کراچی میں سوشل میڈیا کے ذریعے منشیات بیچنے والا گروہ گرفتار

نشہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے فیس بک اور وٹس ایپ کے ذریعے آئس، ہیروئن اور دیگر منشیات فروخت کرنے والے گروہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس نے کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں بدھ کی شب چیکنگ کے دوران ایک کار روکی اور اس میں سے منشیات برآمد کر کے تین افراد کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار کیے جانے والوں میں ایک خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔

ایس پی کلفٹن توقیر محمد نعیم نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ یہ گینگ ڈرگ روڈ سے آئس لیتا ہے جو پورے ڈیفینس میں سپلائی کی جاتی ہے۔ ان کے بقول یہ گینگ منشیات کی فروخت میں زیادہ تر خواتین کا استعمال کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'شراب، چرس باآسانی یونیورسٹی میں مل جاتی ہے'

’اس گروہ سے آئس اور ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ یہ منشیات کی فروخت کے لیے فیس بک پر آئن لائن بکنگ کرتے ہیں جبکہ انھوں نے وٹس ایپ گروپ بھی بنایا ہوا ہے جس کے ذریعے سپلائی کی جگہ کی نشاندھی بھی کی جاتی ہے۔‘

ایس پی کے مطابق یہ گروہ کلفٹن اور ڈیفینس کے پوش علاقوں میں منشیات پہنچاتا ہے جہاں اسے نوجوان استعمال کرتے ہیں، یہ گروہ جس جگہ ڈلیوی پہنچا رہا تھا وہاں بھی طالب علم ہی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کار میں اگلی نشست پر ڈرائیور کے ساتھ خاتون ہونے کی وجہ سے یہ گروہ پولیس چیکنگ سے بچ جاتا تھا تاہم بدھ کی شب خفیہ اطلاع پر یہ گروہ پکڑا گیا۔

گزشتہ سال ستمبر میں بھی پولیس نے ایک گروہ گرفتار کیا تھا جو سوشل میڈیا کے ذریعے منشیات فراہم کرتا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اس گروہ میں شامل نوجوانوں کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ یہ نوجوان نہ صرف خود منشیات استعمال کرتے بلکہ اسے فروخت بھی کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت سندھ نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیے ڈرگ ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی شکایت کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادھر وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو، وزیر تعلیم جام مہتاب ڈھر، سیکریٹری تعلیم اقبال درانی اور سیکریٹری صحت فضل پیچوہو پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو کہ ہائیر اور سیکنڈری سطح پر طلبا کے ڈرگ ٹیسٹ کے حوالے سے قانون تیار کرے گی۔

اس مجوزہ قانون کے تحت تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیے ہر طالب علم کے لیے ٹیسٹ کوالیفائی کرنا لازمی ہو گا۔

کمیٹی کے رکن سیکریٹری تعلیم اقبال درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے بقول ’حکومتی کوشش سے خوف پیدا ہو گا جس کے ذریعے ہم ابتدائی مرحلے میں ہی اس کی روک تھام میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے حکمت عملی کیا ہونی چاہیے یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔

محکمہ ایکسائیز اور نارکوٹکس کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ باضابطہ شکایت تو کبھی نہیں آئی تاہم ڈیفینس، کلفٹن یا دوسرے پوش علاقوں کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی شکایات ہیں۔

پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن کے رہنما شرف الزمان کا کہنا ہے کہ 10 فیصد ایسے تعلیمی ادارے ہیں جن میں منشیات کے استعمال کی شکایات ہیں اور یہ سکول پوش علاقوں میں ہی واقع ہیں۔

ان کے مطابق 90 فیصد تعلمی ادارے متوسط طبقے کے علاقوں میں ہیں جہاں یہ شکایات نہیں ہیں۔