نواز شریف کا نااہلی کے بعد انتخابی اصلاحات کے مقدمے میں بھی فریق بننے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے انتخابی اصلاحات سنہ2017 کے بل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت میں عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے بھی درخواستوں میں بھی فریق بننے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے اس جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ اس میں درخواست گزار نہیں ہیں اور اگر وہ درخواست گزار ہوتے تو وہ اس عدالتی کارروائی سے الگ ہونے کے بارے میں درخواست ضرور دیتے۔

سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے انتخابی اصلاحات کے بارے میں قانون سازی کی ہے اور پارلیمنٹ سب سے مقدم ادارہ ہے۔

* کیا نواز شریف نے انتقام لے لیا ہے؟

اپنے جواب میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ نااہلی کی مدت کا تعین کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے اس پانچ رکنی بینچ میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں جو ان کی نااہلی کے بارے میں فیصلہ دے چکے ہیں۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تو یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا وار ان کی نااہلی آئین میں آرٹیکل 62 ون ایف تحت ہوئی تھی۔ آئین میں اس قانون کے تحت ہونے والی نااہلی کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے جس کی وجہ سے یہی تصور کیا جاتا ہے کہ یہ نااہلی عمر بھر کے لیے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کو عدالت نے روسٹم پر بلایا اور کہا کہ اُنھوں نے گذشتہ سماعت کے دوران کہا تھا کہ نواز شریف ان درخواستوں میں عدالتی کارروائی کا حصہ بنیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا جس پر راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ ان کی جماعت کی طرف سے عدالتی کارروائی کا حصہ بنیں گے۔

درخواست گزار شیخ رشید احمد کے وکیل نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا اور اسی نااہلی کے بعد حکمراں جماعت نے انتخابی اصلاحات اور پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں ترمیم کرکے ایسے شخص کو پارٹی کا صدر بنا دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ جو شخص رکن پارلیمان بننے کی اہلیت پر پورا نہ اترتا ہو وہ کیسے کسی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی میں تمام جماعتوں نے حصہ لیا ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے اس ترمیم کے حق میں کسی نے مخالفت میں ووٹ دیا ہے اس لیے سب کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ان درخواستوں پر فیصلہ دے گی۔

سپریم کورٹ کے وکیل کامران مرتضی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وہ سپیکر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی چیئرمین کی طرف سے ان درخواستوں میں فریق بننا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ چونکہ وہ ان درخواستوں میں فریق نہیں ہیں اس لیے اُنھیں فریق نہیں بنایا جاسکتا۔

اسی بارے میں