یا مواد کی اشاعت روکنے سے متعلق آئندہ ہفتے نیکٹا ایک موبائل فون ایپ بھی لانچ کر رہا ہے جس کے ذریعے شہری کسی بھی نفرت انگیز مواد یا تقاریر کی فوری اطلاع دے سکیں گے۔

اسی بارے میں