مشال قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت،پانچ کو عمرقید

مشال خان قتل کیس پر عدالت کا فیصلہ
Image caption بدھ کو عدالت میں 57 ملزمان کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا

خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کی جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول پر گولی چلانے والے عمران علی کو سزائے موت جبکہ پانچ دیگر مجرمان کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے 25 دیگر مجرموں کو چار، چار سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ 26 دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔

صوابی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبا اور یونیورسٹی کے کچھ ملازمین پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ رسالت کے الزامات لگانے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

مزید پڑھیے

مشال خان قتل کیس کا فیصلہ: کب کیا ہوا؟

مشال خان قتل کیس کے اہم مجرمان کون ہیں؟

’اتنی شہادتوں کے بعد 26 ملزمان کیسے رہا ہوگئے!‘

مشال خان کے قاتل کا عدالت میں جرم کا اعتراف

پولیس نے اس مقدمے میں کل 61 ملزمان کو نامزد کیا تھا جن میں سے 58 زیرِ حراست اور تین مفرور ہیں۔ بدھ کو عدالت میں 57 ملزمان کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان خان نے مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات اور وکلا کی بحث کے بعد گذشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران پچاس کے لگ بھگ گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔

ہری پور میں موجود نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے جج فضلِ سبحان خان نے مرکزی ملزم عمران علی کو جرم ثابت ہونے پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات اے کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مشال خان کے بھائی اور والدہ نے صوابی میں ایک پریس کانفرنس کی

عمران علی کو پانچ برس قید بامشقت کی سزا بھی سنائی گئی ہے جبکہ انھیں ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

عدالت نے پانچ ملزمان بلال بخش، فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان اور مدثر بشیر کو عمرقید کی سزا سنائی جبکہ ان مجرمان کو دو، دو لاکھ روپے جرمانہ بھی دینا ہوگا۔

اپنے فیصلے میں عدالت نے 25 ملزمان کو دو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر چار برس قید بامشقت کی سزا دینے کا حکم دیا ہے جبکہ 26 ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

بری ہونے والے افراد کے بارے میں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ملزمان نے مشال خان پر تشدد میں حصہ نہیں لیا اور وہ یا تو وہاں کھڑے تھے یا پھر ویڈیوز بنا رہے تھے۔

فیصلہ میں جج نے یہ بھی کہا ہے کہ استغاثہ چار ملزمان عارف خان، اسد خان، صابر مایار اور اظہار اللہ کے خلاف بھی الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم یہ افراد عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے گئے اس لیے انھیں اشتہاری قرار دیا جاتا ہے اور پولیس انھیں گرفتار کر کے قانونی کارروائی کرے۔

خیال رہے کہ ان چار ملزمان میں سے تین مفرور ہیں جبکہ اظہار اللہ کو کچھ عرصہ قبل ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مفرور ملزمان میں سے عارف خان کو اس مقدمے کے مرکزی ملزمان میں شمار کیا جاتا ہے اور شک ہے کہ وہ ملک سے فرار ہو چکا ہے۔

Image caption صوابی میں مشال کے مکان کے باہر بھی پولیس تعینات رہی

فیصلے کے بعد مشال خان کے بھائی ایمل خان نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم اپنے وکلا سے رابطہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہم اس فیصلے سے مطمئن ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میری خیبرپختونخوا پولیس سے صرف یہی اپیل ہے کہ وہ دیگر ملزمان کو گرفتار کرے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لائے۔'

ادھر 10 ملزمان کے وکیل افتخار مایار نے بی بی سی پشتو کے اظہار اللہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے انصاف کی توقع تھی لیکن ثبوتوں کی عدم موجود گی کے باوجود ملزمان کو سزا سنائی گئی اور وہ سزاؤں کے خلاف جلد پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عدالتیں فیصلے تین ستونوں پر کرتی ہیں جن میں ایک ایف آئی آر، میڈیکل شواہد اور موقع کا نقشہ ہیں لیکن اس کیس میں یہ سارے ستون نہایت کمزور تھے۔ شاید عدالت نے وکیلوں کے دلائل اور ثبوتوں کو احسن طریقے سے نہیں سنا اور پڑھا اور ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں۔‘

بی بی سی پشتو کے اظہار اللہ کے مطابق عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بری ہونے والے افراد کے استقبال کے لیے مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی قابلِ ذکر تعداد مردان رشکئی انٹرچینج پر جمع ہوئی۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان افراد کی قیادت جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے صوبائی رہنما شجاع الملک کر رہے تھے جبکہ یہ افراد مشال خان کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق فیصلے کے موقع پر بھی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے سینٹرل جیل ہری پور اور اس کے قریبی علاقے میں سخت حفاظتی انتطامات کیے تھے اور جیل میں قائم عدالت میں جانے کے لیے وکلا اور مخصوص افراد کو اجازت نامے جاری کیے گئے۔

پولیس کی بھاری نفری سنٹرل جیل اور شہر کے حساس مقامات پر موجود رہی جبکہ صوابی میں مشال خان کی آبائی رہائش گاہ کے باہر بھی پولیس تعینات تھی۔

اسی بارے میں