لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خودکش حملے کی زخمی یادیں

لعل شہباز قلندر کا مزار دھماکے کے بعد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

16 فروری 2017 کی شام صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ زائرین سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔

روایتی دھمال جاری تھی کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور اس خودکش حملے میں جہاں 83 افراد جان سے گئے وہیں 340 سے زیادہ زخمی بھی ہوئے۔

اس حملے کے ایک برس بعد بی بی سی نے حملے کا نشانہ بننے والے کچھ افراد سے ملاقات کی جن کی زندگی اس دن کے بعد بدل گئی۔

یہ بھی پڑھیے

سیہون میں دھمال: ’ہاتھ جیسے خودبخود چلنے لگتے ہوں‘

’کیا پتہ تھا کہ زندگی کی آخری دھمال ہو گی‘

’مرشد لعل نے اپنے سیہوانیوں ہی سے کام لیا‘

پانچواں چراغ!

انھوں نے یا تو اس دن اپنے پیاروں کو کھو دیا یا ذاتی طور پر یہ حملہ ان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ لایا جس کے بارے میں انھوں نے کبھی سوچا نہ تھا۔

یہاں ایسے ہی کچھ افراد کی کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں۔

لال بی بی
Image caption ڈاکٹر نے لال بی بی کے دائیں بازو میں راڈ ڈالی ہے لیکن ابھی تک درد برقرار ہے

لال بی بی،شہدادکوٹ

16 فروری 2017 کو ہم اپنے ایک رشتے دار کے ساتھ بس میں سیہون میں قلندر شہباز کے مزار پر گئے تھے۔ ہمارے اس رشتے دار نے بیٹے کی منت مانگی تھی جب بیٹا چار سال کا ہوگیا اور اس نے کچھ پیسے جوڑ لیے تو وہ ہمیں سیہون لے گیا۔

ہم شام کے وقت ہی سیہون پہنچے تھے جو دھمال کا بھی وقت تھا۔ میں نے دھمال دیکھی اور مزار کے اندر زیارت کے لیے داخل ہو گئے۔ میرے ایک بیٹے کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا جبکہ دوسرا قریب ہی کھڑا تھا، اچانک دھماکہ ہوا اور میں زمین پر گرگئی مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کرنٹ لگا ہے یا کیا ہوا ہے۔

میرا بازو ٹوٹ گیا جبکہ چھاتی کے قریب کوئی چیز آ کر لگی جس وجہ سے خون بہنے لگا۔ تکلیف اور درد اس قدر تھا کہ میں رونے لگی اور خدا سے کہا کہ مجھے بچا لے ورنہ مار دے کیونکہ مجھ سے یہ درد برداشت نہیں ہو رہا۔

کچھ دیر بعد لوگ آئے اور مجھے ایمبولینس میں ہپستال پہنچایا گیا۔ اس پورے عرصے میں مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے بچے کہاں ہیں اور کوئی بتا بھی نہیں رہا تھا، ہر طرف افراتفری تھی۔

لال بی بی
Image caption لال بی بی نے سیہون دھماکے میں اپنے دو بیٹوں کو کھویا

سیہون ہسپتال میں بھی علاج نہیں ہو رہا تھا۔ میں ہر شخص کی منت سماجت کر رہی تھی کہ میرے رشتے داروں کو ٹیلیفون کرو یا میرا علاج کرو، اگر نہیں کر سکتے تو مجھے کوئی ایسا انجیکشن لگاؤ کہ میں مر جاؤں۔ میں چلاتی رہی بالاخر ایک داڑھی والا ڈاکٹر آیا اس نے کہا کہ فوری خون لگاؤ ورنہ یہ بچ نہیں پائے گی جس کے بعد مجھے نوابشاہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

رشتے داروں کے ذریعے جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے نہیں رہے تو تکلیف اور بڑھ گئی کیونکہ بچوں کے بغیر بھلا کیا زندگی ہے۔ میرا شوہر دل کا مریض ہے۔ وہ کام بھی نہیں کرسکتا جبکہ ایک چھوٹی بیٹی اور چھوٹا بیٹا ہے۔ باقی دو بڑے بیٹے اس دھماکے میں چلے گئے۔

ڈاکٹر نے دائیں بازو میں راڈ ڈالی ہے لیکن ابھی تک درد برقرار ہے، میں گھر کے کام کرنے کے قابل نہیں رہی جبکہ بچے چھوٹے ہیں اور کوئی قریبی رشتے دار نہیں۔

مجھے معلوم نہیں کہ یہ دھماکہ کس نے کیا اور کیوں کیا ہم تو زیارت پر گئے تھے، ہسپتال میں نواز شریف آیا تھا اس نے سر پر ہاتھ رکھا۔

ایک سال ہوگیا ہے کہ کوئی پولیس یا تفتیشی افسر یا اہلکار کبھی بھی ہمارے پاس نہیں آیا۔ مجھے معاوضے جو پیسے ملے ہیں اس میں سے بچوں کے نام سے مسجد تعمیر کرائی ہے تاکہ انھیں ثواب پہنچے۔

سویرا
Image caption سویرا کہتی ہیں کہ دل نہیں چاہتا کہ دوبارہ درگاہ پر جائیں کیونکہ انھیں وہاں جانے سے ڈر لگتا ہے

سویرا کھوکھر، شہداد کوٹ

میرا نام سویرا کوکھر ہے میں شہدادکوٹ کے الن محلہ میں رہتی ہوں، اس روز میں اپنی بہنوں کے ساتھ منت والی بس میں گئی تھی۔

شام کے وقت میں احاطے میں دھمال دیکھ رہی تھی کہ بڑی بہن زویا نے مجھے کہا کہ چھوٹی بہن سمیرا کو تم سنبھالو میں زیارت کر کے آتی ہوں میں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ نکل جائے اور یہ گم جائے لہذا آپ اسے اپنے ساتھ ہی رکھیں جس کے بعد وہ دونوں مزار کے اندر چلی گئیں۔

جیسے دھمال ختم ہوئی اور لوگ اندر گئے، دھماکہ ہوا، کوئی کہہ رہا تھا کہ بجلی کا ٹرانسفارمر پھٹ گیا ہے تو کوئی کہتا تھا کہ آگ لگی ہے پھر جب پتہ چلا کہ نہیں بم پھٹا ہے تو ہر کوئی بھاگنے لگا۔

دھمال کے وقت جو رسا باندھا جاتا ہے دھماکے کی شدت سے میرے بال اس میں پھنس گئے تھے۔ میں بھاگ نہیں پا رہی تھی اور لوگوں کو منت کر رہی تھی کہ میرے بال اس رسی سے نکالو۔ میں نے پوری کوشش کی لیکن سر میں درد ہو گیا، بال نہیں نکلے۔ میری کزن بھی چھوڑ کر چلی گئی جب میں نے چیخنا چلانا شروع کیا تو وہ واپس آئی اور اس نے کھینچ کر بال نکالے لیکن کافی اس رسی میں پھنس کر ٹوٹ گئے۔

سویرا کا خاندان
Image caption سویرا کے مطابق ان کے بھائی کے دل میں پیدائشی سوراخ ہے جس وجہ سے ان کی امی پریشان رہتی ہیں

ہم دونوں باہر آگئے جہاں کوئی کہہ رہا تھا کہ میری بہنیں زندہ ہیں کوئی کہہ رہا تھا کہ مرچکی ہیں، میری امی اور ابو ساتھ نہیں تھے اور دیگر رشتے دار مجھے تلاش کرنے کے لیے جانے نہیں دے رہے تھے جس وجہ سے میں روتی رہی تھی لیکن کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا۔

بالاخر رات دیر کو ہم اسی بس میں سوار ہوکر واپس آگئے جس میں ہم منت دینے گئے تھے۔ صبح کو چھوٹی بہن سمیرا کی لاش آگئی لیکن دوسری بہن نہیں مل رہی تھی۔

دوسرے روز زویا کی لاش آئی۔ بڑی بہن کی گردن لٹک گئی تھی اور اسے ٹانکے لگے ہوئے تھے جبکہ چھوٹی کے چہرے سمیت پورے جسم پر چھرے لگے تھے، بڑی بہن نے کان میں بالیاں پہنی ہوئی تھیں جب لاش آئی تو کان میں صرف ایک بالی تھی۔

قلندر کے مزار پر میری دو بہنیں فوت ہوئیں۔ میرا دل نہیں چاہتا کہ وہاں دوبارہ جاؤں کیونکہ مجھے وہاں جانے سے ڈر لگتا ہے۔

میرا ایک چھوٹا بھائی اور چھوٹی بہن بھی ہے ، بھائی کے دل میں پیدائشی سوراخ ہے جس وجہ سے امی پریشان رہتی ہیں بابا بوڑھے ہیں کچھ کام نہیں کرسکتے، جو معاوضہ ملا ہے اس میں سے ہم نے مکان تعمیر کرایا اور بھینس لی ہے۔

اعتبار کھوکھر
Image caption اعتبار کھوکھر کا کہنا ہے کہ بیٹوں کے مرنے کے بعد انھیں اب دنیا سے نفرت سی ہو گئی ہے

اعتبار کھوکھر، شہداد کوٹ

میرے دس بچے ہیں اور سیہون کے دھماکے میں میرے دو بیٹے ہلاک جبکہ بیوی اور بیٹی زخمی ہو گئے تھے۔

اس روز میرا تقریباً پورا خاندان ہی منت والوں کے ساتھ گیا تھا۔ شام کو دھماکے کے بعد میری بیٹی آسیہ نے ٹیلیفون پر بات کی کہ وہ زخمی ہے اور بھائی معلوم نہیں کہاں گئے ہیں۔

اس وقت تک مجھے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ میرے رشتے داروں کی دو بیٹیاں اور میرے دو بھتیجے ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقامی صحافی میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کے دو بیٹے اس دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ میں نے انھیں کہا کہ مجھے تو ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ میرے بیٹے نے سیہون میں رشتے داروں سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو انھوں نے تصدیق کہ دو بیٹے ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہم چوک پر چلے گئے جہاں ایمبولینس میں لاشیں لائی گئیں لیکن ان میں میرے بیٹوں کی لاشیں نہیں تھیں۔ میں نے دل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ ہوسکتا ہے کہ خوف میں ادھر اُدھر چلے گئے ہوں۔ سوچا کہ خود جا کر تلاش کرتا ہوں۔

ایک رشتہ دار نے کہا کہ جو ایمبولینس لاشیں لائی ہے اس میں میں چلتے ہیں۔ ہمارے پاس کرائے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ادھار لے کر روانہ ہوئے۔ ایمبولینس نے ہمیں سیہون بائی پاس پر اتار دیا اور ہم پیدل ہسپتال پہنچے۔

میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ میرے دو بیٹوں کا پتہ نہیں چل رہا تو اس نے کہا کہ جاؤ یہاں سے، وہاں لوگوں کا رش اور دھکم پیل تھی۔

اعتبار کے بیٹے
Image caption سیہون دھماکے میں اعتبار کھوکر کے دو بیٹے ہلاک ہوئے

ایک ڈاکٹر نے مجھے ایدھی کنٹینر کی طرف بھیج دیا اور کہا کہ اندر جا کر دیکھو۔ میں جیسے ہی سوار ہوا تو باہر سے دروازہ بند ہو گیا۔ اندر اے سی چل رہا تھا جبکہ بالکل اندھیرا ہو گیا۔ میں نے موبائل فون کی لائٹ جلا کر بھتیجے کو ڈھونڈ نکالا۔ بڑے بیٹے کی لاش بھی اسی میں تھی لیکن میں شناخت نہیں کر سکا کیونکہ کپڑے وغیرے جل چکے تھے۔

اسی دوران ایک اور شخص آیا۔ اس نے کہا کہ تمہارے پاس بیٹوں کی تصاویر ہیں۔ میں نے دونوں کی تصویریں اس کے حوالے کر دیں۔

وہ شخص جس نے تصویر لی تھی اس نے بتایا کہ یہ نوجوان نوابشاہ ہپسپتال کے سرد خانے میں موجود ہے جہاں اسے لاوارث قرار دیا گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ لاوراث نہیں ہم ابھی موجود ہیں ہم اس کے وارث ہیں۔

میں نوابشاہ چلا گیا۔ وہاں میری بیوی بھی موجود تھی جبکہ بھتیجی کی لاش بھی تھی۔ میں دونوں لاشوں کے ساتھ سیہون آیا اور بھتیجے کی لاش وصول کی اور ان تینوں سمیت شہدادکوٹ آ گیا۔

کچھ محسنوں نے دوبارہ پیسے دیے اور مشورہ دیا کہ بڑے بیٹے کی لاش کی تلاش جاری رکھو۔ دوبارہ سیہون آیا تو ایدھی کا موبائل سرد خانہ کراچی روانہ ہو چکا تھا۔

آسیہ بی بی
Image caption دھماکے کے بعد سے آسیہ کے سر میں درد رہتا ہے

سو کراچی جا کر بیٹے کی شناخت اس کی بنیان اور ہاتھ میں پہنی ہوئی ڈوری سے کی۔ اس کا چہرہ دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا جبکہ آنکھوں میں شیشے پھنسے ہوئے تھے۔

میں نے بیوی اور بیٹے دونوں کو روکا تھا کہ نہ جاؤ لیکن وہ نہ مانے اور بس میں سوار ہو گئے۔

دھماکے کے بعد سے بیٹی آسیہ کے سر میں درد رہتا ہے۔ وہ کہتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بھاری چیز سر پر رکھی ہو جبکہ بیوی بھی ہر روز کہتی ہے کہ زخم دکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔

اب پرائیوٹ علاج جتنے پیسے نہیں جبکہ لاڑکانہ روز روز کیسے جائیں وہاں بھی ڈاکٹر ٹھیک طریقے سے معائنہ تک بھی نہیں کرتے۔

بیٹوں کے مرنے کے بعد اب دنیا سے نفرت سی ہو گئی ہے۔ میں گھر تک محدود رہتا ہوں۔ باہر جانے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ جب سوتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے سانس گھٹ رہی ہے۔

بیٹی جب کھانا لاتی ہے تو کہتا ہوں کہ سارے بچوں کو بلاؤ تو وہ یاد دلاتی ہے کہ باقی یہی بچے ہیں بابا۔

یاسین علی

یاسین علی، نوڈیرو

ہم سارے مزدور چندہ کرتے ہیں اور سال میں ایک مرتبہ درگاہوں کی زیادرت پر جاتے ہیں۔ پہلے ہم گاجی شاہ جاتے ہیں اس کے بعد سعدی موسانی، قلندر لال شہباز، کراچی میں عبداللہ شاہ غازی، بلوچستان میں شاہ نورانی اور واپسی پر شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی درگاہ سے ہو کر واپس آتے ہیں، اس روز ہم گاجی شاہ سے قلندر پہنچے تھے۔

ہم مزار کے اندر بیٹھے تھے کہ دھماکہ ہوا اور میں بےہوش ہو گیا۔ چار پانچ روز بعد جب ہوش آیا تو پتہ چلا کہ میں حیدرآباد سول ہسپتال میں موجود ہوں وہاں لوگوں سے معلوم ہوا کہ مزار میں دھماکہ ہوا تھا۔

ٹی وی چینلز پر یہ پٹی (ٹکر) چل گئی کہ میں بھی ہلاک ہو گیا ہوں۔ ورثا میری لاش کی تلاش کرتے کرتے سول ہسپتال حیدرآباد پہنچے تو مجھے زندہ دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔

مجھے سر، سینے اور پیروں میں چوٹیں آئی ہیں۔ تقریباً پورا سال ہی مریض بن کر بیٹھا رہا۔ اب دوبارہ مزدوری شروع کی ہے۔ سر میں ابھی تک درد ہے۔ اپنے طور پر اس کا علاج بھی کراتے ہیں۔

یاسین علی

حکومت کی جانب سے تو کوئی علاج معالجے کی سہولت ہیں نہیں۔ جب بھی ہپستال جاتے ہیں چانڈکا ہسپتال کا ایم ایس تو یہ بھی کہتا ہے ’تم بم والے اب بھی آرہے ہو۔ ہماری جان کب چھوڑو گے۔‘ ہم کراچی میں جناح ہپستال بھی گئے تھے وہاں بھی کسی نے لفٹ نہیں کرائی ۔

دھماکہ کس نے کیا یہ ہمیں کیا معلوم۔ اس کو اپنے سر کی پروا نہیں تھی اس لیے اپنے ساتھ دوسروں کی زندگیاں بھی لے لیں۔ معلوم نہیں کہ کیا دشمنی تھی اسے ’سائیں کے روضے‘ کو اڑانا تھا یا لوگوں کو مارنا تھا۔

قلندر شہباز پر دوبارہ بھی جانا ہوا ہے۔ وہاں کافی سکیورٹی ہے، پولیس تلاشی بھی لیتی ہے اس سے قبل ایسا کچھ نہیں تھا ۔ اس سال بھی دوستوں نے پروگرام بنایا ہے کہ زیارت پر چلتے ہیں۔

غلام نبی کوری، شکارپور

غلام نبی کوری، شکارپور

میں چاول کے کارخانے میں کام کرتا ہوں، ہم ہر سال تمام مزدور قلندر شہباز پر دعا کے لیے جاتے ہیں، اس روز بھی ہم وین میں سوار ہوکر قلندر کے مزار پہنچے دھمال کے بعد مزار کے اندر داخل ہوئے ابھی دعا کے لیے ہاتھ ہی اٹھائے تھے کہ دھماکہ ہو گیا۔

میں تو بوڑھا شخص ہوں زمین پر گر گیا۔ جب مجھے گاڑی میں ڈالا گیا تبھی ہوش آیا۔ میں نے دیکھا کچھ اور بھی زخمی پڑے تھے، ہسپتال میں مجھے یہ سوچ کر ایک طرف کردیا کہ یہ ابھی مرنے جیسا نہیں ڈاکٹر دوسروں کے علاج میں لگ گئے۔

آج بھی نصف درجن کے قریب چھرے ابھی تک میرے جسم میں موجود ہیں اور پاؤں اور گردن میں پھنسے ہیں جو واقعے کی ایک قسم کی نشانی ہیں۔

دھماکے کی شدت کی وجہ سے کانوں کے پردے پھٹ گئے چار روز تک کانوں سے خون بہتا رہا۔ سیہون سے مجھے زرداری کے شہر نوابشاہ کے ہسپتال میں لے گئے جہاں دس روز داخل رہا۔

اتنا بڑا ہے ہسپتال تھا لیکن علاج صرف زخم کا کیا، کان والے ڈاکٹر کے چکر لگاتے رہے لیکن اس نے ایک گولی تک نہیں دی۔ واپس آکر پرائیوٹ کان کا علاج کرایا اب ایک کان سے تھوڑا بہت سن لیتا ہوں۔

غلام نبی کوری

پہلے بڑھاپا تھا اب یہ زخم اور درد بھی آ گیا لیکن سیٹھ اور دوست مزدور خیال رکھتے ہیں اور مدد کرتے ہیں۔

ڈیڑھ سو سے دو سو رپے دہہاڑی بن جاتی ہے۔ چار بچے ہیں، دو بیٹے روزگار سے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی مال مویشی زمین وغیرہ کچھ بھی تو نہیں۔ حکومت نے صرف ایک لاکھ رپیہ معاوضہ دیا تھا جو علاج اور ضروریات میں پورا ہو گیا۔

مجھے معلوم نہیں کہ دھماکہ کس نے کیا اور بھلا میں معلوم بھی کس سے کرتا ہمیں کون بتاتا۔ پولیس وغیرہ نے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا۔

اب ہم روزی کی تلاش کریں یہ منصوبہ سازوں کا پتہ لگائیں۔ میرا تو یقین ہے کہ یہاں بھی ان کے لیے جہنم کی آگ ہے اور وہاں بھی یہی ملے گی۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں