عاصمہ جہانگیر: ’ہم ان کی زندگی کو سیلیبریٹ کریں گے‘

عاصمہ جہانگیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے لیے بلند ہونے والی ایک بہت بڑی آواز اتوار کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔

عاصمہ جہانگیر کی موت کی خبر سامنے آنے پر کراچی میں کتب میلے کا سماں اتوار کی دوپہر سوگوار ہو گیا، سٹیج ہو یا راہدری میں بیٹھے ہوئے لوگ، سب کا موضوع اور حوالہ عاصمہ جہانگیر اور ان کی جدوجہد ہی رہا۔

پاکستان اور انڈیا میں امن کی کوششوں پر ابھی پروگرام کا آغاز ہی نہیں ہوا تھا، پروفیسر خالدہ غوث انڈیا کے سابق وزیر منی شنکر ائیر اور پاکستان کے سابق سفیر جہانگیر اشرف قاضی کا تعارف کروا رہی تھیں کہ ایک خاتون نڈھال حالت میں سٹیج پر گئیں اور افسردہ لہجے میں آگاہ کیا کہ ہماری دوست عاصمہ جہانگیر کا انتقال ہو گیا ہے۔

یہ خاتون کشور ناہید تھیں، ان کے یہ الفاظ سننے کے بعد پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ پروفیسر خالدہ غوث نے عاصمہ کو خراج تحسین پیش کیا اور پروگرام کو آگے بڑھایا۔

عاصمہ جہانگیر کے بارے میں مزید پڑھیے

انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

’آج ایک بے خوف کارکن کو کھو دیا‘

زندہ رہی اور ڈٹ کے زندہ رہی

عاصمہ جہانگیر کی زندگی تصاویر میں

'بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ جانا نہیں چاہتے'

کراچی کتب میلے کی اختتامی تقریب کو عاصمہ جہانگیر کے نام منسوب کیا گیا، اس دوران شرکا نے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔

انسانی حقوق کے سینئیر رکن اور عاصمہ جہانگیر کے ساتھی آئی اے رحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیشن کے لیے بہت سے لوگوں نے کام کیا ہے۔

’ہماری یہ خوش قسمتی تھی کہ ہمیں اس کی سربراہی کے لیے جسٹس درّاب پٹیل جیسے بے مثال انسان کی سرپرستی حاصل تھی لیکن حقیقت یہ ہے ہیومن رائٹس کمیشن کو بنانے میں جتنا کردار اور حصہ عاصمہ جہانگیر کا تھا اتنا دور دور تک کسی اور کا نہیں ہو سکتا ہے۔‘

آئی اے رحمان نے بتایا کہ آگرہ میں پاکستان اور انڈیا کانفرنس کے موقع پر عاصمہ بھی وہیں موجود تھیں اور پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف بھی تھے۔ پرویز مشرف طیش میں آئے کہنے لگے میرا جی چاہتا ہے کہ میں طمانچہ مار دوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’عاصمہ جہانگیر کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ وہ بڑے سے بڑے ڈکٹیٹر کو خوف زدہ کردیتی تھیں، جنرل مشرف نے کئی بار کوشش کی کہ وہ ان کی بات مانیں اور آخر میں تو یہ بھی کہا کہ میرا مقدمہ آپ لڑیں تو انھوں نے کہا کہ میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔‘

آئی اے رحمان نے عاصمہ جہانگیر کی نواب اکبر بگٹی کے آخری ایام میں ملاقات کا حوالہ دیا اور بتایا کہ عاصمہ نواب بگٹی سے ملنے جارہی تھی کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، بعض حلقوں نے سوچا کہ وہ آگے نہیں جائیں گی لیکن عاصمہ نے کہا کہ آپ کی گولیاں ختم ہو جائیں گی لیکن میرا سفر ختم نہیں ہو گا۔

’جب وہ سندھ آتی تھیں اور مٹھی، خیرپور اور نوشہرو فیروز جاتی تھیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ یہاں کی ہی رہنے والی ہیں۔ وہاں کی خواتین، بچے اور انسانی حقوق کے کارکن ان سے ایسے ملتے تھے جیسے ان کی کھوئی ہوئی بہن آ گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے کبھی کوئی بات ادھار نہیں رکھی جو بات کی وہ اسی وقت کی۔ ’جب ہم برسلز گئے اور انھیں ایوارڈ ملا تو انھوں نے کہا کہ میرے ساتھ انسانی حقوق کمیشن کو بھی ایوراڈ دیں، اس بہانے انھوں نے انعام کی ساری کی ساری رقم انسانی حقوق کمیشن کو دے دی۔ ہم ان کی موت پر بہت زیادہ نہیں روئیں گے بلکہ ان کی زندگی کا جشن منائیں گے۔

وومن ایکشن فورم کی رہنما انیس ہارون کا کہنا تھا کہ نامور شاعر حبیب جالب نے بینظیر بھٹو کے لیے کہا تھا ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔ یہ بات عاصمہ پر بھی صادق آتی ہے، وہ ایک دیرینہ دوست اور رفیق تیں۔

’عاصمہ کی آواز ہمیشہ حق کے لیے اٹھی، خواتین کے لیے اٹھی، اس ملک کے پسماندہ لوگوں کے لیے اٹھی، میں یہ نہیں کہتی کہ وہ آواز بند ہو گئی جو چراغ عاصمہ نے ہزاروں دلوں میں جلائے ہیں وہ ہمیشہ جلتے رہیں گے، وہ سیکیولر، جمہوری اور ویلفیئر ریاست کے لیے کوشاں تھیں ان کا یہ مشن ہمارے ساتھ رہے گا۔‘

نامور شاعرہ کشور ناہید کا کہنا تھا کہ یہ دو سال پہلے کی بات ہے جب عاصمہ کو امن کا عالمی ایوارڈ ملا اور لاہور میں اس موقعے کو منانے کا فیصلہ کیا گیا، عاصمہ نے انھیں کہا کہ آپ بھی اسلام آباد سے لاہور آ جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کشور ناہید نے ایک نظم لکھی جو انھوں نے پڑھ کر عاصمہ کو خراج تحسین پیش کیا۔

دنیا سوچتی تھی اور حیران ہوتی تھی

کیا کبھی دانتری سے گھاس کاٹتی عورت

آسمان میں ستارہ بن کر چمکے گی

کیا یہ بھی ہوگا کہ انگھوٹا لگا کر اپنا حق دے دینے والی عورت

دنیا کے سامنے اپنا حق مانگے گی

وہ منھاری سی عورت عاصمہ جہانگیر

جس نے حکمرانوں کو للکارا ہو

جس کی ایک آواز پر باندی بنی عورتیں ہوں

یا اینٹوں کے بٹھوں پر غلام در غلام خاندان ہوں

ایسے کھچے چلے آئیں ایسے رقص کرتی ہوئی ہوا

جیسے جھومتی ٹہنیاں جیسی خوشبو پھیلاتی بہار

وہ صلیب سے بھی انصاف کے ترازو کو اتروا لیتی تھی

زمین پر راج کرتے ہوئے خداؤں کو للکارتی

بیڑیوں کو پازیبوں میں بدل دیتی

تعزیز سیاست کے پردے چاک کرتی

وعظوں اور فتویٰ فروشوں کو بے نقاب کرتی

خزاں زدہ چہروں کو بہاریں پہناتی

اسی بارے میں