ایگزیکٹ سکینڈل: شعیب شیخ سے رشوت لینے والا جج برطرف

ایگزیکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سابق ایڈشنل سیشن جج کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کرنے یا تادیبی کارروائی کرنے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا

جعلی ڈگری سکینڈل میں ملوث ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ کو جعلسازی کے مقدمے میں رشوت لے کر بری کرنے والے اسلام آباد کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج پرویزالقادر میمن کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کے مطابق گذشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے شعیب شیخ کو اس مقدمے میں بری کرنے کے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور اس ضمن میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پرویز القادر میمن کو ان کے عہدے سے ہٹا کر انھیں معطل بھی کر دیا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن نے ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ کی بریت کے لیے 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

رجسٹرار آفس کے مطابق دو رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی نے پرویز القادر میمن کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اسلاآباد ہائی کورٹ نے اس دو رکنی کمیٹی کے رپورٹ پر فیصلہ جاری کردیا جس میں پرویز القادر میمن کو نوکری سے برطرف کردیا

تاہم سابق ایڈشنل سیشن جج کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کرنے یا تادیبی کارروائی کرنے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جعلی ڈگری سکینڈل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں اس ایڈیشنل سیشن جج کا بھی ذکر کیا تھا جنھوں نے مبینہ طور پر لاکھوں روپے لے کر شعیب شیخ کو مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس دو رکنی کمیٹی کے رپورٹ پر فیصلہ جاری کیا ہے۔

جعلی ڈگری سکینڈ ل کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اُنھیں اس بات پر شرمندگی ہے کہ اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج پرویز القادر میمن ان کے رشتہ دار ہیں۔