اسلام آباد ہائی کورٹ نے بچیوں کی تصاویر دکھانے پر جواب مانگ لیا

احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی بچیوں اور ان کے رشتہ داروں کو میڈیا پر دکھانے کے بارے میں وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات و نشریات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سے جواب طلب کیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم ایک درخواست پر دیے جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں سات سالہ بچی زینب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں چار سالہ بچی اسما کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد اور اُنھیں قتل کیے جانے کے بعد مقامی میڈیا پر ان کی تشہیر کی گئی۔

درخواست گزار شرافت علی نے موقف اختیار کیا کہ ان دو واقعات کے بعد مقتولین کے ورثا کی الیکٹرانک میڈیا پر تشہیر کی جا رہی ہے جو کہ نہ صرف خلاف قانون ہے بلکہ اس کی وجہ سے مقتولین کے ورثا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

زینب کیس: ’چالان کے لیے 90 دن کا وقت نہیں دیا جا سکتا‘

’زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ وہ تو اس میں مثاثرہ فریق نہیں ہیں جس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جب ان متاثرہ بچیوں کے ورثا کو ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے تو اس سے ان کے اہلخانہ ذہنی طور پر متاثر ہو جاتے ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان بچیوں کے ورثا کو صرف ایک مرتبہ نہیں بارہا ٹی وی پر دکھایا جاتا رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ان کے گھر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ لاکھوں افراد متاثرہ خاندانوں کی میڈیا پر تشہیر سے متاثر ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ریپ کا شکار بچیوں کی شناخت کو ظاہر کرنا بھی ایک قابل سزا جرم ہے لیکن اس معاملے میں تو ان کے ورثا کو بھی میڈیا پر دکھایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس کو سامنے رکھتے ہوئے میڈیا ہاوسز بھی ایسے واقعات کی کوریج کے لیے پالیسی مرتب کریں۔

عدالت نے اس درخواست پر وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات اور پیمرا کے حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے 15 روز میں جواب طلب کیا ہے۔

اسی بارے میں