امریکہ پاکستان کی اقتصادی امداد نہیں روکے گا: احسن اقبال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ پاکستانی ریاست اسامہ بن لادن کی کسی قسم کی مدد کر رہی تهی: احسن اقبال

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وە پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد نہیں روکے گا۔

یہ بات انھوں نے ایک ایسے وقت کہی ہے جب گذشتہ روز بدھ کو امریکی کانگریس میں پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد روکنے کا مطالبہ کرتے ہویے ایک بل پیش کیا گیا جبکہ امریکہ نے پہلے ہی پاکستان کو فوجی امداد نہ دینے کا اعلان کر رکها ہے۔

دورۂ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں بی بی سی اردو کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں احسن اقبال کا کہنا تها کہ ’امریکی کانگریس میں مختلف لابیز ہیں جو اپنی پسند کے بل متعارف کراتے رہتے ہیں لیکن ہماری جو امریکہ کی انتظامیہ سے بات چیت ہوئی ہے اس سے یہی عندیا ملتا ہے کہ امریکہ اقتصادی امداد روکنے کا ارادہ نہیں رکهتا ۔‘

پاکستان امریکہ تعلقات کے بارے میں مزید پڑھیں!

امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

پاکستان امریکہ تعلقات، کبھی نرم کبھی گرم

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ میں (پالیسی کے لحاظ سے) نئے تجربات کیے جا رہے ہیں لیکن پاکستان اور افغانستان کا جغرافیہ ایک ہی ہے اس لیے امریکہ کے لیے افغانستان میں امن کی کوششوں میں دنیا میں کوئی ملک پاکستان سے زیادە اہم اور مددگار نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے خطے میں امریکہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں ممالک اہم ہیں اس لیے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹهانے کے بجائے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘

افغان پالیسی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ بے شک نیا ہو مگر بداعتمادی کے پیچهے الزام تو وہی پرانا ہے کہ پاکستان مخصوص انتہاپسندوں کو محفوط پناە گاہیں مہیا کر رہا ہے، اس سے متعلق وزیر داخلە کا کہنا تها کہ ’بی بی سی کی تازە رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کا 70 فیصد علاقہ افغان حکومت کے کنٹرول میں نہیں، امریکە کہتا ہے 45 فیصە علاقہ انتہاپسندوں کے کنٹرول میں ہے تو ایسے میں انتہا پسندوں کو پاکستان میں محفوظ پناە گاہوں کی ضرورت ہی نہیں۔‘

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تها کہ ’ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ پاکستانی ریاست اسامہ بن لادن کی کسی قسم کی مدد کر رہی تهی۔‘

انھوں نے اس افغان موقف کی بھی تردید کی کہ اُن کے حوالے کیے جانے والے طالبان ، انتہاپسند نہیں بلکہ عام افغان پناە گزین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سال نو کے آغاز پر صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر پاکستان پر مظاہرے کیے گئے تھے

چینی باشندے کی ہلاکت کے پیچهے انڈیا؟

سی پیک پر بات کرتے ہوئے کراچی میں چینی باشندے کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق پاکستان کے وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ اس کے پیچهے انڈیا ہو سکتا ہے۔

انھوں نے سی پیک کو لاحق سکیورٹی خدشات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے سکیورٹی کے لیے تقریباً دس ہزار سے زیادە افراد پر مشتمل ایک خصوصی فورس تیار کی ہے۔ البتہ یہ بات بهی ریکارڈ پر موجود ہے کە ہمارا ہمسایہ ملک سی پیک سے بلاوجہ خائف ہے اور ہماری حراست میں موجود ان کے جاسوس کلبھوشن جادھو نے تسلیم کیا کہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے انڈیا نے دہشت گردی پهیلانے کے لیے نیٹ ورک تیار کر رکها ہے جبکہ اس مقصد کے لیے کثیر بجٹ بهی مختص کیا گیا ہے۔ جس طرح یە ٹارگٹ کلنگ کی گئی لگتا ہے یہ بهی اسی منصوبە بندی کا حصہ ہے۔‘

انھوں نے کہ اس طرح کے واقعات سے پاک چین دوستی کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو گی۔

پشتون لانگ مارچ کی آواز کیوں دبائی جا رہی ہے؟

پشتونوں کے احتجاج کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ ’بیرون ملک ہونے کے باوجود میں نے خود سراپا احتجاج پشتون لوگوں سے بات کی۔ ’ہم نے انھیں یقین دلایا ہے کہ راؤ انوار کو سکیورٹی ادارے جلد حراست میں لے لیں گے اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ راؤ انوار کسی ریاستی ادارے یا سیاستدان کے پاس چهپے ہیں۔‘

اسی بارے میں