حافظ آباد :’کمر سے نکالا گیا مواد سپائنل فلوئڈ ہے نہ ہڈیوں کا گودا‘

ریجنل پولیس افسر گوجرانوالہ رینج ڈی آئی جی اشفاق احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سرفراز نامی ایک شخص اس آپریشن میں ملوث ہے۔ (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تاحال ملزم کی پولی گراف ٹیسٹ کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس اقدام کے پس پردہ مقاصد کیا تھے: ڈی پی او

حافظ آباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ 20 سے زیادہ خواتین کے جسم سے نکالے گئے مواد سے نہ تو سپائنل فلوئڈ اور نہ ہی ہڈیوں کے گودے کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں بلکہ یہ محض خون اور ٹشو پر مشتمل ہے۔

ڈی پی او حافظ آباد سردار غیاث گُل نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز کو بتایا کہ یہ بات پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے جسے وہ تمام نمونے تجزیے کے لیے بھجوائے گئے تھے جو ملزم ندیم اور اُس کے ساتھیوں کی نشاندہی پر برآمد ہوئے تھے۔

مزید جاننے کے لیے یہ بھی پڑھیے

حافظ آباد:’امداد کے نام پر بہت ظلم اور دھوکہ کیا گیا‘

سپائنل فلوئڈ کیا ہے اور اسے کیوں نکالا جاتا ہے؟

لڑکیوں کا سپائنل فلوئڈ نکالنے کے واقعات کی تحقیقات

یہ معاملہ رواں ہفتے اُس وقت سامنے آیا تھا جب پولیس نے ایک متاثرہ خاتون کی شکایت پر ایک خاتون سمیت چار افراد کو گرفتار کیا تھا جن پر الزام ہے کہ وہ مالی امداد کا جھانسا دے کر اُن کی کمر سے انجیکشن کے ذریعے مواد نکال رہے تھے۔

متاثرہ خواتین کے مطابق ملزم انھیں ریڑھ کی ہڈی کے آس پاس پہلے ایک انجیکشن لگاتا تھا جس کے بعد وہ دوسرے انجیکشن کے ذریعے مواد نکالتا تھا۔

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ پہلے انجیکشن کے اندر بھی اور کچھ نہیں محض پانی ہوتا تھا۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ان خواتین کی زندگیوں سے کھیل رہا تھا اور یہ عمل انتہائی خطرناک تھا تاہم اس بات کے ثبوت نہیں ملے کہ وہ مواد سپائنل کارڈ فلوئڈ یا پھر ہڈیوں کا گودا ہو سکتا ہے۔‘

غیاث گُل کا کہنا تھا کہ انھیں تاحال ملزم کی پولی گراف ٹیسٹ کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس اقدام کے پس پردہ مقاصد کیا تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی ساتھی خاتون جس کے گھر پر یہ عمل کیا جاتا تھا اسے ملزم نے یہ لالچ دے رکھا تھا کہ وہ اس کے بیٹے کو نوکری دلوائے گا۔ اس کے علاوہ وہ ہر متاثرہ خاتون سے حاصل ہونے والے ایک ہزار روپے میں سے اس کو بھی حصہ دیتا تھا۔

Image caption سیف اللہ کی بیٹی بھی متاثرین میں شامل ہیں

خیال رہے کہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چند متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ ملزم نے ان سے کوئی پیسے نہیں لیے اور وہ محض ایک فارم پُر کرواتا تھا جس پر نواز شریف انکم سپورٹ پروگرام درج ہوتا تھا۔

ملزمان کے کہنے پر انھوں نے بنکوں میں کھاتے کھولنے کے بعد اسے اکاؤنٹ نمبر بھی فراہم کیے تھے۔

متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ ملزم کو منصوبہ بندی کے تحت علاقہ مکینوں اور متاثرہ خواتین کی مدد سے رنگے ہاتھوں پولیس کے ذریعے گرفتار کروایا گیا تھا۔

ملزم پر شک ہونے کی بعد متاثرہ خواتین نے تمام معاملہ اپنے شوہروں کو بتایا۔ ایک متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس پر گھروں میں ہماری اتنی بےعزتی ہوئی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ محلوں میں لوگ ہمیں طعنے دے رہے ہیں کہ ہم بے وقوف ہیں۔‘

تاہم اس کے بعد علاقہ مکینوں نے باہم مشورے کے بعد ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا اور پھر پولیس کی مدد سے یہ گرفتاریاں عمل میں آئیں تھیں۔

اسی بارے میں