راؤ انوار کو موقع فراہم کیا لیکن اُنھوں نے یہ ضائع کر دیا ہے: چیف جسٹس

راؤ انوار

،تصویر کا ذریعہEPA

سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت ملنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں ملزم کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے فوج اور سویلین خفیہ اداروں کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم راؤ انوار کی گرفتاری میں پولیس کو معاونت فراہم کریں۔

اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ نے فوج اور سویلین خفیہ اداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا سراغ لگانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے سٹیٹ بینک کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم راؤ انوار کے تمام بینک اکاونٹس کو منجمند کر دیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

جمعے کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ کی ہلاکت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا

سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ عدالت میں پیش ہوئے تو بینچ نے سربراہ نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا ملزم راؤ انوار کا سراغ لگانے میں کیا کامیابی حاصل ہوئی ہے جس پر اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ چند روز قبل راؤ انوار نے اُن سے واٹس ایپ پر خود رابطہ کیا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ16 فروری کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

عدالت کے استفسار پر سندھ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نہ تو پولیس اور نہ ہی انٹیلیجنس بیورو کے پاس واٹس ایپ کال کا سراغ لگانے کی صلاحیت ہے۔

چیف جسٹس نے سندھ پولیس کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے زینب قتل کیس میں پنجاب پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے گھنٹوں کی مہلت دی تھی اور پنجاب پولیس نے اس عرصے کے دوران ہی ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ راؤ انوار کی گرفتاری کے سلسلے میں سندھ پولیس کے سربراہ کی کاؤشوں پر شک نہیں ہے البتہ اس کے نتائج سامنے نہیں آ رہے۔

،تصویر کا کیپشن

اسلام آباد میں نقیب اللہ کے قتل کے خلاف احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دیے کر ایک موقع فراہم کیا تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنھوں نے یہ موقع ضائع کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کو حکم دیا ہے کہ وہ نقیب اللہ قتل کے مقدمے کے تمام گواہوں کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

واضح رہے کہ کراچی میں نوجوان نقیب اللہ محسود کو مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے والے ملزم اور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اُنھیں اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی پر اعتماد نہیں ہے اور اگر نئی جے آئی ٹی بنا دی جائے تو وہ اس کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں۔

سابق ایس ایس پی راؤ انوار گذشتہ تین ہفتوں سے روپوش ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام ہیں۔