فیض آباد دھرنا کیس: ’معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیسے استعمال ہوا؟ تحریری جواب جمع کروائیں‘

اسلام آباد ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو حکم دیا ہے کہ وہ عدالت میں تحریری جواب جمع کروائیں اور یہ بتائیں کہ فیض آباد پر دھرنے کے شرکا اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیسے استعمال ہوا۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیا ہے۔

فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع والے اچھی انگلش بولتے ہیں لیکن یہاں پر چار جملے لکھ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے سویلین خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ کو اس آڈیو ٹیپ کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک فوجی افسر اپنے ماتحت سے فیض آباد دھرنے کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے تو نوکری چھوڑ دیں: جج

خادم حسین کون ہیں

’نہال، طلال اور اب دانیال‘

آرمی کی ’ضمانت‘ پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر اگلے دو روز میں اس بارے میں رپورٹ جمع نہ کروائی گئی تو آئی بی کے سربراہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آئی بی کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ فون ریکارڈ کرنا آئی بی کا کام نہیں ہوتا۔

اُنھوں نے کہا کہ آئی بی نے پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بہت کام کیا ہے۔ جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اگر آئی بی ایک وائس کو بھی ٹریس نہیں کر سکتا تو پھر پاکستان میں کون سا ادارہ وائس ٹریس کرسکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سماعت کے دوران راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کمیٹی کا ایک ممبر ملک سے باہر ہے، عدالت ایک ہفتے کا وقت دے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ بھی ملک سے باہر ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں رپورٹ نہیں دے سکتے، جس پر جسٹس شوکت عزیز نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ساتھ ’کھلواڑ کرنا بند کر دیں‘۔

بینچ کے سربراہ نے حکم دیا کہ اگر 12 فروری تک راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ پیش نہ کی گئی تو ذمہ داروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد پر دھرنا دینے والی جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’موصوف نے فیض آباد دھرنے میں بیٹھ کر جو حرکت کی ہے قابل مذمت ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’موصوف نے چیف جسٹس آف پاکستان کا نام لے کر جو نازیبا زبان استعمال کی ہے اس پر بھی افسوس ہی کیا جاسکتا ہے‘۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ایک ہفتے کی مہلت مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں