عاصمہ جہانگیر: ’بےآوازوں کی سب سے بلند آواز‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی معروف وکیل اور حقوقِ انسانی کی عالمی شہرت یافتہ کارکن عاصمہ جہانگیر کی موت پر افسوس اور تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھر سے لوگ اس سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم ایک بڑی شخصیت کو کھو دیا ہے۔ عاصمہ ایک شاندار، اصول پرست، بہادر اور نیک دل ہستی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے بطور پاکستانی وکیل یا پھر حقوقِ انسانی کی عالمی کارکن کے طور پر عوام کے حقوق اور برابری کے لیے انتھک محنت کی اور وہ ایسی رہنما تھیں جنھیں بھلایا نہیں جا سکتا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

’لوگوں کو انٹیلیجنس ایجنسیاں اٹھاتی ہیں‘

’حکومت نے فوج کو خوش کرنا ہے تو اپنے بل بوتے پر کرے‘

ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاءالدین یوسفزئی نے ٹوئٹر پر عاصمہ جہانگیر کو 'انسانی حقوق کی علامت، جمہوریت کی چیمپیئن، بےآوازوں کی سب سے بلند آواز، سب سے بہادر عاصمہ جہانگیر۔'

بالی وڈ کے مشہور ہدایت کار مہیش بھٹ نے ٹویٹ کی: 'ایک غیر معمولی خاتون جو معمولی لوگوں کے لیے لڑتی رہیں۔ عاصمہ جی میں وہ ہمت اور جرات تھی کہ وہ ایک منصفانہ زندگی کے لیے لڑتی رہیں۔ ہماری زندگیوں کو چھونے کے لیے شکریہ۔‘

پیپلز پارٹی کی رہنما ناز بلوچ نے لکھا: ’یہ پاکستان کے لیے دکھی دن ہے کہ اس دن اس نے بہادر اور بلند آواز عاصمہ جہانگیر کو کھو دیا۔‘

اداکارہ ماہرہ خان نے عاصمہ جہانگیر اور قاضی واحد کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’پاکستان کے لیے دکھی دن کہ آج اس نے عظیم فنکار اور ایک بےخوف کارکن کو کھو دیا۔ وہ اپنے کام میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔‘

جنوبی ایشیائی تعاون کی تنظیم سارک کے اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا: ’آپ ہمیشہ ہمارے دل و دماغ میں رہیں گی۔ آپ جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے لیے تحریک رہیں گی۔‘

ناول نگار کاملہ شمسی نے لکھا: ’ہم انھیں کھونا برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم خوش قسمت تھے کہ وہ ہمارے درمیان موجود تھیں۔‘

صحافی اور مصنف رضا رومی نے اس موقع پر کہا: ’ہم اکثر ایک جملہ کہتے ہیں: 'طاقت کے آگے سچی بات کہنا۔'

’عاصمہ جہانگیر نے اس پر اپنی آخری سانس تک عمل کیا۔ انھوں نے ملاؤں، فوج، ججوں، سیاست دانوں، اور ہر طاقتور پر سوال اٹھایا اور پسے ہووں کا دفاع کیا۔ انھوں نے دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کیا اور کبھی نہیں گھبرائیں۔ وہ بڑی ہیرو تھیں۔ ہمیں اب ایک خلا کا سامنا کرنا ہو گا۔'

فیس بک پر بھی متعدد لوگ عاصمہ جہانگیر کے بارے میں خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مصنف خضر حیات نے لکھا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بڑے بڑے حادثوں کا دن ہے۔ پہلے قاضی واجد اور پھر عاصمہ جہانگیر۔ وقت بھی کس قدر ظالم شے کا نام ہے۔ بلا تفریق سب میں موت تقسیم کرتا جاتا ہے۔ اس کو کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ جن لوگوں کا جینا انسانیت کے لیے سودمند ہے، انھیں زیادہ مہلت دی جانی چاہیے اور اس کے برعکس جنھیں زندگی بوجھ لگتی ہے انھیں لائن میں آگے کھڑا کر دینا چاہیے.‘

انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد نے لکھا: ’آج نہ صرف پاکستان بلکہ تمام جنوبی ایشیا عاصمہ جہانگیر کو روئے گا۔ یہ صرف پاکستان کا نقصان نہیں ہے بلکہ انھوں نے تمام دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا تھا۔‘

صحافی مظہر عباس نے لکھا: ’مجھے اب بھی یاد ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے ویج ایوارڈ کی جدوجہد کے دوران میڈیا کارکنوں کی بار بار مدد کی۔ جب چوہدری اعتزاز احسن نے مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا تو عاصمہ نے آگے آ کر مقدمہ لڑا اور جیت گئیں۔

اسی بارے میں