ثاقب نثار کا شہباز شریف سے مکالمہ: ’اگر آپ کی پارٹی جیتے تو آپ کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں‘

سپریم کورٹ آف پاکستان، شہباز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس نے وزیر اعلی سے کہا کہ گندے پانی کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائیں اور جو بھی آپ پلان بنائیں، وہ عدالت کو بھی پیش کریں۔

سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے سڑکوں کی بندش اور صاف پانی کے حوالے سے از خود نوٹس کے معاملے میں اتوار کو وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے۔

مال روڑ پر اورنج لائن کی تعمیر اور چیف منسٹر کے پروٹوکول کے باعث، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری تک پہنچنا اپنے آپ میں ایک مشن تھا۔ کیچڑ میں پیدل چلتے، کندھوں پر کیمرا لٹکائے میڈیا ٹیمز عدالت پہنچیں تو وہاں چیف منسٹر کا ساتھ دینے کے لیے حکومتی عہدیداروں کی بڑی تعداد پہلے ہی موجود تھی۔

عدالت میں شہباز شریف کی آمد ہوئی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے انھیں خوش آمدید کہا۔ سماعت کی ابتدا میں چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے دریافت کیا کہ سکیورٹی کے نام پر لاہور میں کون سی سڑکیں بند ہیں اور احکامات دیے کے کیمپ آفس ماڈل ٹاؤن، جاتی امرا، مسجد قادسیہ اور منہاج القران سمیت تمام سڑکوں کو رات تک کھلوا کر رپورٹ دیں۔

باری آئی وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی، تو عدالت میں جیسے ہر سو خاموشی چھا گئی۔ ہر ایک چیف جسٹس اور وزیر اعلی کے درمیان ہونے والے مکالمے کا ہر لفظ سننا چاہتا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

دانیال عزیز بھی ’عدلیہ مخالف تقاریر‘ پر سپریم کورٹ طلب

شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم کیوں نہیں؟

’وزیراعظم کا عہدہ مفلوج ہو چکا ہے‘

اس کے بعد چیف جسٹسں نے شہباز شریف کو روسٹرم پر بلایا اور عدالتی معاون کو گندے پانی سے متعلق رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کی۔

عدالتی معاون نے بتایا کہ لاہور میں روزانہ 540 ملین گیلن گندا پانی دریائے راوی میں پھینکا جا رہا ہے اور حکومت نے اب تک کوئی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگایا۔

ان تفصیلات کے دوران وزیر اعلی عدالتی معاون کے ساتھ ہی روسٹرم پر کھڑے رہے تو چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کر کے کہا کہ `جب تک رپورٹ پڑھی جا رہی ہے تب تک میاں صاحب آپ بیٹھ سکتے ہیں` لیکن شہباز شریف نے کہا کہ `نہیں میں ٹھیک ہوں۔`

رپورٹ ختم ہوئی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعلیٰ پنجاب سے سوال کیا کہ 'یہ تو ہو گیا، اب آپ کیا کریں گے؟`

اس کے جواب میں وزیر اعلی پنجاب نے عدلیہ اور سپریم کورٹ کی تعریفوں سے تمہید باندھی ۔ انھوں نے جج صاحبان کو کہا کہ'عدلیہ ہمارے لیے بہت محترم ہے اور اسی لیے2007 میں ہم نے خود آزاد عدلیہ کی تحریک چلائی۔`

اس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ 'کاش یہی سوچ آپ کی پارٹی کی سطح پر بھی نظر آئے۔` چیف جسٹس نے کہا کہ آپ قابل لیڈر ہیں، آپکے عدلیہ سے متعلق خیالات سن کر اچھا لگا۔

چیف جسٹس کی جانب سے کی گئی تعریف پر وزیر اعلی نے پرجوش اندار میں کہا `جناب دل سے کہہ رہا ہوں۔`

تعریفوں کا سلسلہ رکا تو چیف جسٹس نے دوبارہ گندے پانی کے معاملے کی سنگینی باور کروائی تو وزیر اعلی نے کہا کہ عدالت میں جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس سے اختلاف نہیں کرتے لیکن گزشتہ تین سالوں میں ہسپتال کے ویسٹ کے لیے بہت اقدامات کیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ `احکامات دینے اور منوانا الگ بات ہے، ٹرانسپرنسی ہونی چاہیے۔ `

ٹرانسپرنسی کا لفظ سنتے ہی شہباز شریف نے حکومت پنجاب کے متعدد فلاحی منصوبوں کے حوالے دینے شروع کر دیے اور عدالت کو بتایا کہ ان سکیموں میں شفافیت سے کام کر کے عوام کے کروڑوں روپے بچائے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ سمیت عدالت میں موجود تمام افراد نے وزیر اعلی کی یہ متعدد بار کی گئی باتیں بہت تحمل سے سنیں۔

اس مکالمے کے اختتام پر وزیراعلی پنجاب نے عدالت سے تین ہفتے کا وقت مانگتے ہوئے کہا کہ ایک موثر پلان بنائیں گے اور اگر الیکشن جیت گئے تو اس پراجیکٹ کو مکمل بھی کریں گے۔

اس پر چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ ’میں اعلان کرتا ہوں اور اس بات کو تین بار دہراتا ہوں کہ میں اور میرے ساتھی شفاف اور آزادانہ انتخابات کروائیں گے۔‘

ایک لمحے کا وقفہ لے کر چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا اور ’اگر ان انتخابات میں آپ کی پارٹی جیت جاتی ہے تو آپ کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

اس پر عدالت میں تمام لوگ مسکرانے لگے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’یہ تو آپ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔‘

اس پر عدالت میں قہقہہ لگا اور چیف جسٹس نے مسکرا کر کہا کہ ’ہم تو نہیں لیکن آپ کی جماعت میں سے کوئی آپ کے پیچھے نہ پڑ جائے۔‘

سماعت کے بعد وزیراعلی تو میڈیا سے بات کئے بغیر چلے گئے لیکن وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے اپنا فرض سمجھا کہ وہ پارٹی کی طرف سے بیان دیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا صاحب نے کہا کہ اگر ہم انتخابات جیتے تو اگلے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی خواہش سے ہوں گے لیکن ہم یقیناً چیف جسٹس کی خواہش نواز شریف کے سامنے رکھیں گے۔

اسی بارے میں