نقیب اللہ کیس: حکومت سے معاہدے کے بعد دھرنا ختم

  • عابد حسین
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا کیپشن

اسلام آباد میں دس روز سے جاری احتجاج سنیچر کی شام ختم ہو گیا

اسلام آباد کے پریس کلب کے سامنے گذشتہ دس دن سے جاری پشتون قومی جرگے کا احتجاج حکومت سے پانچ نکات پر مبنی معاہدے پر اتفاق رائے کے بعد سنیچر کی شام کو اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مشیر برائے سیاسی امور امیر مقام کے نام سے جاری کیے گئے اس معاہدے میں وزیر اعظم کی جانب سے محسود قبائلی جرگے کو یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ محسود کے مبینہ ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسر راؤ انوار کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔

اس کے علاوہ معاہدے میں جرگے کے منتظمین سے وعدہ کیا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں کا جلد سے جلد خاتمہ کرنے کے لیے 'متعلقہ حکام' کو کہا جائے گا اور ساتھ ساتھ حکومت بارودی سرنگوں سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندان کو زرتلافی ادا کرے گی۔

نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں مزید پڑھیے

معاہدے کی دیگر شقوں کے مطابق نقیب اللہ محسود کے آبائی گاؤں مکین میں کالج قائم کیا جائے گا اور ان کے دیگر مختلف 'جائز مطالبات' پر بھی عمل در آمد کیا جائے گا۔

ان یقین دہانیوں کے بعد جرگہ منتظمین نے احتجاج کو فوری ختم کرنے کا اعلان کیا۔

،تصویر کا کیپشن

حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا عکس

منتظمین میں شامل محسن داوڑ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان سے ایک ماہ میں ان نکات پر عمل در آمد کا وعدہ کیا ہے جس کے بعد انھوں نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

محسن داوڑ نے مزید بتایا کہ جرگے نے دو روز قبل فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ سمیت دیگر فوجی افسران سے بھی ملاقات کی تھی اور اپنے مطالبات ان کے سامنے پیش کیے تھے۔

احتجاج کے مرکزی منتظمین میں سے ایک منظور احمد پشتین نے اتوار کو ہی اپنے فیس بک پر لکھا کہ 'دھرنے کے آغاز سے اب تک کل 71 لاپتہ افراد اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں اور انشا اللہ ہم بے گناہ پشتونوں کے غم و درد پر مزید خاموش نہیں رہیں گے۔'

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں, 1

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام, 1

واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کے 13 جنوری کو قتل کے بعد پہلے کراچی میں پشتونوں نے احتجاج کا آغاز کیا اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان سے 25 جنوری کو لانگ مارچ شروع ہوا جو پہلی فروری کو اسلام آباد پہنچا۔

گذشتہ دس دنوں میں اس مظاہرے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور تقاریر میں جرگے کے مطالبات کو دہرایا۔

سوشل میڈیا پر بھی ہیش ٹیگ ’پشتون لانگ مارچ‘ کے نام سے یہ احتجاج پاکستان کے بڑے ٹرینڈز میں سے ایک تھا اور اس کی حمایت میں افغان صدر اشرف غنی نے بھی کئی ٹویٹس کی تھیں۔

احتجاج کو غیرسیاسی رکھنے کی خاطر دھرنے میں کسی سیاسی جماعت کا پرچم نہیں لہرایا گیا اور منتظمین کی جانب سے خاص خیال رکھا گیا تھا کہ یہ احتجاج کوئی ہائی جیک نہ کر لے اور اس بارے میں کافی احتیاط برتی گئی کہ کس کو بولنے دیا جائے اور کیا بولا جائے اور کون سے نعرے لگنے چاہییں اور کون سے نہیں۔