حافظ آباد: ’غریب لوگوں کے ساتھ امداد کے نام پر دھوکہ اور ظلم کیا گیا‘

Image caption شازیہ کی بیٹی طاہرہ فضل کا نمونہ حاصل کیا گیا اور ان دنوں ان کی طبعیت خراب ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر حافظ آباد کی رہائشی شازیہ بی بی پہلے ہی غربت سے تنگ تھیں لیکن مالی امداد کے نام پر اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔

شازیہ بی بی بھی ان متاثرین میں شامل ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈی سے دھوکے سے مواد نکلا گیا۔

انھوں نے جھانسے میں آنے کے بارے میں بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے آمنہ نامی خاتون ان کے گھر آئی اور بتایا کہ نواز شریف کی جانب سے مالی امداد کے پیکیج کے فارم آئے ہیں جس کے تحت ان کی مالی امداد ہو سکتی ہے۔

شازیہ کے بقول انھوں نے اس کی بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا لیکن آمنہ نے دوبارہ چکر لگائے اور ہر طرح سے مطمئن کیا کہ امداد کے لیے صرف خون کے ٹیسٹ لینے ہیں اور آخری بار ساتھ میں ندیم کو بھی لائی کہ یہ سول ہسپتال میں کام کرتا ہے اور ٹیسٹ لینے میں مدد کرے گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سپائنل فلوئڈ کیا ہے اور اسے کیوں نکالا جاتا ہے؟

خواتین کی ریڑھ کی ہڈی سے مواد نکالنے کا معمہ تاحال حل طلب

لڑکیوں کا سپائنل فلوئڈ نکالنے کے واقعات کی تحقیقات

شازیہ کے بقول رضامندی ظاہر کرنے پر آمنہ نے کہا کہ اپنی بیٹی کے بھی ٹیسٹ کرا لوں تو ’میں نے کہا کہ اس کی عمر ابھی صرف 13 برس ہے‘ تو اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں، اس کے ٹیسٹ کرا لوں تو اس کے نام پر بھی جہیز پیکج سے امداد ہو جائے گی۔

اس کے بعد آمنہ دونوں ماں بیٹی کو قریب میں ہی اپنے گھر میں لے گئی جہاں ندیم بھی موجود تھا۔

شازیہ نے بتایا کہ گھر میں آمنہ نے کمر پر انجیکشن لگا کر اور ایک بازو پر انجیکشن لگا کر نمونہ حاصل کیا۔

شازیہ کے بقول جیسے ہی کمر پر انجیکشن لگایا تو انھیں شدید درد ہوئی اور درد اتنی شدید تھی کہ میری بیٹی نے رونا شروع کر دیا تو آمنہ نے تسلی دی کہ چپ کرو یہ آپ لوگوں کے فائدے میں ہے کیونکہ آپ لوگ غریب اور کرایہ دار ہیں اور حکومت مالی مدد کرے گی۔

اس سارے عمل کے دوران ملزمان کی جانب سے رقم ادا کی گئی اور کیا فارم کو دیکھا؟

شازیہ نے بتایا کہ ٹیسٹ کے دوران ندیم ایک کاغذ پر کچھ لکھ رہا تھا لیکن ہم نے فارم کو دیکھا نہیں کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔

ٹیسٹ لیے جانے کے چند دن بعد آمنہ دوبارہ آئی اور کہا کہ آپ لوگوں کی امداد چند دن میں آ جائے گی اور فارم بھیجنے کے لیے ایک ایک سو روپے چاہیں تو اس کے ساتھ ندیم نے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ غریب لوگ ہیں اور یہ رقم اپنی جیب سے ادا کر دے گا۔

Image caption حفضہ کے گھر والوں کو جہیز کا لالچ دے کر ریڑھ کی ہڈی سے نمونے حاصل کیے گئے

شازیہ کے بقول آمنہ جب دوبارہ آئی کہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے دو سو روپے درکار ہیں اور جب یہ بات اپنے شوہر کو بتائی کہ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی فراڈ لگ رہا ہے کیونکہ دو سو روپے میں تو اکاؤنٹ نہیں کھلتا اور اس چند دن بعد ہی محلے کے ایک شخص نے ان واقعات کے بارے میں پولیس کو رپورٹ کر دی۔

شازیہ کے مطابق ٹیسٹ کے بعد سے ان کی دائیں ٹانگ میں درد رہنا شروع ہو گیا لیکن اس سے زیادہ پریشانی اپنی بیٹی کے بارے میں ہے جس کی طبیعت اس دن سے خراب ہے۔

’ان لوگوں نے ہمارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا ہے، ظلم کیا ہے ہمارے ساتھ، اب سرکاری ہسپتال میں ہمارا معائنہ کیا گیا اور کہا ہے کہ اچھی خوراک کھائیں، ہم غریب لوگوں کے لیے پہلے ہی دو وقت کا کھانا مشکل تھا، اب کیا کریں شوہر مزدوری کرتا ہے تو مکان کا کرایہ دیں، بچوں کا پیٹ پالیں یا اچھی خوراک کھائیں، کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔‘

شازیہ سیف اللہ کی بہن ہیں لیکن ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی ان متاثرین میں شامل ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈی سے مواد نکالا دیا۔

سیف اللہ نے بتایا کہ آمنہ ان کی محلہ دار تھی اور جب اس نے ہمارے گھر میں چکر لگانا شروع کیے تو میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ چکر کیوں لگا رہی ہے تو اس نے بتایا کہ یہ کہہ رہی کہ نواز شریف کارڈ بنوا کر دیں گی تاکہ میرا علاج معالجہ مفت ہو سکے اور ساتھ میں بچیوں کے لیے جہیز کے سامان کے لیے امداد لے کر دے گی۔

Image caption سیف اللہ کی بیٹی بھی متاثرین میں شامل ہیں

سیف اللہ کے مطابق ان کی اہلیہ کو یرقان کا مرض ہے جس کا علاج وہ کروا رہے تھے اور اس وجہ سے آمنہ کی باتوں میں دلچسپی بھی لی اور وہ خود آمنہ کے گھر دو بار گئے تاکہ معلومات لیں سکیں مگر وہ وہاں نہیں ملی۔

سیف اللہ کے مطابق آمنہ کو فارم کے لیے رقم نہیں دی لیکن اس نے ان کی اہلیہ سے ایک بار پانچ سو، ایک بار دو ہزار اور ایک بار پانچ ہزار روپے مانگے اور جب مجھے یہ رقم ادا کرنے کے لیے کہا تو میں نے گھر والوں کو صاف بتا دیا کہ وہ اتنی رقم ادا نہیں کر سکتا اور ایسا دو تین ہفتے ہوتا رہا لیکن رقم نہیں دی۔

’ہمارے ساتھ جو کچھ ہونا وہ تو ہو گیا لیکن اب پریشان ہوں کہ آگے کیا ہو گا کہ اگر علاج کی ضرورت پڑی تو وہ بھی ہمیں اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے گا کہ حکومت ہماری مدد کرے گی کیونکہ پہلے ہی غریب ہیں اور روز محنت مزدوری کر کے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں۔‘

سیف اللہ کے محلے بہاولپورہ کے رہائشی حسن کے گھر والوں کو ان کی 22 سالہ بہن حفضہ کے جہیز کا لالچ دے کر مواد حاصل کیا گیا۔

حسن کی کہانی بھی دوسروں سے مختلف نہیں، ان کا کہنا تھا کہ گھر والے آمنہ کو پہلے سے ہی جانتے تھے اور اس نے گھر چکر لگائے اور بتایا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے جہیز پیکج کا اعلان کیا گیا ہے اور وہ ان کو یہ پیکج لے کر دے سکتی ہیں اور اس کے لیے ٹیسٹ درکار ہیں۔

حسن کے بقول ان کی والدہ اور بہن آمنہ کے گھر گئیں جہاں ان کی بہن کی ریڑھ کی ہڈی سے نمونہ حاصل کیا گیا تاہم فارم نہ تو اس خاندان نے دیکھا اور نہ ہی اس کی قمیت وصول کی گئی۔

متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کرنے سے اندازہ ہوا کہ ان کو مالی مجبوریوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں اگر سیف اللہ کی بیوی بیمار تھیں تو علاج معالجے کا جھانسہ دیا گیا تو حسن کی بہن کو جہیز کے لیے مدد دینے کا وعدہ کیا گیا۔

دوسری جانب اس کیس کو سامنے آئے بدھ کو چھ روز گزر چکے ہیں تاحال پولیس حکام ریڑھ کی ہڈی سے نکالے گئے مواد کے پیچھے چھپے مقاصد اور محرکات کے بارے میں معلوم نہیں کر سکی۔

اسی بارے میں